• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سارا قصور ہمارا ہے۔ یہ بات مجھے بہت دیر میں سمجھ آئی۔ دنیا پر نظر ڈالیے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کس قدر بگڑے ہوئے لوگ ہیں۔ ایسا شتربے مہار میڈیا بھلا اور کہاں پایا جاتا ہے۔ اخبار وہاں بھی نکلتے ہیں اور باقاعدہ خبروں کے ساتھ نکلتے ہیں، شمالی کوریا کا پیانگ یانگ ٹائمز اٹھا لیں یا چین کا چائنا ڈیلی۔ ٹی وی چینل بھی وہاں بے شمار ہیں۔ کہیں کھیلوں کے مقابلے چل رہے ہیں تو کہیں کرتب، کہیں دنیا بھر کی خبریں نشر ہو رہی ہیں تو کہیں کھانے پکانے کی ترکیبیں، کہیں اوپیرا، کہیں باغبانی، کہیں سیاحت کے مناظر اور کہیں دن بھر کا موسم۔ بھلا ہم اِن سے کیوں نہیں سیکھ سکتے۔ اور خبروں کا کال تو ہمارے ہاں بھی نہیں۔ اللہ مبارک کرے، ماہرہ خان حاملہ ہو گئی ہیں، کیا یہ خبر کافی نہیں۔ اور کرکٹ تو ہمارا عشق ہے۔ ابھی میں کہیں پڑھ رہا تھا کہ میلکم مارشل دنیا کا سب سے عظیم فاسٹ بالر تھا۔ لیجیے، بحث کیلئے اِس سے عمدہ موضوع اور کیا ہو گا، ہفتہ بھر باآسانی چل سکتا ہے۔ یعنی مواد وافر ہے، کمی صرف نیت کی ہے۔ سو ہمارا رول ماڈل شمالی کوریا ہونا چاہیے، اور اگر وہ پسند نہ آئے تو چین حاضر ہے۔ خلیج ٹائمز اور گلف نیوز بھی برے نہیں، کون سی خبر ہے جو اِن اخبارات میں شائع نہیں ہوتی۔ آج ہی صبح میں نے گلف نیوز کھولا تو دل باغ باغ ہو گیا۔ ایک خبر یہ تھی کہ ایک صاحب کا پاسپورٹ ختم ہونے والا تھا اور دبئی والوں نے آٹھ منٹ میں نیا بنا دیا۔ کیا دل نہیں چاہے گا کہ اُس ’شُرتے‘ کا منہ چوم لوں! ساتھ ہی خلیج ٹائمز میں شہ سرخی لگی تھی کہ دبئی ایئرپورٹ پر بین الاقوامی ڈرائیونگ لائسنس اب پانچ منٹ میں جاری ہو گا۔ پھر یہ خبر تھی کہ ابوظہبی کے کتاب میلے میں بارہ سو اسٹال لگے۔ اور دیکھیے، ابوظہبی کی موتیوں کی غوطہ خوری پر ایک نئی کتاب شائع ہوئی ہے۔ گلوبل ولیج کا اکتیسواں سیزن شروع ہو رہا ہے۔ پھر یہ کہ اماراتی اسکولوں نے بالوں کی تراش، ہُڈی اور انرجی ڈرنک کے قواعد سخت کر دیے ہیں۔ اور پھر وہ خبر جس پر میں واقعی جھوم اٹھا کہ رمضان میں کتنے دن باقی ہیں۔ ایک بھی ایسی خبر نہیں جس سے بلڈ پریشر بڑھے۔ کوئی لاپتہ نہیں ہوا، کوئی احتجاج نہیں ہوا، کسی نے کسی سے استعفیٰ نہیں مانگا، کسی نے دوسرے کو غدار نہیں کہا۔ بس سونے کا بھاؤ، نماز کے اوقات، موسم کی پیش گوئی اور رمضان کی آمد۔ ایک مطمئن، سبک رفتار، خوشحال زندگی۔ اور ایک ہم ہیں کبھی کسی تعیناتی کے بارے میں ہلکان ہو جاتے ہیں تو کبھی کسی کے ہوائی سفر پر تبصرے کرنے لگتے ہیں، بھئی عام آدمی کا کیا کام اِن باتوں سے۔ اسے تو صرف پٹرول ...اوہ معافی چاہتا ہوں، اُسے تو صرف اِس بات سے غرض ہے کہ ماہرہ خان اِس عمر میں حاملہ کیسے ہو گئی؟اور چین سے تو ہمیں سب کچھ ہی سیکھنا چاہیے۔ میں حال ہی میں چین سے واپس آیا ہوں اور کسی نومسلم کی طرح میرا جذبہ ایمانی آسمان کو چھو رہا ہے۔وہاں کا میڈیا دیکھتا تھا تو دل باغ باغ ہو جاتا تھا۔ چائنا ڈیلی کے صفحہ اول پر ان دنوں جو خبریں چھپ رہی ہیں اُن کی جھلکیاں ملاحظہ کیجیے۔ ہیلونگ جیانگ کی کالی مٹی والی زمینوں پر خزاں کی چاول کی کٹائی شروع ہو گئی ہے۔ چی لیئن پہاڑوں میں برفانی چیتا دوبارہ دیکھا گیا ہے۔ اساتذہ کے دن پر ملک بھر میں رنگارنگ تقریبات ہوئیں۔ ووہان کے چڑیا گھر میں پہلا فلیمنگو بچہ پیدا ہوا ہے۔ وہی ووہان جہاں کووڈ بھی پیدا ہوا تھا مگر اُس کی اب خبر نہیں آتی۔ اور یہ خبر تو صحافت کا شاہکار کہ ملک بھر میں ضلعی اور تحصیل سطح کے ارکانِ اسمبلی کے براہِ راست انتخابات ’منظم انداز میں‘ جاری ہیں۔ منظم انداز میں۔ اِن دو لفظوں میں وہ ساری طمانیت بھری ہوئی ہے جس کیلئےقومیں ترستی ہیں۔ مگر اصل استاد تو پیانگ یانگ والے ہیں۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کا آج کا صفحہ دیکھیے۔ قابلِ احترام مارشل کم جونگ اُن کو اساتذہ کے ایک وفد کا خط موصول ہوا۔ یون پھنگ کیمپ کو بارہ سال مکمل ہو گئے، جو قابلِ احترام قائد (کم جونگ) کی ذاتی تجویز پر شاندار طریقے سے تعمیر ہوا تھا۔ ذرا اخبارات کی زبان پر غور کیجیے۔ ’قابلِ احترام‘۔ ’شاندار طریقے سے۔‘ واہ، گل ہوئی ناں۔ بے ساختہ نعرہ لگانے کو دل کرتا ہے، کم جونگ اُن زندہ باد۔

اکثر لوگ کہتے ہیں کہ میں مسئلہ تو بتاتا ہوں مگر حل نہیں۔ تو آج اُن کا گلہ بھی دور کر دیتا ہوں۔ حل یہ ہے کہ ایک وزارتِ خوشخبری قائم کی جائے جس کا کام یہ ہو کہ ہر روز صبح آٹھ بجے تک تین اچھی خبریں جاری کرے اور اخبارات کیلئے لازم ہو کہ انہی میں سے چنیں۔ ٹماٹر سستے ہوئے، ایک نئے انڈرپاس کا افتتاح ہوا یا چڑیا گھر میں شترمرغ نے انڈا دیا۔ شترمرغ والی خبر پر خاص زور دیا جائے کیونکہ یہ ہمارے قومی مزاج سے بھی مطابقت رکھتی ہے۔ دوم، ٹاک شوز کا فارمیٹ بدلا جائے۔ آٹھ بجے کا پرائم ٹائم اب کھانا پکانےکیلئے مخصوص ہو۔ تین تجزیہ کار بیٹھیں اور اِس بات پر گفتگو ہو کہ کراچی کی بریانی اور لاہور کے پلاؤ میں سے کیا زیادہ لذیذ ہے، خدا نے چاہا تو ایک سال کا مواد اِس میں سے نکل آئے گا۔ سوم، صحافیوں کی دوبارہ تربیت کی جائے۔ ایک مختصر کورس متعارف کروایا جائے جس کا نام ہو ’سوال پوچھے بغیر رپورٹنگ کیسے کریں‘۔ اس میں سکھایا جائے کہ ’کیوں‘ ایک غیر ضروری لفظ ہے، ’کس نے‘ ایک خطرناک لفظ ہے، اور ’کتنے کا‘ پوچھنا تو باقاعدہ جرم ہے۔ صرف ’کب‘ اور ’کہاں‘ رہنے دیے جائیں، وہ بھی احتیاط سے۔ چہارم، کالم نگاروں کیلئے ایک لغت جاری کی جائے جس میں وہ تمام الفاظ درج ہوں جو اب استعمال نہیں کیے جا سکتے، تاکہ بندہ لکھنے سے پہلے دیکھ لے۔ اور آخری بات، وی لاگ اور پوڈ کاسٹ وغیرہ پر پابندی لگائی جائے، اِس سے معاشرے میں انتشار پھیلتا ہے، مزید فائدہ یہ ہوگا کہ پیکا اور اِس نوع کے غیر ضروری قوانین سے جان چھوٹ جائے گی، ویسے بھی جتنے قوانین اتنا جھنجھٹ، خواہ مخواہ صفائی دینی پڑتی ہے کہ فلاں قانون کے تحت یہ کام ہوا یا نہیں ہوا، نہ ہوگا قانون نہ بجے گی بانسری۔ باقی قوم کو مبارک ہو، ماہرہ خان حاملہ ہو گئی ہیں۔

تازہ ترین