• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یمن میں حالات انتہائی ابتر ہیں، تیل کی گزر گاہ باب المندب بلاک ہو رہی ہے، یمنی سفیر

یمنی سفیر محمد مطاہر الاشعبی (فائل فوٹو)۔
یمنی سفیر محمد مطاہر الاشعبی (فائل فوٹو)۔

پاکستان میں یمن کے سفیر محمد مطاہر الاشعبی نے کہا کہ یمن میں حالات انتہائی ابتر ہیں، باب المندب تیل کی بین الاقوامی گزرگاہ ہے جو بلاک ہو رہی ہے۔ 

اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یمنی سفیر نے کہا کہ یمن اور پاکستان کے انتہائی مثبت تعلقات ہیں، 500 کے قریبی یمنی طلباء پاکستان میں زیر تعلیم ہیں۔ 

انھوں نے کہا کہ اس وقت یمن کو بے حد دشوار چیلنجز درپیش ہیں، ان چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج یمن کی سالمیت اور خودمختاری کو درپیش ہے۔ 

سفیر  محمد مطاہر الاشعبی نے کہا کہ باب المندب ایک عالمی اور اہم ترین روٹ ہے، یہ توانائی، تیل اور خوراک کا انٹرنیشنل روٹ ہے۔ 60 فیصد تیل باب المندب سے گزرتا ہے، اس کی بندش کا مطلب عالمی توانائی چیلنج ہے، یمنی حکومت کی ترجیح امن ہے۔ 

یمنی سفیر نے کہا کہ حوثیوں کا اپنا ایجنڈا ہے، حوثی طاقت حاصل کر کے دیگر یمنیوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں۔ یمنی حکومت مستقل امن چاہتی ہے، حوثی مذاکرات سے انکاری ہیں، حوثیوں نے موجودہ صورتحال میں تناؤ میں اضافہ کیا ہے۔ 

محمد مطاہر الاشعبی نے کہا پاکستان ایک اہم ملک ہے وہ بہت کچھ کر سکتا ہے اور کر بھی رہا ہے، نجران، جازان اور دیگر چند جنوبی علاقوں پر سعودی عرب سے بین الاقوامی معاہدہ ہوا تھا، معاملات کو مذاکرات اور بین الاقوامی معاہدے کے تحت حل کر لیا گیا تھا۔ 

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن کا سب سے اہم اور بڑا شراکت دار ہے، یمنی حکومت ملک میں اپنی موجودگی بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، ہماری حکومت حوثیوں کے خلاف دیگر گروہوں کو متحد کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سفیر محمد مطاہر الشعبی نے کہا یمن کے پاس تیل اور گیس کے بڑے ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل ہیں، حوثیوں کے پاس ہتھیار سمندری راستے سے پہنچ رہے ہیں، امریکا صرف باہر بیٹھ کر صورتحال دیکھ رہا ہے۔ 

انھوں نے کہا کہ حوثیوں کا انحصار ان کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز پر ہے، ہم پاکستان سے فارماسیوٹیکل اشیاء درآمد کر رہے ہیں، ہم سابق صدر علی عبداللہ الصالح کے کیے گئے معاہدوں پر عمل کر رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید