• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کئی سال پہلے بھی مجھے جرمنی کے تاریخی شہر ڈریزڈن کی مختصر زیارت کا موقع ملا تھا مگر یہ شہر ہر بار اپنے کسی نئے رنگ اور نئی جہت کے ساتھ استقبال کرتا ہے،خالد وڑائچ اور ناصرہ خالد کی محبت بھری میزبانی میں ڈریزڈن کو نسبتاً قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔دریا کنارے شاہی قلعے کی پھیلی ہوئی عظمت،حیرت انگیز تعمیر، ملحقہ تاریخی چرچ اور شہر کی کشادہ فضا نے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ڈریزڈن ایک ایسا اُجلا اور کھلے دل کا شہر محسوس ہوا جہاں شہری زندگی اور جمالیات ایک دوسرے کیساتھ ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔چوڑی سڑکیں،پیدل چلنے والوں کیلئے وسیع فٹ پاتھ،سروس روڈز اور دریائے ایلبے کا دلفریب منظر اس شہر کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

ڈریزڈن سے تقریباً ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ پہنچ کر حیرتوں کے نئے جہان وا ہوئے، صدیوں پرانی عمارتیں، تاریخی پل، گرجا گھر،سنگِ مرمر سے مزین گلیاں اور دریائے ولتاوا کے کنارے آباد یہ شہر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے تاریخ اور خواب ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چل رہے ہوں۔ڈریزڈن اور پراگ دونوں شہر یورپ کی تہذیبی اور ثقافتی میراث کے روشن استعارے ہیں،جہاں ماضی کی عظمت اور حال کی زندہ رونق ایک ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔

دونوں کی سیر کے دوران ایک عجیب دُکھ کا سایہ میرے ساتھ چلتا رہا۔شاہی قلعے کے ساتھ واقع تاریخی چرچ دوسری عالمی جنگ میں مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا تھا۔جرمن قوم نے جنگ کے بعد اپنی برباد شدہ عمارتوں کو دوبارہ تعمیر کیا مگر اُنہوں نے ماضی کے زخموں کو مٹانے کے بجائے اُن کی یاد کو محفوظ رکھنے کا راستہ اختیار کیا۔تقریباً ہر تاریخی عمارت میں کہیں نہ کہیں ٹوٹی ہوئی دیوار،سیاہ پتھر یا ملبے کا کوئی حصہ جان بوجھ کر باقی رکھا گیا ہے تاکہ آنے والی نسلیں یہ نہ بھولیں کہ جنگ اور نفرت کی قیمت کیا ہوتی ہے اور امن کس قدر قیمتی نعمت ہے۔

اسی طرح ڈریزڈن کے مشہور تھری کنگز چرچ (Three Kings Church) کو جدید انداز میں دوبارہ تعمیر کیا گیا مگر سامنے ٹوٹے ہوئے چرچ کا حصہ رکھا گیاہے، جسے ہر آنے والا دیکھتا اور سوچتا ہے کہ تعمیر صرف اینٹوں اور پتھروں کی نہیں، بلکہ شعور اور یادداشت کی بھی ہوتی ہے۔

پراگ میں چارلس برج،فلکیاتی گھڑی اور پراگ کی بے شمار تاریخی عمارتوں کے وجود پر بھی جنگ اور تباہی کے سائے انسان کی شر انگیز فطرت پر کُڑھتی رہی ، آخر انسان کیوں اپنے ہی صدیوں کے علم،تحقیق، تہذیب،ثقافتی ورثے اور خدا کے گھروں پر بمباری کرنے کا سوچتا اور عمل کرتا ہے۔جنگ صرف انسانوں کو نہیں مارتی وہ قوموں کی یادداشت، تاریخ اور روح کو بھی زخمی کر دیتی ہے۔ ڈریزڈن پر ایک ہی دن میں ہزاروں بم برسائے گئے تھے۔آگ اور دھوئیں نے شہر کو کھنڈر بنا دیا تھا،آج جرمن حکومت اور عوام نے اُس تباہی پر سبزے، خوبصورتی اور امن کی چادر بچھا دی ہے،شہر دوبارہ زندہ ہو چکا ہے،سڑکیں آباد ہیں،چرچ روشن ہیں اور دریا کے کنارے زندگی مسکرا رہی ہے مگر حساس دل آج بھی محسوس کرتا ہے کہ اس فضا میں کہیں نہ کہیں اُن بے گناہ انسانوں کی آہیں اور اُس ہولناک رات کی بازگشت گردش کر رہی ہے۔

شفیق مُراد اور شازیہ نورین کے ساتھ ہائیڈل برگ کا دورہ نہایت خوش کن اور یادگار رہا۔دریائے نیکر کے کنارے آباد یہ سرسبز و شاداب شہر اپنی دلکش فضا، تاریخی ورثے اور علمی روایت کے باعث دل میں اتر گیا۔ہائیڈل برگ جرمنی کے تمام ادیبوں شاعروں فلسفیوں کا پسندیدہ شہر رہا ہے ۔ہائیڈل برگ یونیورسٹی بھی کئی انفرادی حیثیتوں کی مالک ہے۔

علامہ اقبال جرمنی میں تعلیم کے دوران چند ماہ کے لئے جس عمارت کے ایک کمرے میں مقیم رہے، اُس عمارت کے باہر آج اُن کے نام کی یادگاری تختی پورے تعارف کے ساتھ نصب ہے۔اقبال کے دریائے نیکر کے کنارے چہل قدمی کرنے کی نسبت سے اُس سڑک پر Iqbal-Ufer کا سائن بورڈ بھی جرمن قوم کی علم،حکمت،ادب اور اہلِ دانش سے محبت کا گواہ ہے۔ہائیڈل برگ کی خوبصورتی، نیکر کی پُرسکون لہریں اور اقبال کی یادوں سے وابستہ مقامات اس سفر کو محض ایک سیاحت نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی تجربہ بنا گئے۔

ہائیڈل برگ کا نیم شکستہ مگر دلکش قلعہ بھی انسانی تخلیقی،تعمیری اور فکری جذبے کا گواہ ہے۔صدیوں کی تاریخ، جنگوں اور زمانے کے نشیب و فراز سہنے کے باوجود اس کے باقی ماندہ حصے آج بھی عظمتِ رفتہ کی داستان سناتے ہیں۔یہ قلعہ اس حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ انسان صرف عمارتیں ہی تعمیر نہیں کرتا بلکہ اپنے عہد کے خواب، علم، فن اور تہذیبی شعور بھی پتھروں میں رقم کر جاتا ہے۔شاید اسی لیے کھنڈرات بھی کبھی کبھی مکمل عمارتوں سے زیادہ بامعنی محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ وہ تعمیر اور فنا، دونوں کی کہانی ایک ساتھ سناتے ہیں۔

آخر میں شازیہ نورین کی غزل کے چند اشعار نذر قارئین۔

ترے دماغ میں جو لوگ زہر بھر رہے ہیں

وہی مجھے بھی تو تیرے خلاف کر رہے ہیں

مجھے یہ مان ہی کافی ہے عمر بھر کے لیے

ذرا سی دیر سہی آپ ہمسفر رہے ہیں

وہ زرد موسموں سے کس طرح کریں شکوہ

بہار رت میں بھی جو لوگ بے ثمر رہے ہیں

ترے بغیر ہے کیا حال جاننا ہے تجھے

ترے بغیر بھی اچھے ہی دن گزر رہے ہیں

تازہ ترین