ہر سال جب وفاقی پبلک سروس کمیشن سی ایس ایس کے نتائج کا اعلان کرتا ہے تو کامیاب امیدواروں میں ایم بی بی ایس ڈاکٹر، انجینئر اور ممتاز پیشہ ورانہ اداروں کے فارغ التحصیل افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کی کامیابی یقیناً احترام کی مستحق ہے، مگر سوال یہ ہے کہ جس ملک میں ڈاکٹروں، انجینئروں اور تکنیکی ماہرین کی کمی ہو، وہاں محدود پیشہ ورانہ تعلیم کو عمومی انتظامی عہدوں تک پہنچنے کی سیڑھی بننے دینا کیا قومی مفاد میں ہے؟
ایک ڈاکٹر یا پروفیشنل انجینئر تیار کرنےکیلئے تجربہ گاہیں، تدریسی اسپتال، مخصوص آلات، عملی تربیت اور برسوں کی اعلیٰ تدریس درکار ہوتی ہے۔ سرکاری ادارے اس لاگت کا بڑا حصہ برداشت کرتے ہیں اور باقی کیلئے والدین اپنی جمع پونجی لگا دیتے ہیں۔ ٹیکس دہندہ یہ خرچ ایک خاص قومی مقصد کیلئے کرتا ہے: ڈاکٹر مریضوں کے علاج اور انجینئر قومی ترقی کیلئے ضروری انفراسٹرکچر کی تعمیر و نگہداشت کیلئے تیار کیے جاتے ہیں۔جب ایم بی بی ایس کا گریجویٹ اسپتال کے وارڈ کی بجائے ضلعی انتظامیہ کا دفتر اختیار کر لے، یا انجینئر تکنیکی کام چھوڑ کر عمومی بیوروکریسی کا راستہ پکڑ لے، تو یہ سرمایہ کاری اپنا مطلوبہ نتیجہ نہیں دیتی۔ فرد اپنی نئی جگہ پر دیانت سے خدمت کر سکتا ہے، لیکن پاکستان اس مخصوص مہارت سے محروم ہو جاتا ہے جس پر اس نے سرمایہ لگایا۔ برسوں کی سائنسی اور عملی تربیت استعمال نہ ہو تو سرکاری سرمایہ اور محدود تربیتی صلاحیت، دونوں غلط سمت میں چلے جاتے ہیں۔
مالی نقصان مگر آدھی کہانی ہے۔ اس سے بڑی ناانصافی اُس امیدوار کے ساتھ ہوتی ہے جو آخری میرٹ لائن سے معمولی فرق سے پیچھے رہ جائے۔ ایک حالیہ میڈیکل میرٹ لسٹ میں پہلے پانچ امیدواروں کے ایگریگیٹ 96.8960، 96.8909، 96.8364، 96.7879 اور 96.7182فیصد تھے۔ پہلے دو میں فرق صرف 0.0051 فیصد پوائنٹس تھا۔ داخلہ عملاً اعشاریہ کے تیسرے یا چوتھے ہندسے پر طے ہو رہا ہے۔ہر اعشاریے کے پیچھے کسی نوجوان کا خواب ہے۔ کوئی طالب علم برسوں محنت کرے، شاندار نمبر لے اور ڈاکٹر بننے کی خواہش رکھے، مگر معمولی فرق سے داخلے سے رہ جائے۔ اگر اس سے اوپر آنے والا امیدوار سبسڈی والی نشست پر داخلہ لے، ایم بی بی ایس کرے اور پھر سی ایس ایس کیلئے طب چھوڑ دے، تو اس محروم طالب علم کے خواب کا جواب دہ کون ہو گا؟ ممکن ہے وہ چالیس برس مریضوں کی خدمت کرتا یا پاکستان کا وہ ماہر بنتا جسکی ملک کو شدید ضرورت تھی۔
یہ درست ہے کہ نوجوان رائے بدلتے ہیں، مگر جہاں تعلیم محدود، سبسڈی یافتہ اور قومی ضرورت سے وابستہ ہو، وہاں انفرادی آزادی اور اجتماعی ذمہ داری میں توازن ضروری ہے۔ہمارا صحت کا نظام اس کے نتائج واضح کرتا ہے۔ دیہی اسپتالوں کو ڈاکٹر متوجہ کرنے اور روک کر رکھنے میں دشواری پیش آتی ہے اور ماہر طبی خدمات بڑے شہروں تک محدود رہتی ہیں۔ انجینئرنگ میں بھی ملک کو پانی، توانائی، ٹرانسپورٹ، صنعت، ٹیکنالوجی اور شہری منصوبہ بندی کے ماہرین درکار ہیں، مگر پاکستان مہنگے کنسلٹنٹس اور بیرونی مہارت پر انحصار کرتا ہے جبکہ اس کے اپنے تربیت یافتہ افراد غیر متعلق کیریئر اختیار کر لیتے ہیں۔یہ انتظامیہ کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ حکمرانی خود ایک پیشہ ہے جس کیلئےقانون، معاشیات، عوامی مالیات، پالیسی تجزیے اور انتظامی نظم و نسق کی سمجھ درکار ہے۔ ڈاکٹر یا انجینئر انتظامیہ سیکھ ضرور سکتا ہے، مگر اس مقصد کیلئے ابتدا ہی سے موزوں تعلیمی راستہ کیوں نہ اختیار کیا جائے؟
جس نوجوان کی بنیادی خواہش سول سروس ہو، اسے انٹرمیڈیٹ یا اے لیول کے بعد ہی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ جامعات میں پبلک پالیسی، معاشیات، حکمرانی، قانون، بین الاقوامی تعلقات اور انتظامی علوم کے مضبوط پروگرام ہوں، اور کالجوں میں کیریئر کاؤنسلنگ دستیاب ہو۔ سول سروس کو ایک سوچا سمجھا پیشہ سمجھا جائے، نہ کہ عوامی سرمائے سے حاصل کی گئی غیر متعلق ڈگری کے بعد اختیار کیا جانے والا باوقار متبادل۔لہٰذا پاکستان کو ایک واضح اصول اپنانا چاہیے: طب، انجینئرنگ اور دیگر کمیاب پیشہ ورانہ ڈگریوں کے حامل افراد کو عمومی سول سروس کے مسابقتی امتحانات میں شرکت کی اجازت نہ ہو۔ یہ پابندی آئندہ کیلئے ہو اور داخلہ پالیسی میں شامل کی جائے، تاکہ ہر درخواست گزار پیشہ ورانہ نشست قبول کرنے سے پہلے اس سے آگاہ ہو۔ اس کا اطلاق سرکاری اور نجی، دونوں اداروں پر ہونا چاہیے؛ مسئلہ صرف سبسڈی کا نہیں بلکہ محدود قومی تربیتی گنجائش اور چند نمبروں کے فرق سے محروم رہنے والے حقدار طالب علم کا بھی ہے۔
یہ پابندی اصلاحات کے بغیر نامکمل ہو گی۔ سول سروس کے خواہش مند نوجوانوں کو مناسب مضامین اور کیریئر کاؤنسلنگ میسر ہو، جبکہ تکنیکی کیڈرز اتنے مضبوط کیے جائیں کہ ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے پیشہ ور اپنے شعبوں میں پالیسی سازی کے بلند ترین مناصب تک پہنچ سکیں۔ بہتر معاوضہ، پیشہ ورانہ خود مختاری اور ترقی کے واضح مواقع انہیں اپنا شعبہ چھوڑنے سے روکیں گے۔میرٹ کا یہی اصول پ ہر ایک پر لاگو ہونا چاہیے۔ کوئی براہِ راست سول سروس کے منصب پر اس وقت تک تعینات نہ ہو، جب تک وہ ہر دوسرے امیدوار کی طرح مقررہ مسابقتی امتحان اور انٹرویو میں کامیاب نہ ہو۔بظاہر یہ پابندی سخت دکھائی دیتی ہے، مگر محدود پیشہ ورانہ پروگرام میں داخلہ ایک عوامی ذمہ داری بھی پیدا کرتا اور کسی دوسرے حقدار امیدوارکیلئے دروازہ بند کرتا ہے۔ جسکی اصل خواہش سول سروس ہو، اسے خصوصی نشست پر بیٹھنے سے پہلے فیصلہ کر لینا چاہیے۔ پاکستان پیشہ ورانہ کالجوں کو بیوروکریسی کے عہدوں کی مہنگی تیاری گاہیں نہیں بننے دے سکتا۔ پارلیمان اور وفاقی پبلک سروس کمیشن کو واضح اہلیتی پابندی عائد کرنی چاہیے۔ آج پیشہ ورانہ نشستوں کا تحفظ، کل کے مریضوں، انفراسٹرکچر، قومی ترقی اور ان شعبوں میں خدمت کے خواہش مند طلبہ کے مستقبل کا تحفظ ہے۔