• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کرسی نشین سیاستدان ہوں یا افسر، وُہ مصروف بہت ہوتے ہیں اتنے مصروف کہ نہ انکے پاس فون کا جواب دینے کا وقت ہوتا ہے، نہ وہ عامیوں سے ملتے ہیں اور نہ ہی عوام کے بارے میں جو فیصلے وُہ کر رہے ہوتے ہیں انکو بتانے کی زحمت کرتے ہیں۔ تضادستان میں ’’مصروفیت‘‘ دراصل ایک بیماری کا نام ہے جو ہر کرسی نشین کو لاحق ہو جاتی ہے اور یہ بیماری اس وقت تک اُسے نہیں چھوڑتی جب تک کرسی اُسے چھوڑ نہیں دیتی- Covid کی طرح مصروفیت کی بیماری اکیلی نہیں آتی اسکے ساتھ ہی اکڑ،بے اعتنائی اور ہلکی سی تنقید یا اختلاف پر ناراضی جیسی دوسری بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں، جیسے نزلہ ہو تو زکام اور کھانسی میں مبتلا ہونا عام سی بات ہے۔ کرسی نشین کی مصروفیت گزشتہ 40 سال قریب سے دیکھنے کا مشاہدہ ہوا ہے۔ انگریزی زبان کا محاورہ ہے کہ مصروف نظر آؤ اور کچھ بھی نہ کرو(Look busy, do nothing اب صحافی کا مسئلہ ہوتا ہے کہ اسے کرسی نشین کی خبر رکھنی پڑتی ہے اور اگر خبر بند ہو جائے تو خبر لینی بھی پڑتی ہے۔ اسلئے اکثر کرسی نشین صحافیوں سے پرہیز کرتے ہیں مگر ظاہر ہے کہ دریا ایک ہے، اسی میں صحافتی مچھلیوں اور کرسی نشین مگرمچھوں کو رہنا پڑتا ہے اسلئے گاہے گاہے آمنا سامنا بھی ہوتا رہتا ہے۔

اس وقت ملک کے سب سے بڑے کرسی نشین وزیر اعظم صاحب ہیں۔ اس قلم گھسیٹیے کی ان سے دہائیوں سے واقفیت اور تعلق خاطر ہے انکا دورِ اقتدار بھی دیکھا ہے اور دیکھ رہے ہیں اور انکے دورِ ابتلا اور اپوزیشن کو بھی دیکھتے رہے ہیں۔ وزیراعظم 17 برسوں سے اقتدار میں ہیں اور ابھی انہوں نے بطور وزیر اعظم مسلسل پانچواں بجٹ پیش کیا ہے۔ مجھے انکی وفاقی حکومت کے فیصلے نہ کرنے، سیاسی بیانیہ نہ بنانے اور معیشت کو تیز نہ کرپانے پر شدید اختلاف ہے اور میں بار بار اس کا اظہار بھی کرتا رہتا ہوں مگر وزیر اعظم شہباز شریف میرے اختلاف اور تنقید کے باوجود جب بھی ملے کھلے بازوؤں اور مسکراتے چہرے سے ملے ورنہ ہر کرسی نشین تنقید یا اختلاف پہ ماتھے پر بل ڈال لیتا ہے، ملنا چھوڑ دیتا ہے، ناراض ہو جاتا ہے اور اگر اختیار ہو تو آپ کو تنگ بھی کیا جاتا ہے مگر خدا لگتی بات یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں براہ راست ان پر ہونیوالی تنقید کو وہ خندہ پیشانی سے برداشت کرتے آئے ہیں۔ میں نے جون کے آخر میں کالم لکھ کر کہا تھا کہ انکا دور ِعروج ختم ہو چکا اب جولائی سے زوال شروع ہوگا اور حقیقت میں ایسا ہی ہو رہا ہے، وہ مسائل جو پٹاری میں بند تھے وہ ایک ایک کرکے کھل رہے ہیں، وزیر اعظم جتنا بھی جھک جائیں ،جتنے بھی مٹ جائیں یا جتنے بھی بدل جائیں۔ ان کو گھیرنے والے مسائل بہت بڑے ہیں۔ دیکھتے ہیںوہ ان سے کیسے برّی الذمہ ہوسکیں گے۔

وزیر اعظم وہ واحد کرسی نشین ہیں جو بقول شخصے 18 گھنٹے ’’شبانہ روز‘‘ کام کے باوجود مصروف نہیں ہیں ۔وہ ملاقاتیوں سے ملتے ہیں، اتحادیوں سے رابطہ رکھتے ہیں، بیرون ملک دورے کرتے ہیں، اپنے دونوں گھروں میں بھی باقاعدگی سے جاتے اور وقت دیتے ہیں، بڑے بھائی کے گھر جاتی امرا بھی ہفتہ وار حاضری دیتے ہیں اور اونچے ایوانوں کو بھی خوش رکھتے ہیں غرضیکہ کرسی نشینوں میں سے وہ واحد ہیں جن پر اقتدار اور طاقت کا نشہ نہیں چڑھا وگرنہ توہر کرسی نشین کوبرا سانپ کی طرح پھن پھیلائے پھنکار رہا ہے۔ مصروفیت میں کرسی نشین صرف خواص سے ملتے، اُن ہی سے بات کرتے اور انہیں ہی دستیاب ہوتے ہیں۔ کرسی نشینوں کی مصروفیت سے پنجابی لوک کہانی کا کردار جگّا یاد آگیا۔ جگّے کے بارے میں مشہور پنجابی محاورہ ہے’’جگّے نوں نِت مہماں‘‘۔یہ محاورہ کسی ایسے شخص کیلئے استعمال ہو تا ہے جسے ہرروز کوئی نیا معرکہ، جھگڑا یا مسئلہ درپیش ہو۔ ہر مسئلے میں ٹانگ اڑانے اور خوامخواہ میں مصروفیت ظاہر کرنے والے بھی اس محاورے کی مزاحی تشریح میں آتے ہیں۔ جگاجٹ دراصل سردار جگت سنگھ ورک کا مشہور نام ہے، وہ انگریزوں کیلئے ڈاکو اور غریبوں کیلئے رابن ہڈتھا بعد ازاں اسے انگریزوں نے دھوکے سے مار دیا تھا۔ خیر جگّے کی مہمیں ہی ہمارے کرسی نشین وزیروں اور افسروں کی گُھٹی میں پڑی ہیں۔ ہمارے ایک محترم وزیر سو سے زائد کمیٹیوں کے سربراہ ہیں، اب اتنی کمیٹیوں کی سربراہی لے تولی ،ان کیلئے وقت کون نکالے گا؟ جنرل باجوہ نے ایک ملاقات میں اس وزیر کے بارے میں یہی شکایت کی تھی اور یہی شکایت آج بھی دہرائی جارہی ہے۔ ایک صوبائی حکومت نے100سے زائد نئے منصوبے شروع کررکھے ہیں ،ان میں کئی بہت اچھے بھی ہیں مگر باقی90سے زائد منصوبوں کی رفتار اور انکے معیار پر نظر رکھنے کیلئے کسی کے پاس وقت ہی نہیں ،جب کاموں کو اتنا پھیلالیا جائے تو پھر کوئی کام بھی سلیقے سے نہیں ہوپاتا ۔ترجیح تو چار پانچ ایشوز کوہی دی جاسکتی ہے کہ اس سے زیادہ تو انسانی بس میں ہی نہیں۔ وفاق میں دو وزیر مایوسی کے عالم میں استعفے جیب میں ڈالے پھررہے ہیں۔ وفاقی کابینہ دراصل ایک ٹیم کا نام ہوتا ہے جس نے اجتماعی فیصلوں سے ملک کو چلانا ہوتا ہے مگر اِدھر سیٹی بجی ہے اور اُدھرہر وزیر نے اپنا اپنا نیا قبلہ ڈھونڈ لیا ہے، کوئی نئے صوبوں کا حامی ہے تو کوئی مخالف۔ کوئی چپ ہے تو کوئی مسلسل بولے جا رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف عوامی سیاستدان نہ سہی مگر اچھے منیجر اور ایڈمنسٹریٹر ضرور ہیں انہیں اپنی منجی کے نیچے ڈانگ پھیرنی ہوگی اور اپنی کابینہ کو ڈسپلن میں لانا ہوگا، وزیر اعظم کی ’’ڈھیل‘‘ سے حکومت کا ’’وھیل‘‘ پنکچر ہوکر بے قابو ہورہا ہے۔

یادش بخیر شہباز شریف نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کرسی نشین افسروں کی جھوٹی مصروفیت کے توڑ کیلئے ہرایک کو موبائل فون خود سننے کا پابند بنایا تھا انکے اس انقلابی قدم سے پہلی دفعہ عوام کرسی نشینوں سے براہ راست بات کرنے کے قابل ہوئے تھے ،شہباز شریف خود افسروں کو انکے موبائل نمبروں پرفون کرکے چیک کرتے تھے کہ وہ خود سنتے ہیں یا نہیں۔ اس پریکٹس کا بہت مثبت اثر پڑا تھا۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف چن چن کر اچھے افسروں کو کرسی نشین کرتی ہیں مگریہ افسر کرسی پر بیٹھتے ہی ایسے مصروف ہوجاتے ہیں کہ کسی کودستیاب ہی نہیں ہوتے، فون پر موجود رہنے اور ہرفون کا جواب دینے کا جو معمول شہباز شریف دور میں شروع ہوا تھا وہ مکمل طور پر منقطع ہوچکا ہے۔ ایک تو وزیراعلیٰ خود بھی اور انکی سینئر ٹیم بھی نہ صحافیوں کی رسائی میں ہے اور نہ عوام اور منتخب نمائندوں کی پہنچ میں ہے۔ دوسرا جب سے نون نے اپنے سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈال لئے ہیں وہ سمجھنے لگی ہے کہ ٹوکری، نوکری کو پکا رکھے گی مگر ٹوکری کو ہوا، آندھی اور دھوپ بھی لگتی ہے۔ صحافی،عوام اور منتخب نمائندے وہی آندھی ہوا اور دھوپ ہیں جو ٹوکری سے جڑی نوکری پربھی اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اس نوکری کولے بھی بیٹھتے ہیں۔

یاد رکھنا چاہئے جوکرسی نشین سیاستدان اور افسر فون نہیں سنتا، فون کا جواب تک نہیں دیتا وہ جوابدہی اور رابطے کی ڈیوٹی سے تغافل کا مرتکب ہے، ا سکی باقی مصروفیات سراسر جھوٹ اور فریب ہیں۔ آجکل حالات یہ ہیں کہ افسر اور وزیر نہ کسی کا فون سنتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیںبہانہ وہی مصروفیت کا کیا جاتا ہے، اگر افسروں اور حکومتی سیاستدانوں کی یہی ’’مصروفیت‘‘ جاری رہی تو پھر صحافی ’’ جہاز‘‘ ہی اڑائیں گے، عوام مذاق اڑائیں گے اور ارکان اسمبلی برا منائینگے۔ آج کی یہ جعلی مصروفیت کل کو ’’فراغت‘‘ پر منتج ہوگی۔ وہ جواَب سب’’ مصروف‘‘ ہیں انکی یہی مصروفیت انہیں’’فارغ‘‘ کردے گی ماضی میں’’مصروف‘‘ رہنے کی اداکاری کرنیوالوں کا انجام دیکھا جاچکا، آج کے’’مصروفوں‘‘ کا انجام بھی وہی نہ ہو۔

تازہ ترین