• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی تاریخ صرف قلعوں، بادشاہوں، جنگوں اور سیاسی تحریکوں کی تاریخ نہیں، یہ پانی کی تاریخ بھی ہے۔ دریائے سندھ کے بہاؤ نے اس دھرتی کو زندگی دی، اس کے کناروں پر بستیاں آباد ہوئیں، کھیت سرسبز ہوئے، تہذیب نے جنم لیا اور جھیلوں نے نسلوں کو رزق دیا۔ اسی لیے ایک سندھی کیلئے پانی محض قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ اپنی سرزمین، شناخت، معیشت اور آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔ آج جب ہم کینجھر، منچھر اور کراچی کو دیکھتے ہیں تو بظاہر یہ تین مختلف نام دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ سندھ کے ایک ہی دکھ کے تین چہرے ہیں۔کینجھر صرف ٹھٹہ کی جھیل نہیں۔ یہ نوری اور جام تماچی کی محبت کی امین، سندھ کی لوک دانش کی علامت اور کراچی کی پیاس بجھانے والے اہم آبی ذرائع میں سے ایک ہے۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے جس نوری کو عزت اور عاجزی کی علامت بنایا، آج اسی نوری کی جھیل ہم سے اپنی حفاظت کا سوال کررہی ہے۔ ہم کینجھر سے پانی لیتے رہے، مگر کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا کہ کینجھر کو زندہ رکھنے کے لیے ہم نے کیا کیا؟

یہ سوال کسی شہر کے خلاف نہیں۔ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے، اس دھرتی کا سب سے بڑا شہر اور لاکھوں محنت کش خاندانوں کا گھر ہے۔ کراچی کا ہر شہری، خواہ وہ کوئی بھی زبان بولتا ہو، صاف پانی کا حق رکھتا ہے۔ مگر کراچی کو پانی دینے کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کینجھر کے قدرتی وجود، ٹھٹھہ کے لوگوں یا مقامی ماہی گیروں کو نظرانداز کردیا جائے۔ہمیں اصل ضرورت ایسا منصفانہ نظام بنانے کی ہے جس میں کراچی بھی پیاسا نہ رہے اور کینجھر بھی زندہ رہے۔اور پھر منچھر ہے۔ کبھی سندھ کی عظیم جھیلوں میں شمار ہونے والی منچھر آج ہماری اجتماعی بے حسی کی گواہی دیتی ہے۔ اس جھیل کے پانی پر نسلوں سے ماہی گیر بستیاں آباد رہیں۔ کشتی ان کا گھر، جھیل ان کی زمین اور مچھلی ان کا رزق تھی۔ منچھر ان کیلئے صرف پانی نہیں تھی، ایک مکمل تہذیب تھی۔ جب پانی آلودہ ہوا، مچھلی کم ہوئی اور جھیل کا قدرتی توازن بگڑا تو صرف ماحول متاثر نہیں ہوا بلکہ انسانوں کی زندگیاں بھی اجڑیں۔

ہم سندھی اگر اپنی ثقافت پر فخر کرتے ہیں تو ہمیں خود سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ ثقافت آخر ہے کیا؟ کیا صرف اجرک پہن لینا، سندھی ٹوپی کا دن منالینا اور شاہ لطیف کے اشعار پڑھ لینا سندھ سے محبت کا مکمل اظہار ہے؟ اگر منچھر کا ماہی گیر اپنی آبائی جھیل چھوڑنے پر مجبور ہو، کینجھر کا پانی خطرات سے دوچار ہو اور سندھ کا کسان پانی کے لیے آسمان کی طرف دیکھتا رہے تو ہماری ثقافتی محبت ادھوری ہے۔

سندھی قوم پرستی کی اصل روح میرے نزدیک کسی دوسری قوم، زبان یا انسان سے نفرت نہیں۔ اس کی بنیاد اپنی دھرتی کے وسائل، تاریخی شناخت اور لوگوں کے جائز حقوق کی حفاظت ہونی چاہیے۔ سندھ سے محبت کا مطلب یہ ہے کہ کراچی کے بچے کو صاف پانی ملے، ٹھٹھہ کے ماہی گیر کا روزگار محفوظ ہو، منچھر کے کنارے رہنے والے خاندان کو اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے اور دریائے سندھ کا پانی سمندر تک پہنچ کر ڈیلٹا کو زندہ رکھ سکے۔

کراچی کی موجودہ آبی صورتحال بھی ایک تلخ سوال ہے۔ سمندر کے کنارے آباد اس عظیم شہر میں پانی ایک بنیادی شہری مسئلہ بن چکا ہے۔ کئی علاقوں میں لوگ پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ کہیں ٹینکر کا انتظار ہے، کہیں کم دباؤ کی شکایت اور کہیں پانی کے معیار پر سوالات ہیں۔ یہ صورتحال صرف کراچی کے شہری کی پریشانی نہیں بلکہ پورے سندھ کے انتظامی نظام کیلئے امتحان ہے۔ جس صوبے کے پاس دریائے سندھ، کینجھر، منچھر اور ایک وسیع ساحلی پٹی جیسا قدرتی ورثہ موجود ہو، وہاں دارالحکومت کے لوگوں کا صاف پانی کے لیے پریشان ہونا ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہونا چاہیے۔پانی کے مسئلے کو صرف نئی لائنیں بچھانے اور مزید منصوبے بنانے تک محدود نہیں رکھا جاسکتا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پانی کہاں ضائع ہورہا ہے، کہاں آلودہ ہورہا ہے، کہاں غیرقانونی استعمال ہورہا ہے اور کس مقام پر انتظامی کمزوری شہری کے حق کو متاثر کررہی ہے۔ کینجھر سے کراچی تک پانی کے معیار اور مقدار کی جدید ڈیجیٹل نگرانی ہونی چاہیے۔ نتائج عوام کے سامنے آنے چاہئیں تاکہ پانی کے نظام پر اعتماد قائم ہو۔

منچھر کے لیے بھی وقتی اقدامات کافی نہیں۔ جھیل میں داخل ہونے والے آلودہ پانی کی مستقل نگرانی، نکاسی کے نظام کی اصلاح، قدرتی بہاؤ کی بحالی، ماہی گیروں کے روزگار کا تحفظ اور پانی کی سائنسی جانچ ایک مسلسل ریاستی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ سب سے اہم بات یہ کہ منچھر کے بارے میں فیصلے صرف دفتروں میں بیٹھ کر نہ ہوں۔ ان لوگوں کو بھی میز پر جگہ ملنی چاہیے جن کی کئی نسلیں اس جھیل کے ساتھ پیدا ہوئیں اور وہیں بوڑھی ہوئیں۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سندھ کا آبی مسئلہ ٹکڑوں میں حل نہیں ہوسکتا۔ دریائے سندھ کمزور ہوگا تو کینجھر متاثر ہوگی، جھیلیں متاثر ہوں گی تو مقامی معیشت کمزور ہوگی، ڈیلٹا کو پانی نہ ملا تو سمندر زمین کی طرف بڑھے گا، اور کراچی کا نظام بہتر نہ ہوا تو آبادی کا دباؤ موجودہ وسائل کو مزید مشکل میں ڈالے گا۔ یہ ایک ہی زنجیر ہے جس کی ہر کڑی دوسری کڑی سے جڑی ہوئی ہے۔

سندھ نے ہمیشہ اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔ اس دھرتی نے مختلف زبانیں بولنے والوں کو اپنے شہروں میں جگہ، روزگار اور شناخت بنانے کا موقع دیا۔ اسی سندھ کو آج اپنے پانی کے لیے دانشمندانہ، مضبوط اور منصفانہ آواز کی ضرورت ہے۔

کینجھر کو صرف پانی کا ذخیرہ سمجھنے کی غلطی نہ کریں، منچھر کو صرف ایک جھیل اور کراچی کو صرف ایک شہر نہ سمجھیں۔ کینجھر ہماری یادداشت ہے، منچھر ہماری تہذیب اور کراچی ہمارے سندھ کا دھڑکتا ہوا دل۔ اگر جھیلیں مرگئیں اور پانی آلودہ ہوگیا تو نقشے پر سندھ ضرور باقی رہے گا، مگر وہ سندھ نہیں رہے گا جو ہمیں اپنے بزرگوں سے ملا تھا۔ آنے والی نسل ہم سے صرف یہ پوچھے گی کہ جب سندھ کی جھیلیں مدد مانگ رہی تھیں تو ہم کہاں تھے؟

تازہ ترین