• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کراچی کے قیام کا بل سندھ اسمبلی سے متفقہ منظور

سندھ اسمبلی نے کراچی میں فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کا بل متفقہ طور پر منظور کرلیا، جس کے بعد مجوزہ یونیورسٹی کو صوبائی قانون کے تحت قائم کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

’دی فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ایٹ کراچی بل 2026‘ سندھ اسمبلی کے 11 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں پیش کیا گیا، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

اسمبلی ریکارڈ کے مطابق اسے بل نمبر 23 مجریہ 2026 کے طور پر درج کیا گیا ہے، گورنر سندھ کی منظوری کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرلے گا۔

فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کی کوششیں کئی برس سے جاری تھیں۔

اس سلسلے میں کے پی ایس آئی اے جے نے اکتوبر 2022ء میں فاطمیہ ہائر ایجوکیشن سسٹم قائم کیا تھا، جسے مجوزہ یونیورسٹی کے قیام کی بنیاد قرار دیا گیا۔

ادارے نے اعلیٰ تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے مختلف پروگرام شروع کرکے یونیورسٹی کے لیے تعلیمی ڈھانچہ تیار کیا۔

فاطمیہ ہائر ایجوکیشن سسٹم کے تحت تعلیم، نفسیات، تجارت اور نرسنگ سمیت مختلف شعبوں میں بی ایڈ، ایسوسی ایٹ ڈگری اِن ایجوکیشن، ایسوسی ایٹ ڈگری اِن کامرس، بی ایس سائیکالوجی اور نرسنگ سے متعلق پروگرام کرائے جارہے ہیں۔

ادارے کے تعلیمی نظام میں علمی استعداد کے ساتھ اخلاقی تربیت، سماجی ذمہ داری اور قائدانہ صلاحیتوں کے فروغ پر بھی توجہ دی جاتی ہے۔

فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کی جانب اہم پیشرفت جون 2026ء میں ہوئی تھی، جب سندھ کابینہ نے یونیورسٹی کے مجوزہ چارٹر کی منظوری دی۔

کابینہ کی منظوری کے بعد بل صوبائی قانون سازی کے لیے سندھ اسمبلی میں پیش کیا گیا، بل کی متفقہ منظوری کے نتیجے میں یونیورسٹی کی انتظامی ساخت، جامعہ کی سطح پر تعلیمی سرگرمیوں اور ڈگری پروگراموں کے آغاز کے لیے قانونی بنیاد فراہم ہوگئی ہے۔

بل اب گورنر سندھ کو توثیق کے لیے بھیجا جائے گا اور ان کی منظوری کے بعد یونیورسٹی کے قیام کا قانونی عمل مکمل ہوجائے گا۔

فاطمیہ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے قیام کو کراچی کے اعلیٰ تعلیمی منظرنامے میں ایک اہم اضافہ قرار دیا جارہا ہے، بالخصوص اس لیے کہ فاطمیہ ہائر ایجوکیشن سسٹم کے ذریعے اس کا تعلیمی اور ادارہ جاتی ڈھانچہ پہلے ہی تشکیل دیا جاچکا ہے۔

قومی خبریں سے مزید