• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہم 80 سال میں ایک بڑا اسپتال ایسا نہیں بنا سکے جہاں ہمارے صاحب اقتدار لوگ علاج کرا سکیں۔ ہمارے صحت کے نظام کی سب سے بڑی ناکامی یہ ہے کہ ہمارے وزراء، سیاستدان ،جاگیردار، وڈیرے اور امیر لوگ اپنے علاج کیلئے غیر ملکی اسپتالوں میں جاتے ہیں اور دوسری طرف یہ نعرہ لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ ہم ملک میں صحت کے حالات کو بہتر کر دیں گے ۔ میری ذاتی رائے ہے جس دن یہ تمام لوگ اس ملک میں اپنا علاج کرانا شروع کر دینگے اور غریب کو بھی وہی سہولیات میسر ہونا شروع ہو جائینگی جو امیر کو ہیں تو وہ دن دور نہیں جب پمزاسپتال جیسا سانحہ دوبارہ رونما نہ ہو سکے۔ حسب معمول اس سانحے کی رپورٹ آئی اور افسران کو معطل کر دیا گیا۔ تھوڑی بہت اخبارات اور میڈیا میں سرزنش کی گئی ۔ حکومت نےشاید اس حادثے کی وجوہات تلاش کرنے کی خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔ میرے نزدیک پہلی بنیادی وجہ صحت کے مختلف شعبوں میں سفارش اور کرپشن کے ذریعے تعیناتی ہے ۔میں2023 ء میں نگران وزیر صحت بنا تو تقریباً ایک ہزار میڈیکل آفیسر کی تعیناتی کی اجازت ملی۔ میں جانتا تھا کہ یہ نوکریاں 10سے 15لاکھ روپے میں بکتی ہیں اور انتظامی نوکریاں تو 50لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ میں ملتی ہیں۔ میں نے اپنے سیکرٹری سے پوچھا کہ میڈیکل آفیسرزکی تعیناتی کا کیا طریقہ کار ہے تو انہوں نے بتایا کہ اس میں انٹرویو کے 25 نمبر اور میرٹ کے 75نمبر ہیں اور انٹرویو کے نمبرز پر تمام کرپشن اور سفارش ہوتی ہے۔ میں نے اسی وقت میرٹ کے 95 اورانٹرویو کے پانچ نمبر کر دیے جسکا فائدہ یہ ہوا کہ ایک بھی میڈیکل آفیسر میرٹ کے بغیر تعینات نہ ہو سکا اور میں وزیر صحت ہونے کے باوجود کسی کی سفارش نہ کر سکا۔ دوسر ا ، صحت کے بجٹ کو چار فیصد سے زیادہ کرنا چاہیے اور فضول خرچیوں کو ختم کرنا چاہیے، کوشش یہ کرنی چاہئے کہ بیماریوں کے علاج پر خرچہ کرنے کے بجائے انکی روک تھام پر زیادہ توجہ ہو ، جو بجٹ خرچ ہو رہا ہے اس کی مانیٹرنگ کا صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر آرٹیفشل انٹیلی جنس کے استعمال کے ذریعے کنٹرول ہونا چاہیے اور ہسپتالوں کے اندر واضح طور پر کے پی آئی یعنی کی پرفارمنس انڈیکس ہونے چاہئیں ۔ بجٹ خرچ کرنا کسی اسپتال کی کارکردگی کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ مریض کو اس سے کتنا فائدہ ہوا اس پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ تیسرا یہ کہ ہمیں بنیادی نظام صحت کو مضبوط کرنا ہوگا جس میں ہمیں بنیادی مراکز صحت، دیہی مراکز صحت ، تحصیل ہیڈ کوارٹر اسپتال اور فلٹر کلینکس کے نظام کو پھیلانا ہوگا اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب بنیادی مراکز صحت کا نظام بہتر ہو جائے گا تو عوام کا رخ بڑے اسپتالوں کی طرف کم ہو جائے گا۔ بد قسمتی سے پنجاب میں بنیادی مرکز صحت کے نظام کو ٹھیکے پردے کر برباد کر دیا گیا ہے۔

چوتھا ہمارے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے لیکن بد قسمتی سے ڈاؤن سائزنگ کے نام پر حکومتیں ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز کو نکال رہی ہیں۔ ملازمت کی کوئی سیکورٹی نہیں ۔اگر بنیادی مراکز صحت کے نظام کو بہتر کرنا ہے تو اسٹاف کی خصوصی مراعات ، ٹرانسپورٹ، رہائش اور تنخواہوں میںبھی اضافہ کریں۔پانچواں اہم نکتہ ادویات کی کمی ہے بدقسمتی سے ہر حکومت یہ بے بنیاددعویٰ کرتی ہے کہ اسپتالوں میں ادویات کی کوئی کمی نہیں ۔ جبکہ اسپتالوںمیں ادویات کی کمی کی شکایت عام ہے اس کا حل یہی ہو سکتا ہے کہ بجٹ بڑھایا جائے ، خرید و فروخت کو شفاف کیا جائے، آڈٹ کے نظام کو بہتر بنایا جائے، نیک اور ایماندار افسروں کو میرٹ پر لگایا جائے اور آرٹیفشل انٹیلی جنس کے استعمال کے ذریعے ادویات کی مانیٹرنگ کی جائے تو یہ معاملات بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ چھٹا نکتہ ہر ضلع کے اندر ہیلتھ ایمرجنسی رسپانس پلان ہونا چاہیے تاکہ سیلاب، زلزلے، وبائی امراض یا کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوری طور پر ادویات، ڈاکٹر، ایمبولنسز اور میڈیکل ٹیمیں ضروری سہولیات کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر جانیں بچا سکیںاس طرح ہم ایک بڑے جانی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ ساتواں نکتہ یہ ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دیا جائے بدقسمتی سے پاکستان میں کک بیکس، کم سرکاری ریٹس اور ٹیکسز کی بھر مار کی وجہ سے اچھے ادارے حکومت کے ساتھ کام کرنے سے گریز کرتے ہیں جبکہ نا اہل ادارے کام کرنے کیلئے راضی ہو جاتے ہیں اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا فائدہ عوام کو نہیں مل پاتا۔ اس کا حل یہ ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ادارے کو مضبوط کرنے کیلئے اہل اداروں کو آگے لایا جائے۔ ٹیکسز میں چھوٹ ملنی چاہیے اور سہولیات دی جانی چاہئیں تاکہ اچھے ادارے حکومت کے ساتھ مل کر عوام کو بہتر سہولیات اور ادویات فراہم کر سکیں۔ آٹھواں نکتہ، آبادی بڑھنے سے ملک میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن پاپولیشن کے محکمے کو صوبوں میں بند کر دیا گیا ہے حالانکہ یہ وہ نظام ہے جسکے ذریعے گاؤں، تحصیل اور ضلعی سطح تک جا کر لوگوں کو پاپولیشن اور صحت کے بنیادی مسائل کے حوالے سے شعور و آگاہی دی جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاپولیشن پلاننگ کے محکموں کو فعال کیا جائے۔

مختصراً ہمیں صحت کا ایسا نظام وضع کرناہےجہاں مریض کو علاج کیلئے سفارش نہ کرانی پڑے،نظام پر اعتماد ہو، جہاں امیر اور غریب کیلئے بنیادی صحت کا معیار مختلف نہ ہو۔

تازہ ترین