پاکستان میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی ایسا المیہ ہے جس پر خاموش رہنا اپنے ضمیر کو قید کر نے کے مترادف ہے، پاکستان میں بچوں کیساتھ زیادتی، بد فعلی، اغوا، تشدد اور قتل کے کیسوں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ آئے روز کسی کمسن بچے یا بچی کے ساتھ زیادتی کی خبر سامنے آ جاتی ہے اور ہم چند دن بعد ان خبروں کو سنسنی سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔اس مسئلے کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کی کوشش نہیںکرتے۔ساحل (Sahil ) پاکستان میں بچوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کیلئے کام کرنے والی ایک معروف غیرسرکاری تنظیم ہے جو خاص طور پر بچوں کیساتھ ہونیوالے جنسی استحصال کیخلاف آواز اٹھاتی ہے۔
اسکی رپورٹ کے مطابق 2025ء میں بچوں سے زیادتیوں کے واقعات کی تعداد 3630تھی جو 2024ء کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے لیکن غیر سرکاری اندازے کے مطابق یہ تعداد 7608 کے قریب پہنچ چکی ہے۔ان میں بہت ساری تعداد ان لوگوں کی بھی ہے جو عزت کے خوف یا مخالفین کے اثر رسوخ کی وجہ سے نہ عدالتوں اور نہ ہی تھانوں کا رخ کرتے ہیں اور خاموش رہتے ہیں۔ اندازاً روزانہ9یا 10بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیس ہو رہے ہیں جن میں بچیوں کی تعداد 53فیصد اور بچوں کی 47فیصد ہے ۔
سب سے زیادہ جو بچے تشدد کا نشانہ بنتے ہیں انکی عمریں 11سے 15سال ہیں ۔ اس وقت صوبہ پنجاب73 فیصد، سندھ21فیصد، کے پی کے4 فیصد، بلوچستان اور اسلام آباد میں 2فیصد بچوں کیساتھ زیادتی کے کیس سامنے آرہے ہیں اور ان میں سے تقریباً 7110 بچے اغوا ،596 بدفعلی ، 522 ریپ ، 365 گمشدہ ، 195 کے ساتھ ریپ کی کوشش ،100سے گینگ ریپ اور58بچوں کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا۔ 1667کیسز میں مجرم جان پہچان والا ،قریبی یا ایسا شخص تھا جسکے بارے میں آپ تصور بھی نہیں کر سکتے کہ یہ آدمی آپ کے بچوں کے ساتھ زیادتی کر سکتا ہے۔ عدالتی انصاف کی طرف آئیں تو بدقسمتی سے2025ء میں صرف 12کو سزا ملی، جنسی زیادتی کے 717کیسوں میں کسی کو سزا نہیں ملی اور 12افراد کو بری کر دیا گیا۔ اس وقت پاکستان میں سزا کی شرح اعشاریہ دو سے ایک فیصد ہے یعنی 100میں سے 99مجرم بری ہو جاتے ہیں۔
یہ ضرور ہے کہ امریکہ اور یورپ جیسے ممالک میں بھی بچوں کے ساتھ زیادتی کے کیس سامنے آتے ہیں لیکن وہاں قانون اور انصاف کی عملداری کی وجہ سے سزا کی شرح تقریباََ 50فیصد سے زیادہ ہے اوراس کی وجہ سے جنسی زیادتی کے کیسز کی تعداد میں روز بروز کمی ہوتی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سےپاکستان میں 2026ء میںپہلے چھ مہینے کی ساحل کی رپورٹ کے مطابق 2025ء کے مقابلے میں زیادہ کیسز رجسٹرڈ ہو چکے ہیں ۔ پاکستان میں اس وقت جنسی تشدد کے خلاف بڑے اچھے قانون بنے ہوئے ہیں مگر ان پر سست عملدرآمد کی وجہ سے لوگوں کا اعتماد انصاف کے نظام پر ختم ہوچکا ہے اور جنسی تشدد کے کیسز میں ہر سال اضافہ ہورہا ہے ۔
آج کل اینٹی ریپ بل2021ءدفعہ 376اور 377کا اضافہ ہوا ہےجس میں ڈی این اے ٹیسٹ کو لازمی اور متاثرہ بچے کی شناخت ظاہر کرنا جرم قرار دیا گیا جسکی سزا تین سال ہے ، ایف آئی آر کو دو گھنٹے میں درج کرانے کا حکم دیا گیا، 14 دن کا ٹرائل مکمل کرنے اور عدالت کو 30دن سے لیکر چار ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا لیکن بد قسمتی سے زیادہ تر جنسی تشدد کے کیسز زیر التوا ہیں ۔ یونیسیف نے2026ء میں پاکستان میں ایک تحقیق کی اور بتایا کہ پاکستان میں 12سے 17سال کی عمر کے انٹرنیٹ استعمال کرنے والے بچے جنسی زیادتی، استحصال یا تشدد کا کسی نہ کسی شکل میں شکار ہوئے اوریہ تعداد تقریباً پندرہ لاکھ کے قریب ہے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک سے بچوں کے جنسی تشدد کے واقعات ختم کیے جائیں تو پہلے تو ہمیں عدالتی نظام کو مضبوط بنانا ہوگا، لوگوں کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال کرنا ہوگا۔
مقاررقررہ وقت میں ایف آئی آر، ٹرائل اور مقدمات کا فیصلہ ہونا چاہئے، سزاؤں پر جلد عملدرآمد ہونا چاہئے اور ایسے مجروں کو سرعام پھانسی یا کوڑے لگائے جائیں تاکہ لوگوں کو اس سے سبق حاصل ہو۔ دوسرا پولیس اور تفتیشی اداروں میں ایسے اہلکار بھرتی کریں جو بچوں کے جنسی جرائم کے متعلق تحقیقات کی خصوصی تربیت حاصل کر چکے ہوں۔ تیسرا ہسپتال اور فرانزک کے نظام کو مضبوط بنایا جائے اور زیادہ سے زیادہ فرانزک کے ادارے بنائے جائیں تاکہ شواہد بروقت اور درست رکھتے ہوئے محفوظ کیے جا سکیں۔ چوتھا یہ کہ بچوں سے پوچھ گچھ کیلئے تربیت یافتہ ماہرین اور فرینڈلی چائلڈ کے طریقے کو اپنایا جائے۔ پانچواں تعلیمی اداروں اور گھروں میں بچوں کو عمر کے مطابق گڈ ٹچ بیڈ ٹچ کا بتایا جائے۔ چھٹی بات، والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کی بات سننا اور اس کے ساتھ دوستی کرنا اور فوری مدد فراہم کرنا اب ضروری ہو گیا ہے۔ ساتواں آن لائن پلیٹ فارمز اور متعلقہ ریاستی اداروں کو بچوں کے ڈیجیٹل تحفظ کیلئے زیادہ موثر نظام بنا نا ہوگا کیونکہ خطرہ اب صرف جسمانی دنیا تک محدود نہیں رہا بلکہ آرٹیفشل انٹیلی جنس نے بھی خطرناک صورتحال اختیار کرلی ہے۔ آٹھواں میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے پروگرام پیش کرے اور ایسی آواز بلند کرے کہ جب کوئی واقعہ ہو تو اس کے مجرموں کو جلد سے جلد سزا ملے ۔