• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانوی وزیرِاعظم کی ٹرمپ سے پہلی ملاقات، مشترکہ امور پر تعاون کی امید

— تصویر بشکریہ رپورٹر
— تصویر بشکریہ رپورٹر

برطانوی وزیرِاعظم اینڈی برنہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اپنی پہلی بالمشافہ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات اور تعاون کے امکانات تلاش کرنے کے لیے پُرامید ہیں۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ہونے والی ملاقات میں یوکرین کی جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال، آبنائے ہرمز اور مصنوعی ذہانت سمیت متعدد اہم عالمی اور باہمی امور زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

یوکرین کے لیے مزید امریکی حمایت پر زور

برنہم کی جانب سے یوکرین کے فضائی دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے امریکی تعاون کا معاملہ بھی اٹھائے جانے کی توقع ہے، برطانوی وزیرِاعظم خاص طور پر یوکرین کے لیے پیٹریاٹ میزائلوں سمیت فضائی دفاعی مدد پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اور آبنائے ہرمز بھی ایجنڈے میں

ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورت حال اور آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت کی بحالی سے متعلق امور بھی زیرِ غور آ سکتے ہیں، عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے آبنائے ہرمز کو اہمیت حاصل ہے۔

AI میں برطانیہ و امریکا کا تعاون

برطانیہ اور امریکا کے درمیان مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کے شعبے میں تعاون بھی ملاقات کا ایک اہم موضوع ہو گا، مجوزہ تعاون کا مقصد اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہے۔

اختلافات کے باوجود عملی تعاون کی کوشش

برنہم اور ٹرمپ کے درمیان متعدد سیاسی اور خارجہ پالیسی معاملات پر اختلافات موجود ہیں، تاہم برطانوی وزیرِاعظم کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عملی تعاون کے لیے مشترکہ بنیاد تلاش کی جا سکتی ہے۔

ملاقات کو برطانیہ اور امریکا کے درمیان مستقبل کے تعلقات، دفاعی تعاون اور عالمی مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید