• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کے بعض موڑ عجیب ہوتے ہیں۔ واقعات بظاہر ایک سمت میں رواں ہوتے ہیں مگر اچانک ان کے سائے کسی دوسرے خطے پر نمودار ہونے لگتے ہیں۔ ایک شہر میں داغا جانے والا میزائل کسی دور دراز دارالحکومت میں پالیسی سازوں کو اپنی حکمتِ عملی بدلنےپرمجبور کر دیتا ہے۔ سمندر کے کسی گوشے میں پیدا ہونے والی بے چینی عالمی منڈیوں تک ارتعاش پہنچا دیتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ بھی اب اسی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دیتی ہے جہاں اس کا جغرافیہ تہران اور واشنگٹن سے نکل کر سعودی عرب، یمن اور باب المندب تک پھیل گیا ہے۔یہ تبدیلی فقط جنگی نقشے پر ایک نئی لکیر کا اضافہ نہیں۔ اس کے پس منظر میں مشرقِ وسطیٰ کی وہ پیچیدہ سیاست ہے جس میں علاقائی طاقتیں، عالمی مفادات، سمندری راستے، توانائی کے ذخائر اور دفاعی اتحاد ایک دوسرے میں پیوست ہو چکے ہیں۔ کہانی شاید خود نہیں الجھی۔ مختلف طاقتوں کے مفادات اور فیصلوں نے اسے اس مقام تک پہنچایا ہے جہاں ہر نیا قدم اگلے بحران کا امکان اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔باب المندب اس نئے منظرنامے کا اہم استعارہ ہے۔ یمن اور افریقہ کے درمیان یہ آبی گزرگاہ صدیوں سے مشرق و مغرب کے درمیان آمدورفت کا راستہ رہی ہے۔ آج یہی راستہ جنگی کشمکش کی زد میں ہے۔ حوثیوں کی کارروائیوں اور یمن کے ساحلی علاقوں میں بدلتی ہوئی صورتِ حال نے سعودی عرب کیلئے سلامتی کے ایک نئے سوال کو جنم دیا ہے اور عالمی تجارت کیلئے بھی خطرات بڑھائے ہیں۔امریکہ کیلئے ایران کے ساتھ محاذ آرائی پہلے ہی ایک مشکل تزویراتی مسئلہ ہے۔ باب المندب میں دباؤ بڑھنے سے واشنگٹن کے سامنے ایک اضافی چیلنج پیدا ہوتا ہے۔ سعودی عر ب کیلئے معاملہ براہِ راست ہے کیونکہ یمن اس کی جنوبی سرحد سے جڑا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یمن کا بحران اب محض داخلی جنگ نہیں رہا بلکہ علاقائی سلامتی کے بڑے سوال سے منسلک ہو چکا ہے۔

ایران کیلئے حوثیوں کی پیش قدمی علاقائی دباؤ کا ایک ذریعہ ضرور بن سکتی ہے مگر اس کے نتائج یک طرفہ نہیں۔ سعودی عرب کو خطرہ بڑھنے سے مزید دفاعی تعاون کی ضرورت محسوس ہو سکتی ہے۔ یہی صورتِ حال خطے میں نئے اتحادوں کو تقویت دے سکتی ہے۔ جنگی سیاست کا المیہ یہی ہے کہ ایک فریق کا دباؤ دوسرے فریقوں کو باہم قریب بھی لا سکتا ہے۔

اسی پس منظر میں مکہ دفاعی معاہدے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانیوالے اس دفاعی بندوبست میں ایک دوسرے کی سلامتی کیلئے باہمی تعاون کا عزم نمایاں ہے۔ تاہم اس معاہدے کی اصل معنویت اس وقت سامنے آئے گی جب کوئی حقیقی بحران اس کی شقوں کو عملی فیصلے کا تقاضا کرے گا۔پاکستان کیلئے یہ مرحلہ خاص طور پر حساس ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات، مذہبی وابستگی، دفاعی تعاون اور معاشی روابط کی طویل تاریخ ہے۔ دوسری طرف ایران اس کا ہمسایہ ملک ہے۔ اسلام آباد کیلئے دونوں حقیقتوں کو پیشِ نظر رکھنا ناگزیر ہے۔اسی لیے پاکستان کا محتاط ردِعمل قابلِ فہم ہے۔ سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ کھڑے ہونے کا عزم موجود ہے لیکن حوثیوں کے خلاف فوری براہِ راست فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دفاعی معاہدے کا وجود اور کسی مخصوص جنگ میں براہِ راست شرکت ایک ہی چیز نہیں۔ کسی بھی فیصلےکیلئے بحران کی نوعیت اور اس کے ممکنہ نتائج کو سامنے رکھنا ہوگا۔

مکہ دفاعی معاہدے کی اصل قوت شاید فوج میدان میں اتارنے سے پہلے پیدا ہونے والی وہ بازدار قوت ہے جو کسی ممکنہ جارح کو یہ سوچنے پر مجبور کرے کہ سعودی عرب کو تنہا سمجھنا درست نہیں۔ اگر دفاعی اتحاد جنگ شروع ہونے سے پہلے جارحیت کی حوصلہ شکنی کر دے تو یہی اسکی بنیادی کامیابی ہوگی۔ اس بحران کا انسانی پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مشرقِ وسطیٰ کئی دہائیوں سے جنگ اور داخلی انتشار کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔ فلسطین سے یمن تک اور عراق و شام سے خلیج تک ہر نئے محاذ کا سب سے بھاری بوجھ عام شہریوں نے اٹھایا ہے۔ مزید کشیدگی اس پورے خطے کو ایک ایسے دائرے میں داخل کر سکتی ہے، جہاں جنگ کا اختتام کسی ایک فریق کے فیصلے سے ممکن نہ رہے۔اس لیے موجودہ صورتِ حال کو صرف عسکری زاویے سے دیکھنا کافی نہیں۔ سعودی عرب کو اپنی سلامتی کا تحفظ کرنا ہے، پاکستان کو اپنے قومی مفادات کا اور ایران کو اپنے علاقائی مفادات کا۔ سب کے سامنے یہ حقیقت بھی عیاں ہےکہ باب المندب کی کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کے نظام کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اس وقت طاقت اور تدبر کے درمیان کھڑا ہے۔ دفاع مضبوط رکھنا ضروری ہے مگر سفارتکاری کا دروازہ بند کرنا دانش مندی نہیں۔ مکہ دفاعی معاہدے کا اصل امتحان بھی یہی ہوگا کہ وہ اپنے ارکان کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے جنگ کےدائرے کو محدود رکھنے میں کس قدر مؤثر ثابت ہوتا ہے۔باب المندب کے پانیوں سے اٹھنے والی لہریں بہت دور تک جاتی ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ انہیں ایسی آندھی بننے سے پہلے روک لیا جائے جس میں جیتنے والا بھی اپنے زخم گن رہا ہو اور ہارنے والا بھی۔

تازہ ترین