• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انسان اپنے جسمانی قد و قامت کے لحاظ سے ایک کمزور مخلوق ہے جسے دیگر جانداروں کی نسبت موت کے گھاٹ اتار دینا یا زیر کرنا آسان تر ہے۔فرق صرف اور صرف دماغ کا ہے جو اسے اشرف المخلوقات کے منصب پر سرفراز کرتا ہے اور اس کی جسمانی کمزوریوں کو اتنا طاقتور بنا دیتا ہے کہ زمین تو ایک طرف وہ آسمان کی بلندیوں کو بھی تسخیر کر لیتا ہے جبکہ دماغ کا تعلق علم و دانش، سوجھ بوجھ، معاملہ فہمی اور مصلحت کے تقاضوں سے منسلک ہوتا ہے۔

پیغمبرِ انسانیت پر جو پہلی وحی نازل ہوئی اس کا آغاز بھی’’ اقرا ‘‘ یعنی تعلیم حاصل کرنے کی تاکید سے ہوا گویا جو انسان علم و دانش کے حوالے سے زندگی کے امور طے نہیں کرتا اس کی بقا کے امکانات معدوم ہوتے چلے جاتے ہیں ۔آج عالمِ اسلام پر مایوسی، تباہی اور فر سٹیشن کی جو فضا چھائی ہے اور جس طرح غیر مسلم انہیں ہر طرف سے گھیرے میں لے رہے ہیں، انہیں طرح طرح سے نقصان پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں اور مسلمان جس بے بسی کے عالم میں ہیں۔

وہ انتہائی اذیت ناک ہے لیکن ذرا غور سے دیکھیں تو اس میں بہت سا قصور ہمارا اپنا ہے کیونکہ ہم نے اپنے مسائل کے حل کیلئے جو راستہ منتخب کیا ، وہ ہوش کے پھولوں سے زیادہ جوش کے کانٹوں سے بھرا ہوا ہے اور جوش بھی وہ جو صرف خود کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ جب ہم نے خود ہی اشرف المخلوقات ہونے کی سب سے بڑی نشانی یعنی دماغ سے کام لینا چھوڑ دیا ہو تو خدا کی فتح و نصرت کی امید رکھنا بذات خود ایک خوش فہمی ہے۔

امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے جو بیماری لاحق ہے اسے حماقت یا منافقت کے علاوہ دوسرا کوئی نام نہیں دیا جا سکتا اور دونوں بیماریاں ذاتی اور قومی لحاظ سے مہلک ترین ہیں۔

ہم اس نبی پاکﷺ کے ماننے والوں میں سے ہیں جنہوں نے زندگی کے ہر موڑ پر عقل و دانش اور مصلحت و مصالحت کے ایسے مظاہر چھوڑے ہیں۔ جن پر عقل و دانش کو بھی ناز ہے۔ اپنے جانی دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کی آندھیوں میں اسلام کا چراغ جلانا ،اسے بجھنے سے بچائے رکھنا اور پھر شعلہءِ جوالہ بنا دینا بذات خود ایک محیر العقول واقعہ ہے ۔ مدینہ کے یہودیوں سے دوستی کے معاہدے میثاقِ مدینہ سے لے کر صلح حدیبیہ تک جس میں بظاہر مسلمانوں کی کمزوری نظرآتی تھی آنحضرت ﷺکے تمام اقدامات بے عمل جوش سےخالی اور با عمل ہوش سے بھرپور دکھائی دیتے ہیں۔جنگ کا سب سے بڑا اور پہلا اصول یہ ہے کہ مد مقابل کی طاقت کا اندازہ لگایا جائے۔ اسکی کمزوریوں اور خامیوں کو تلاش کیا جائے اپنی کمزوری کو اس کی طاقت سے ٹکرانے کی بجائے اپنی طاقت کو اس کی کمزوری سے بھڑا دیا جائے تب ہی اس کی صفوں میں شگاف ڈالا جا سکتا ہے۔ ورنہ اس کی طاقت اگر آپ کی کمزوری سے ٹکرائے گی تو پاش پاش ہونا آپ کے مقدر میں لکھ دیا جائے گا صرف یہی نہیں کہ اس کی طاقت اور کمزوری سےآگاہی حاصل کی جائے بلکہ اس کے اسباب پر چھان بین کرنا بھی جنگ جیتنےکیلئے ضروری ہے۔

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے حریف بہتر سیاسی نظام اور ٹیکنالوجی سے مسلح ہیں۔ ہمارا وہ اسلحہ جس کے بل بوتےپر ہم ان سے مقابلہ کرنا چاہتے ہیں انہی کے کارخانوں کا بنایا ہوا ہے۔ اگر وہ اس کی رسد بند کر دیں تو ہم خالی ہاتھ رہ جائیں ۔سپر سانک ہوائی جہازوں کے مقابلے میں صرف بندوقوں اور توپوں کا ہونا خالی ہاتھ ہونے کے برابر ہی ہے۔

اب محض جذبوں سے جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔اس طرح ہم بحیثیت مجموعی مختلف قسم کے شخصی نظاموں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں جن کی موجودگی میں اجتماعی سطح پر ایک خاص حد سے آگے ترقی کرنا ممکن ہی نہیں تو پھر ہم کیوں ایسی مہم جوئی میں شامل ہوتے ہیں جس کا انجام محض تباہی، رسوائی اور جگ ہنسائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ پہلے مسلمان بحیثیت قوم کچھ بنیادی امور طے کریں پھر اس کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دیں۔ سب سے پہلے اپنے سیاسی نظام پر غور فرمائیں۔ ڈکٹیٹروں نے اپنی حکمت عملی کے تحت سیاستدانوں کو برائی کا سمبل بنانے کی جو مہمات شروع کیے رکھیںان کے تحت زیادہ تر لوگ سیاست اور سیاست دانوں کو ہر برائی کی جڑ سمجھتے ہوئے ڈکٹیٹروں کو اپنی اور اپنی نسلوں کی قسمت کا مالک بنا بیٹھے۔

یہ سوچے بغیر کہ مسلمان ملکوں میں طرح طرح کے ڈکٹیٹروں کے سالہا سال کے مطلق اقتدارکے باوجود ترقی کیوں نہیں ہو سکی۔ بری سیاست کو اچھی سیاست اور برے سیاستدان کو اچھے سیاستدان سے تبدیل کیا جا سکتا ہے لیکن وہ عمل کیسے برا ہو سکتا ہے جس پر چل کر دنیا کی پسماندہ اور جاہل اقوام ترقی یافتہ اور مہذب بن گئی ہیں ۔ سب سے بڑی حقیقت تو یہ ہے کہ جمہوریت کیلئے ایک خصوصی ،سورہ الشوریٰ کے نام سے قرآن پاک میں نازل کی گئی کہ آپس میں مشورے سے فیصلہ کرو اور قومی سطح پر مشورے کا نام ہی جمہوریت ہے۔

دوسرے سائنس اور ٹیکنالوجی کے بارے میں ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ جو اشیاء حضور اکرمﷺ اور صحابہ کرام کے زمانے میں نہیں تھیں ان کی ایجاد اسلامی ہے یا اسلامی غیر اسلامی؟ اگر اجتہاد اسے اسلامی قرار دیتا ہے تو پھر سب کچھ چھوڑ کر جمہوریت اور ٹیکنالوجی کیلئے تگ ودو شروع کر دیں کہ یہی دور حاضر کا سب سے بڑا جہاد ہے جو ہمیں حماقت اور منافقت کی دلدل میں گرنے سے بچا سکتا ہے۔آج کے اشعار

اب کے گلشن میں جب تبدیلیاں آنے لگیں

تتلیاں کاغذ کے پھولوں پر بھی منڈلانے لگیں

اگلی رت میں جان کیسی فصل کاٹیں گے کہ آج

بارشوں کے موسموں میں آندھیاں آنے لگیں

تازہ ترین