• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رات کے کسی پہر، کسی بند گلی کے ایک خاموش گھر کی دیوار پر دھیمی دستک ہو رہی ہے۔ یہ کسی مسافر کی نہیں، اس بچے کی ننھی مٹھی ہے جو گھر کے اندر رہ کر بھی باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ وہ چیخ نہیں سکتا، کیونکہ شریف گھروں کی دیواریں آواز باہر نہیں جانے دیتیں۔ رو نہیں سکتا، کیونکہ آنسوؤں سے خاندان کی عزت بھیگتی ہے۔ بتا نہیں سکتا، کیونکہ خوف کا چہرہ کبھی وہی ہوتا ہے جس سے پناہ مانگنی تھی۔ وہ دستک دیتا رہتا ہے اور ہم سوتے رہتے ہیں۔بچوں کے تحفظ کی تنظیم ساحل کے مطابق جنوری سے جون 2026ء تک بچوں کیخلاف 1914سنگین واقعات اخبارات میں رپورٹ ہوئے۔ ان میں 1015جنسی استحصال، 558اغوا، 101 گمشدگی، 35کم عمری کی شادیاں اور 98 استحصالی مواد سے متعلق واقعات شامل تھے۔ یعنی روز تقریباً گیارہ بچوں کی زندگی پر اندھیرا اترا۔ یہ بھی پورا سچ نہیں؛ صرف وہ زخم ہیں جو خاموشی توڑ کر تھانے اور اخبار تک پہنچ سکے۔وہ بچے کسی شمار میں نہیں جنہیں دھمکی نے گونگا، غربت نے بے بس یا خاندان کی جھوٹی عزت نے خاموش کردیا۔ بعض کو تحفے، محبت یا راز کے نام پر قابو کیا گیا۔ ایسے بچے سرکاری رجسٹر میں نہیں، اپنی ٹوٹی نیند اور مسلسل خوف میں درج ہوتے ہیں۔متاثرین میں 58فیصد لڑکیاں اور 42فیصد لڑکے تھے۔ یہ 42فیصد ہمارے سامنے آئینہ ہے۔ ہم نے لڑکوں کو درد سے پہلے مردانگی سکھائی:”مرد بنو، خاموش رہو۔“ہم بھول گئے کہ لڑکا ہونے سے کوئی بچہ، بچہ رہنا نہیں چھوڑتا۔سب سے زیادہ متاثرہ بچے گیارہ سے پندرہ برس کے تھے، مگر پانچ سال یا اس سے کم عمر کے 95بچے بھی رپورٹ ہوئے۔ پانچ سال کا بچہ جرم کا مفہوم نہیں جانتا، وہ اپنی تکلیف کو کیا نام دے؟جب اسے جسمانی حدود، نامناسب لمس اور” نہیں “کہنے کا حق نہ بتایا جائے تو وہ فریاد کس زبان میں کرے؟ اگر مجرم رشتہ دار، ہمسایہ، استاد یا کوئی محترم شخص ہو تو اس کی لرزتی آواز پر کون یقین کرے گا؟ ہمارے ہاں بچے سے پہلے بڑے کی عزت، سچ سے پہلے رشتہ اور انصاف سے پہلے بدنامی کھڑی ہوجاتی ہے۔اس جرم کا ہولناک پہلو اس کے گرد بنی خاموشی کی دیوار ہے۔ اس کی اینٹیں بدنامی، جھوٹی عزت، معاشی مجبوری اور پولیس و عدالت سے مایوسی ہیں۔ پھر ہم کہتے ہیں کہ وقت زخم بھر دے گا، حالاں کہ بعض زخم شخصیت میں جڑیں پھیلا لیتے ہیں۔ہم بچوں کو اجنبیوں سے بچنے کا کہتے ہیں، مگر 43 فیصد واقعات میں مبینہ ملزم بچہ یا خاندان کا جاننے والا تھا۔ ہم نےاجنبی چہروںسے ڈرناسکھایا،شناسا چہروںکےپیچھےچھپے ارادےپہچاننا نہیں۔ 45 فیصد واقعات بچے کے اپنے گھر اور 18فیصد ملزم کے گھر میں پیش آئے۔ گھر اینٹوں اور دروازوں سے محفوظ نہیں ہوتا، محفوظ گھر وہ ہے جہاں بچے کی بات ہر رشتے سے بڑی ہو۔تحفظ کا مطلب خوف نہیں، شعور ہے۔بچے کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی کا رشتہ، عمر، عہدہ یا لباس اسے اس کی حدود توڑنے کا حق نہیں دیتا۔ محبت تحفظ دیتی ہے؛ جس تعلق میں خوف، دھمکی یا جبری راز ہو، وہاں استحصال ہوتا ہے۔بچے کی خاموشی رضامندی اور دیر سے بتانا جھوٹ نہیں۔ صدمہ گھڑی کے مطابق نہیں چلتا۔ کوئی فوراً بولتا ہے، کوئی برسوں بعد۔ خوف میں جسم کبھی جان بچانے کیلئے آواز بند کردیتا ہے۔ اس لیے ”پہلے کیوں نہیں بتایا؟ “بچے کے زخم میں دوسرا خنجر بن سکتا ہے۔ اسے پہلے یہ سننے کی ضرورت ہے: ”میں تمہاری بات پر یقین کرتا ہوں۔ یہ تمہاری غلطی نہیں۔ اب تم اکیلے نہیں ہو۔“بچے کو کٹہرے میں کھڑا نہ کریں۔ بار بار سوال، شک، ڈانٹ یا ملزم کے سامنے لانا صدمہ بڑھاتا ہے۔ پہلے اس کی حفاظت کریں، پھر طبی، نفسیاتی اور قانونی مدد حاصل کریں۔ زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ 2020 اور اینٹی ریپ انویسٹی گیشن اینڈ ٹرائل ایکٹ 2021 موجود ہیں، مگر بچہ اب بھی اداروں کے درمیان تنہا ہے۔ مقدمہ درج کرنے میں رکاوٹ، فرانزک معائنے میں تاخیر، ناقص تفتیش، گواہوں پر دباؤ اور طویل سماعتیں انصاف کمزور کردیتی ہیں۔ ایسے جرم میں سمجھوتہ اگلے شکار کیلئے راستہ کھولتا ہے۔ بچوں کے خلاف جرائم پنچایت، جرگے یا مالی تصفیے سے ختم نہیں ہوتے۔اب مجرم کو اندھیری گلی میں انتظار نہیں کرنا پڑتا،وہ موبائل کی روشن اسکرین سے بچے کے کمرے میں داخل ہوجاتا ہے۔ جعلی شناخت، نامناسب پیغامات اور بلیک میلنگ، نئے خطرات ہیں۔ حل صرف فون چھیننا نہیں، ایسا اعتماد پیدا کرنا ہے کہ بچہ بلاخوف بات کرسکے۔ شرمندگی مجرم کو ہونی چاہیے، بچے کو نہیں۔ہر اسکول، مدرسے، ہاسٹل، ٹیوشن سینٹر اور کھیلوں کی اکیڈمی میں حفاظتی تعلیم، عملے کی جانچ، تربیت یافتہ کونسلر اور واضح شکایتی نظام ضروری ہے۔ پولیس میں چائلڈ پروٹیکشن اہلکار، محفوظ انٹرویو روم، فوری فرانزک سہولت اور بروقت سماعت بھی لازم ہیں۔سب سے بڑھ کر”خاندان کی عزت“کا مفہوم بدلنا ہوگا۔ عزت جرم چھپانے میں نہیں، بچے کے ساتھ کھڑے ہونے میں ہے۔ جس خاندانی ساکھ کو بچے کے سچ سے خطرہ ہو، وہ پہلے ہی جھوٹ پر کھڑی ہے۔اپنے گھروں کی دیواروں سے کان لگائیے۔ شاید کوئی چیخ سنائی نہ دے، ممکن ہے کھلونوں کی آواز کم ہوگئی ہو، بچہ کسی شخص سے گھبرانے لگا ہو یا رات کو چونک کر اٹھتا ہو۔بچے ہمیشہ لفظوں میں فریاد نہیں کرتے،کبھی ان کی خاموشی ہی سب سے بلند چیخ ہوتی ہے۔محفوظ معاشرہ وہ نہیں جہاں بچے خاموش رہنا سیکھیں،محفوظ معاشرہ وہ ہے جہاں بڑے خاموشی پڑھنا سیکھیں۔ کیونکہ جو قوم اپنے بچوں کی فریاد نہیں سنتی، آنے والا زمانہ اس کے دروازے پر دستک نہیں دیتا۔ اس کیخلاف فیصلہ سناتا ہے۔

تازہ ترین