ڈیموکریٹ سینیٹر ایڈ مارکی نے ایران جنگ کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں ایڈ مارکی نے کہا ہے کہ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کی غیر قانونی اور ناقابلِ فتح ایران جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہو جائے گی، لیکن وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔
سینیٹر ایڈ مارکی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اپنے مشیر بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں، یہ اختیاری جنگ ٹرمپ کے عہدہ چھوڑنے تک جاری رہے گی، جب تک کانگریس جنگ کے لیے فنڈنگ روک نہیں دیتی۔
انہوں نے کہا کہ اس تباہی کو ختم کرنے کے لیے ہم مزید 2 سال انتظار نہیں کر سکتے۔
دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس ایران جنگ کی حکمتِ عملی اور کامیابی کے امکانات پر انتہائی تشویش کا شکار ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق جے ڈی وینس نے مشرقِ وسطیٰ، یورپ اور ایشیاء میں امریکی فوجی کمانڈروں سے رابطہ کر کے ایران جنگ پر بے لاگ جائزہ مانگا تھا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے عوامی سطح پر پیش مؤقف کے برعکس جنگ کا ہوشربا جائزہ سامنے آیا ہے۔
کمانڈروں نے بتایا ہے کہ پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز کے ذخائر کم ہونا ان کے لیے سب سے زیادہ تشویش کا باعث تھا۔
کمانڈروں کے مطابق ایک موقع پر ان کی تعداد 100سے بھی کم رہ گئی تھی، اہم میزائل نظام کی فراہمی میں بھی تاریخی کمی تھی۔