• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی معاشی تاریخ میں سندھ اور سندھیوں کے کردار کو نظرانداز کیا جائے تو یہ تاریخ نامکمل رہ جاتی ہے۔ دریائے سندھ کے کنارے آباد یہ خطہ ہزاروں سال سے تجارت، زراعت، صنعت اور تہذیبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ موہن جو دڑو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہاں کے لوگ ہزاروں سال پہلے بھی شہری منصوبہ بندی، دستکاری، تجارت اور منظم معاشی زندگی سے واقف تھے۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی سندھ نے اپنی زمین، وسائل، بندرگاہوں، صنعت، تجارت اور انسانی محنت کے ذریعے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔سندھ کی معاشی طاقت لاکھوں محنت کش لوگ ہیں جو معیشت کا پہیہ چلاتے ہیں۔

کسان کھیتوں میں محنت کرتا ہے، ماہی گیر سمندر سے رزق حاصل کرتا ہے، مزدور کارخانوں کو متحرک رکھتا ہے، تاجر منڈیوں کو آباد کرتا ہے اور ہنرمند اپنی دستکاری کے ذریعے ثقافت کو معاشی سرگرمی میں تبدیل کرتا ہے۔ پاکستان کی معیشت میں سندھ کا حصہ دراصل ان تمام لوگوں کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے۔

زرعی معیشت میں سندھ کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں کپاس، گندم، چاول، گنا، کھجور، آم اور مختلف سبزیاں بڑی مقدار میں پیدا ہوتی ہیں۔ گھوٹکی، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ، سانگھڑ، میرپورخاص، بدین اور ٹھٹھہ جیسے اضلاع ملکی غذائی ضروریات کے ساتھ صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی سہارا دیتے ہیں۔ سندھ کی کپاس ٹیکسٹائل صنعت کے لیے خام مال فراہم کرتی ہے جبکہ چاول، آم اور کھجور ملکی تجارت اور برآمدات میں حصہ ڈالتے ہیں۔لیکن سندھ کا کسان پانی کی تقسیم، بڑھتے زرعی اخراجات، فصلوں کی مناسب قیمت نہ ملنے اور جدید ٹیکنالوجی تک محدود رسائی جیسے مسائل کا سامنا کررہا ہے۔ چھوٹے کاشت کار اور ہاری اکثر اپنی پیداوار کی حقیقی معاشی قدر سے محروم رہتے ہیں۔ اگر زراعت قومی معیشت کی بنیاد ہے تو اس بنیاد کو مضبوط کرنے والے کسان کی خوشحالی بھی قومی ترجیح ہونی چاہیے۔

پاکستان کی صنعتی اور تجارتی ترقی کا ذکر کراچی کے بغیر ممکن نہیں۔ کراچی سندھ کی تاریخی، جغرافیائی اور معاشی حقیقت کا حصہ ہے اور ملک کا ایک بڑا صنعتی، تجارتی اور مالیاتی مرکز ہے۔ اس کی بندرگاہیں، بینک، صنعتیں اور تجارتی مراکز ملکی معیشت کو متحرک رکھتے ہیں۔ کراچی کی ترقی میں سندھ کی زمین، ساحلی محلِ وقوع، مقامی آبادی اور ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والی افرادی قوت نے مشترکہ کردار ادا کیا ہے۔

کراچی کی بندرگاہ اور تجارتی اہمیت قیامِ پاکستان سے پہلے بھی موجود تھی۔ تقسیم کے بعد مختلف علاقوں سے آنے والے تاجروں، صنعت کاروں اور محنت کشوں نے شہر کی معاشی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی۔ اس مشترکہ تاریخ کا احترام ضروری ہے، لیکن یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ کراچی سندھ کا حصہ ہے اور اس کی ترقی کے ثمرات کراچی کے تمام شہریوں سمیت پورے سندھ تک پہنچنے چاہئیں۔

سندھ کے قدرتی وسائل بھی پاکستان کی معیشت میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ تھر کے کوئلے کے ذخائر، تیل اور گیس کی پیداوار اور ساحلی وسائل ملک کی توانائی اور صنعتی ضروریات میں حصہ ڈالتے ہیں۔ تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار نے ملکی توانائی کے نظام میں اہم اضافہ کیا ہے، لیکن ترقی کا اصل معیار صرف سرمایہ کاری اور بجلی کی پیداوار نہیں۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مقامی آبادی کو تعلیم، صحت، روزگار، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولتیں کتنی حاصل ہوئیں۔

سندھ کے ساحلی علاقوں میں ماہی گیری ہزاروں خاندانوں کا ذریعۂ معاش ہے۔ کراچی، ٹھٹھہ، سجاول اور بدین کے ماہی گیر سمندر سے مچھلی اور جھینگے حاصل کرتے ہیں جو مقامی منڈیوں کے ساتھ برآمدی تجارت کا بھی حصہ ہیں۔ تاہم ساحلی آلودگی، مینگرووز کی تباہی، سمندری وسائل پر دباؤ اور بنیادی سہولتوں کی کمی ان خاندانوں کے مستقبل کو متاثر کررہی ہے۔ سمندری معیشت کی ترقی میں ماہی گیروں کا تحفظ بھی شامل ہونا چاہئے۔

سندھیوں کی معاشی خدمات میں تجارت اور کاروبار کی بھی طویل روایت ہے۔ شکارپور اور حیدرآباد جیسے شہر تاریخی طور پر تجارتی سرگرمیوں کے مراکز رہے ہیں۔ آج بھی سندھ کے مختلف شہروں میں تاجر، صنعت کار اور کاروباری خاندان ملکی معیشت میں حصہ لے رہے ہیں۔ اسی طرح اجرک، سندھی ٹوپی، رلی، کاشی گری، لکڑی کے کام اور دیگر دستکاریاں ہزاروں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ بہتر مارکیٹنگ اور عالمی منڈی تک رسائی سے اس شعبے کو مزید فروغ دیا جاسکتا ہے۔سندھ کی معاشی صلاحیت کے باوجود کئی دیہی علاقوں میں معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی اور روزگار کی کمی موجود ہے۔ یہ مسئلہ صرف وفاقی وسائل کی تقسیم سے متعلق نہیں بلکہ صوبائی حکمرانی، ترقیاتی ترجیحات اور وسائل کے شفاف استعمال سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سندھ کے حقوق کے ساتھ صوبے کے اندر موجود وسائل کے منصفانہ استعمال کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔سندھ صدیوں سے مختلف زبانوں، ثقافتوں اور برادریوں کا مسکن رہا ہے۔ آج بھی کراچی، حیدرآباد اور دیگر شہروں میں مختلف قومیتوں کے لوگ معاشی زندگی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ سندھ کی شناخت اور تاریخی حقوق کا احترام کرتے ہوئے تمام شہریوں کے لیے مساوی معاشی مواقع پیدا کرنا ہی مضبوط صوبائی اور قومی معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

پاکستان ایک وفاق ہے اور وفاق کی طاقت اس کی اکائیوں کے باہمی احترام میں ہے۔ سندھ کو اپنے آئینی حقوق، پانی کے منصفانہ حصے، قدرتی وسائل سے متعلق قانونی استحقاق اور ترقیاتی ضروریات کیلئے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہے۔

ان معاملات کا حل آئینی طریقۂ کار، شفاف اعدادوشمار اور بین الصوبائی مکالمے کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔سندھ نے پاکستان کو زرعی پیداوار، بندرگاہیں، توانائی، صنعت، تجارت اور انسانی محنت فراہم کی ہے۔ اس کردار کو تسلیم کرنا کسی صوبائی برتری کا اعلان نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی تاریخ کے ایک اہم باب کا اعتراف ہے۔ اسی طرح ملک کی تعمیر میں تمام صوبوں اور قومیتوں کی محنت شامل ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ سندھ نے پاکستان کو کیا دیا، اس کا جواب اس کی زمین، بندرگاہوں، وسائل، صنعت اور محنت میں موجود ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ قومی ترقی کے ثمرات ان لوگوں تک بھی پہنچ رہے ہیں یا نہیں جن کی زمین، وسائل اور محنت اس ترقی کی بنیاد ہیں۔ سندھ کی خوشحالی پاکستان کی خوشحالی ہے، اور پاکستان کی معاشی مضبوطی اسی وقت پائیدار ہوگی جب ترقی کے ثمرات ہر صوبے، ہر علاقے اور ہر محنت کش تک منصفانہ انداز میں پہنچیں گے۔

تازہ ترین