خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کے باعث وفاقی حکومت گورنر راج یا ایمرجنسی کے دو آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی کیا ہوتی ہے؟ یہ کیسے نافذ ہوتی ہے؟ صوبائی حکومت اور اسمبلی کے اختیارات پر کیا اثر پڑتا ہے؟
آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت اگر جنگ، بیرونی جارحیت یا ایسا داخلی انتشار ہو جس پر قابو پانا صوبائی حکومت کے اختیار سے باہر ہو تو صدرِ مملکت ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں۔ ایمرجنسی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری ہے۔
اگر صدر ایمرجنسی نافذ کریں تو اس کی 10دن کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری لینا ضروری ہے۔ ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد وفاقی حکومت کو صوبے کے انتظامی معاملات میں اضافی اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں، جبکہ پارلیمنٹ صوبے کے ان معاملات پر بھی قانون سازی کرسکتی ہے جو عام حالات میں صوبائی دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔
ایمرجنسی کے دوران صوبائی اسمبلی قانون سازی کا اپنا اختیار برقرار رکھتی ہے، تاہم وفاقی حکومت کو صوبائی انتظامیہ اور قانون سازی کے حوالے سے اضافی اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں۔
گورنر راج صوبے کے انتظامی اور آئینی اختیارات کو براہِ راست وفاق کے سپرد کرنے کا عمل ہے۔ یہ آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب صوبہ اپنی آئینی ذمہ داریاں احسن طور نبھانے میں ناکام ہو جائیں تو گورنر راج لگ سکتا ہے۔
گورنر راج کے دوران صوبائی اسمبلی کے اختیارات قومی اسمبلی اور سینیٹ کو تفویض کردیے جاتے ہیں اور تمام انتظامی اختیارات براہِ راست گورنر کو حاصل ہو جاتے ہیں۔ گورنر صدر مملکت کو صوبے میں گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ گورنر راج کی منظوری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے لی جاتی ہے جس کی زیادہ سے زیادہ مدت 6 ماہ ہے۔
پاکستان کی تاریخ میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی مثالیں موجود ہیں۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج تین مرتبہ 1975، 1994 اور 1999 میں نافذ کیا گیا تھا۔