فیض صاحب راولپنڈی سازش کیس میں لاہور ، سرگودھا، ساہیوال، حیدر آباد اور کراچی میںچار برس اسیر رہے۔ جون 1951ءمیں خط و کتابت کی اجازت ملنے کے بعد اپنی اہلیہ ایلس فیض سے بزبان انگریزی خط و کتابت کرتے رہے ۔1971ءمیں فیض صاحب نے اپنے دوست مرزا ظفر الحسن کی مدد سے یہ خطوط اردو میں ترجمہ کیے ۔ ’صلیبیں میرے دریچے میں‘ کے نام سے جون 1971ءمیں شائع ہونے والے یہ خطوط اپنی دل آویز نثراور موضوعات کے تنوع کی بنا پر اردو نثر کے بہترین نمونوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک خط میں فیض صاحب نے اپنی نظم ’ایرانی طلبا کے نام ‘کے بارے میں لکھا کہ جیل پہنچنے کے بعد پہلی بار انہیں اپنی کسی تخلیق سے اطمینان ہوا ہے اور انہیں اظہار کا وہ پیرایہ مل گیا ہے جس کی انہیں تلاش تھی۔غالباً ایلس فیض نے 21فروری 1952ءکو ڈھاکہ اور پھر جنوری 1953 ءمیں کراچی کے مقتول طلبا کی طرف توجہ دلائی تھی ۔ اس پر فیض صاحب نے لکھاکہ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستانی طلبا کے نام ان کی تخلیق ایرانی طلبا کے نام خراج تحسین سے گھٹ کر ہو۔ پاکستان سے فیض صاحب کی محبت بے پایاں اور غیر مشروط تھی ۔ آج ارض پاک کے نایاب معدنی اثاثوں کی بے نام برآمدگی کے تناظر میں فیض صاحب کی اس نظم کا ایک ٹکڑا ملاحظہ کیجیے ۔
کیوں نوچ کے ہنس ہنس پھینک دیے/ ان آنکھوں نے اپنے نیلم / ان ہونٹوں نے اپنے مرجاں/ ان ہاتھوں کی ’بے کل چاندی/کس کام آئی کس ہاتھ لگی‘۔
برادرم راشد لنگڑیال نے ’بقا اور امکان ‘کے دو تصورات پر گراں قدر بحث ارزاں کی ہے۔ ان کی رائے صائب ہے کہ نہایت نامساعد حالات میں قائم ہونے والا پاکستان مخالفین کے اندازوں کے علی الرغم اپنی بقا کا امتحان پاس کر چکا اور اب اسے ترقی کے آفاق کی جستجو میں پرِپرواز کھولنا ہے ۔ اس سے حافظے کی لوح پر اگست 1947 کی ا س نوجوان نسل کے کچھ مناظر کوندے جسے نئے ملک میں خوشیوں کا دشتِ امکاں نظر آرہا تھا۔بائیس سالہ اشفاق احمد جی پی او کی طرف سے سائیکل دوڑاتے ہوئے زمزمہ توپ کی طرف آئے اور سڑک کے بیچوں بیچ آرائشی چار دیواری پر پائوں ٹکا کر پرجوش لہجے میں اعلان کیا کہ پاکستان کے ڈاک ٹکٹ چھپ کر ڈاک خانے میں پہنچ گئے ہیں۔ دیکھئے، نمود عشق میں معمولی سا اشارہ بھی کیسی جذباتی کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔ اُدھر بتیس سالہ نوجوان افسر غلام اسحاق خان اپنی گاڑی میں سوار پشاور جاتے ہوئے کسی بھی راہ چلتے پختون کو بلا کر اسے ’پاکستان زندہ باد ‘کا نعرہ لگانے کا حکم دیتا ۔ یہ نعرہ سن کر برسوں بعد اٹھاون ٹو بی کی تلوار سے اسمبلیاں توڑنے والا غلام اسحاق خان عالم سرشاری میں ایک روپے کا سکہ نکال کر پختون راہ گیر کی ہتھیلی پر رکھ دیتا۔ ابھی حافظ کے لفظوں میں ’ولے افتاد مشکل ہا ‘ کی منزل مستقبل میں مستور تھی۔ بھائی راشد لنگڑیال نے پاکستان کی کچھ چیدہ چیدہ کامیابیاں گنوائی ہیں لیکن معذرت کہ یہاں ان کا لہجہ ’نوائے ماسکو ‘اور انقلابی چین کی اشتہاری مطبوعات کی سطح پر اتر آیا ہے۔ بقا ایک واقعہ ہے اور امکان ایک مسلسل عمل جو اجتماعی ارادے اور رہنما بصیرت کا تقاضا کرتا ہے۔ بقا کی جنگ میں ہماری بدترین ناکامی تو دسمبر 1971 کا سانحہ ہے۔ تاریخ انسانی میں یہ کہاں ہوا کہ اکثریت نے اقلیت کے مسلسل استحصال ، ناانصافیوں اور استخراج کے ظلم سے تنگ آکر ہتھیار اٹھا لیے اور وطن کی محافظ فوج کو غنیم جان کر حملہ آور ہو گئی۔ بقا کے اس امتحان میں ہم یکسر ناکام رہے ۔ کراچی کے نوجوان صالح آصف کی قابل تحسین کامیابی کا ذکر ہوا لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ نوجوان آج کل امریکا کے Massachusetts Institute of Technologyمیں اپنے جوہر دکھا رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی مولانا آزاد نے مدراس میں ایم آئی ٹی کی بنیاد رکھی تھی جس کا ذکر سشما سوراج نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہو کر کیا۔ برادر محترم نے سوات کی سترہ سالہ ملالہ یوسف زئی کا حوالہ دیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ ہمارے مقتدر مذہبی عالم زخمی بچی کے زخم پر طنزیہ جملوں کی نمک پاشی کرتے رہے نیز یہ کہ ملالہ کی جان بچنا محض اس اتفاق کا مرہون منت تھا کہ جنرل کیانی کے ڈاکٹر کزن اتفاق سے پاکستان میں تھے اور ان کی تجویز پر ملالہ کو برمنگھم کے کوئن الزبتھ ہسپتال لے جایا گیا ۔ ارفع کریم کی جواں مرگ زندگی اور موت کے سفاک کھیل کا اشارہ تھی۔ ایدھی صاحب کو قوم نے سر آنکھوں پر پذیرائی دی لیکن گجرات اور کیمبل پور کے ’جید‘ علماکراچی اور لاہور کے چوراہوں میں کھڑے ہو کر ایدھی صاحب کی شان میں مغلظات ارزاں کرتے رہے۔2007 ء سے 2017ء تک ملک کے شمال مغربی منطقوں میں بچیوں کے گیارہ سو اسکول تباہ کیے گئے لیکن تقویٰ کے کسی پتلے کو توفیق نہیں ہوئی کہ ’ہر مسلمان عورت اور مرد پر حصول علم فرض ہونے‘ کا سبق دہرائے۔ پاکستان کے عوام تو ایسے وطن دوست ہیں کہ نومبر1970ءکے ’بھولا سائیکلون‘ سے لے کر اکتوبر2005ءکے زلزلے تک ہم وطنوں کی بے لوث خدمت کیلئے اپنا اثاث البیت اٹھائے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ عوام تو معاشرہ ہیں۔ کیا ریاست نے ایسا بندوبست قائم کیا جس میں شہری اپنی صلاحیتوں کی تکمیل کرسکیں ۔ ایک نام تو راشد بھائی بھول گئے۔ ہماری پارسی عقیدے کی حامل پاکستانی بہن نرگس مالول والا آج کل Massachusetts Institute of Technologyمیں سکول آف سائنس کی ڈین ہے ۔ شعبہ فزکس کی سربراہ ہے ۔ فلکیات میں اس کی تحقیقات نے دنیائے علم میں ’از نگاہ شاں خروش اندر فرنگ‘ کا عالم پیدا کر رکھا ہے اور کوئی دن میں دنیا اس کی سائنسی کامیابیوں پر نوبیل انعام نچھاور کرے گی۔ برادر محترم کا ارشاد بجا کہ ’ہمارا اختلاف درجے کا ہے، نوع کا نہیں‘۔ وطن سے محبت میں تقابل کی درجہ بندی نہیں ہوتی۔ سرکار، ہم بھلے طبعاً ماتم گزار سہی، ہمارا شکوہ محض یہ ہے کہ ہم نے استخلاص وطن کا مقدمہ جیتا تھا ۔ ہم تاریخ کا مقدمہ نہیں جیت سکے۔ لاہور کے ایک تمسخر آشنا وکیل نے کہا تھا کہ مقدمہ وکیل نہیں ہارا کرتے ، مقدمہ تو مؤکل ہارتے ہیں۔ سود وزیاں کے اس مقدمے میں قوم مؤکل تھی اور سربزانو ہے۔ ریاست کے پربت پر چھائونی چھائی ہے اور روشنی کی کرن محض سرکار ی پرچہ نویسوں کے بے رنگ قصیدوں میں رکھی ہے۔