چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت نیشنل جوڈیشل آٹومیشن کمیٹی اجلاس میں عدالتی ای فائلنگ کے لیے یکساں نظام متعارف کروانے پر غور کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق ابتدائی مرحلے میں فیملی مقدمات میں ای فائلنگ پائلٹ بنیادوں پر شروع کی جائے گی، تمام صوبوں اور اسلام آباد کی منتخب عدالتوں میں ای فائلنگ کا پائلٹ منصوبہ شروع ہوگا، ہر مقدمےکو منفرد شناخت دینے کے لیے’’ون کیس، ون آئیڈینٹیٹی‘‘منصوبہ زیر غور ہے۔
ای فائلنگ کے لیے ملک بھر میں ایک ہی جامع ٹیمپلیٹ اپنانے کی تجویز دی گئی، ای فائلنگ نظام ججوں، وکلا، عدالتی عملے اور سائلین کے لیے آسان بنانے پر زور دیا گیا، جبکہ اجلاس میں کمیٹی ارکان کو ای فائلنگ ٹیمپلیٹ پر دو ہفتوں میں تجاویز دینے کی ہدایت کی گئی۔
عدالتی اعداد و شمار کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ کے لیے ڈیش بورڈ کا جائزہ لیا گیا، جیل خانہ جات سے عدالتی ڈیٹا ایک ماہ تاخیر سے ملنے پر اظہار تشویش کیا گیا۔
اجلاس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس اعظم خان نے شرکت کی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سلطان تنویر احمد اور جسٹس خالد اسحاق، سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد فیصل کمال عالم اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری آن لائن اجلاس میں شریک ہوئے۔
اعلامیے کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کےجسٹس وقار احمد اور جسٹس محمد فہیم ولی، بلوچستان ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت علی رخشانی اور جسٹس گل حسن ترین نے بھی آن لائن اجلاس میں شرکت کی۔