اسلام آباد صرف پاکستان کا دارالحکومت نہیں بلکہ ریاستی اختیار، وفاقی اداروں، سفارتی سرگرمیوں اورمجوزہ قومی فیصلہ سازی کا مرکز بھی ہے۔ اسی لئے اسلام آباد کے انتظامی ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی کو محض ایک انتظامی اصلاح قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اگر وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی سفارشات عملی شکل اختیار کرتی ہیں تو یہ پاکستان کے انتظامی نظام میں ایک اہم تجربہ ثابت ہوسکتا ہے۔ کمیٹی نے اسلام آباد کیلئے نئے حکمرانی ماڈل سے متعلق بیس سفارشات مرتب کرکے وزیراعظم کو پیش کی ہیں جن کا بنیادی مقصد وفاقی حکومت سے اختیارات اسلام آباد کی اپنی حکومت کو منتقل کرنا، ایک نمائندہ سیاسی نظام قائم کرنا اور موجودہ27 اداروں کو نئے انتظامی ڈھانچے میں منظم کرنا ہے۔اس تجویز کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اسلام آباد کو روایتی صوبہ بنانے کے بجائے ایک الگ وفاقی انتظامی یونٹ کے طور پر چلانے کا تصور سامنے آیا ہے۔ اس کیلئے براہ راست منتخب اسلام آباد اسمبلی قائم کرنیکی سفارش کی گئی ہے۔یہ تجویز بظاہر سادہ مگراس کے اثرات بہت دور تک جائینگے۔ یہاں ایک بنیادی سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر اسلام آباد کو منتخب حکومت، اسمبلی اور صوبائی نوعیت کے بیشتر انتظامی اختیارات دیئے جا رہے ہیں تو پھر اس حکومت کی اصل انتظامی اور سیاسی حیثیت کیا ہوگی؟ اسے صوبہ نہیں کہا جا رہا، لیکن اس کے ادارے صوبائی طرز پر بنائے جا رہے ہیں۔ اسلئے ضروری ہوگا کہ قانون سازی کے مرحلے پر اس کی آئینی اور قانونی حیثیت بالکل واضح کی جائے تاکہ مستقبل میں اختیارات کے ٹکرائوکا کوئی نیا بحران پیدا نہ ہو۔ کمیٹی کی سفارشات میں اسلام آباد کے مختلف محکموں کو منظم کرنیکی بات بھی کی گئی ہے۔ تاہم قانون و امن اور ماسٹر پلان کو وفاقی حکومت کے پاس رکھنے کی تجویز اس ماڈل کو دوسرے صوبوں سے مختلف بناتی ہے۔ اس تقسیم میں ایک اندیشہ بھی موجود ہے۔ اگر شہری حکومت کے پاس بیشتر انتظامی شعبے ہوں اور قانون و امن کسی وفاقی وزیر یا وفاقی حکومت کے ماتحت رہے تو عوامی مسائل کی صورت میں جواب دہی کا دائرہ واضح ہونا چاہئے۔ اسی طرح سی ڈی اے کے معاملے میں بھی بڑی تبدیلی تجویز کی گئی ہے۔ یہ ایک بنیادی تبدیلی ہوگی۔ اگر اسکے اختیارات نئی حکومت کو منتقل ہوتے ہیں تو یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ سی ڈی اے کے اثاثے، ملازمین، آمدن، فیسیں، زمین سے متعلق مالی وسائل اور جاری منصوبے کس طریقے سے منتقل ہونگے۔ مجوزہ ماڈل میں بلدیاتی سطح پر یونین کونسلوں کو بنیادی اکائی رکھنے کی تجویز ہے۔ یونین کونسلوں کو اختیارات اور وسائل نہ دیئے گئے تو نیا انتظامی ماڈل بھی بالآخر مرکزی بیوروکریسی کا ایک نیا روپ بن سکتا ہے۔ کمیٹی نے اسلام آبادکیلئے ایک چیف سیکرٹری اور مختلف شعبوں کیلئے چار سیکرٹریوں کی تجویز دی ہے۔ یہ انتظامی اعتبار سے ایک منظم ڈھانچہ فراہم کرسکتا ہے، مگر اصل کامیابی عہدوں کی تعداد میں نہیں اختیارات کی واضح تقسیم میں ہوگی۔ کمیٹی کی سفارشات میں وفاق سے اسلام آباد کو ضروری وسائل منتقل کرنے کیلئےایک طریقہ کار بنانے کی بات کی گئی ہے اور مقامی ٹیکس آمدن کو بھی مالی نظام کا حصہ بنانے کی تجویز موجود ہے، یہاں ایک انتہائی اہم سوال ابھی جواب طلب نظر آتا ہے کہ ”اسلام آباد صوبے“ کو قومی مالیاتی کمیشن یعنی این ایف سی ایوارڈ سے کیا ملے گا؟ کیا اسلام آباد کو کوئی باقاعدہ حصہ حاصل ہوگا یا نہیں؟ اگر ہوگا تو اسکا آئینی، قانونی اور مالیاتی فارمولہ کیا ہوگا؟یہ سوال معمولی نہیں۔ دراصل نئے انتظامی ماڈل کی کامیابی کا بڑا حصہ اسی سوال کے جواب سے وابستہ ہے۔ اسلام آباد حکومت اپنی آمدن کیلئے ہر سال وفاقی حکومت کی گرانٹ کی منتظر رہے گی تو سیاسی طور پر منتخب حکومت ہونے کے باوجود اسکی مالی خودمختاری محدود رہے گی۔ پھر یہ سوال بھی پیدا ہوگا کہ کسی سال وفاقی حکومت نے مالی مشکلات کے باعث مطلوبہ رقم فراہم نہ کی تو اسلام آباد حکومت اپنے بنیادی اخراجات اور ترقیاتی منصوبے کیسے چلائے گی؟ اسلام آباد کی معیشت اور آبادی کا ڈھانچہ ملک کے دوسرے علاقوں سے مختلف ہے۔ اسلئے صرف مقامی ٹیکسوں پر انحصار شاید طویل مدت میں کافی نہ ہو۔مستقبل میں نئے صوبے یا نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جاتے ہیں تو انکی مالی حیثیت بھی یہی سوال اٹھائے گی۔ قومی وسائل تقسیم کرنے کے نظام میں نئے یونٹس کیلئے کیا فارمولہ ہوگا؟ کیا ہر یونٹ کا نظام، قواعدو ضوابط پورے ملک میں یکساں ہونگے؟ کیا ہر نئے یونٹ کو این ایف سی ایوارڈ سے الگ حصہ دیا جائے گا؟ کیا موجودہ صوبوں کے حصے میں کمی ہوگی؟ وفاقی حصے سے وسائل فراہم کیے جائینگے؟ یا ایک نیا مالیاتی فارمولہ بنایا جائیگا؟ ان سوالات کے واضح جواب نہ دیئے گئے تو نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام سیاسی طور پر تو آسان لیکن مالی طور پر ایک نیا بحران پیدا کرسکتا ہے۔ اسی لئے اسلام آباد کے نئے ماڈل کو صرف انتظامی اصلاح کے طور پر نہیں ایک مکمل مالی، آئینی اور انتظامی پیکیج کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ سفارشات کے مطابق ہر ادارہ نئی حکومت کے تابع ہوگا لیکن تقرریاں، تبادلے اور ترقیاتی فنڈزسیاسی بنیادوں پر تقسیم ہونے لگے تو نیا نظام پرانے مسائل کا نیا گڑھا کھوددے گا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ نئی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان اختیارات کی لکیر اتنی واضح ہو کہ عدالتوں کو بار بار یہ فیصلہ نہ کرنا پڑے کہ کس ادارے کا اختیار کہاں ختم ہوتا ہے۔ اسلام آباد میں اختیار، نمائندگی اور وسائل کے درمیان توازن قائم ہوگیا تو اس تجربے سے ملک کے دوسرے حصے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اگر یہاں بھی خزانہ وفاق کی مرضی کا محتاج رہا تو سوال اپنی جگہ موجود رہیگا کہ یہ خودمختاری کتنی حقیقی ہے؟احسن اقبال کمیٹی کی سفارشات پر اصل بحث شروع ہوچکی ہے۔ اسلام آباد یونٹ یا صوبے کے مستقبل کی مالی بنیاد کو بڑی وضاحت سے طے کرنا ہوگا۔ خاص طور پر این ایف سی ایوارڈ میں اسلام آباد کی ممکنہ حیثیت کا سوال کسی اگلے مرحلے کیلئے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ اسی طرح فوری انصاف کیلئے عدلیہ کا مستقبل طے کیا جانا بھی ضروری ہے۔ اگر ان سوالات کے واضح اور دیرپا جواب دے دیئے گئے تو اسلام آباد کا نیا انتظامی ماڈل پاکستان میں بہتر حکمرانی کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے۔