صومالی قزاقوں کے قبضے میں قتل کیے گئے پاکستانی کاشف عمر کے بیٹے اذہان عمر نے کہا ہے کہ والد کی لاش کب تک پاکستان لائی جائے گی کچھ نہیں بتایا گیا۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو میں اذہان عمر نے کہا کہ والد سے آخری گفتگو 12 اگست کو سالگرہ کے موقع پر ہوئی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ والد کہتے تھے کہ یہ لوگ ہمیں مار دیں گے، وہی ہوا ان لوگوں نے میرے والد کو مار دیا۔ حکومت کی جانب سے ایک کال نہیں آئی، کسی نے رابطہ نہیں کیا۔
اذہان عمر نے یہ بھی کہا کہ جس کمپنی کے ساتھ گئے تھے انہوں نے بتایا کہ لاش وہیں موجود ہے۔ 2 دن کا مرحلہ ہے، لاش کب تک پاکستان لائی جائے گی کچھ نہیں بتایا گیا۔