• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی تاریخ میں قوموں کی ترقی کا راز صرف قدرتی وسائل میں نہیں چھپا۔ جاپان کے پاس تیل نہیں تھا، سنگاپور کے پاس وسیع رقبہ نہیں تھا، جنوبی کوریاکےپاس نہ معدنی دولت کی فراوانی تھی نہ زرعی وسعت ان ممالک نے علم، نظم، محنت، برآمدات، ٹیکنالوجی اور مستقل معاشی پالیسی کو اپنا راستہ بنایا ۔ چند دہائیوں میں دنیا کے اہم معاشی مراکز میں شمار ہونے لگے۔ چین نے کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا تو اسکے پیچھے طویل المدت منصوبہ بندی، صنعتی پیداوار، برآمدات اور انفراسٹرکچر میں مسلسل سرمایہ کاری تھی۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کیوں اپنی صلاحیت کے مطابق آگے نہ بڑھ سکا اور اب وہ کون سا راستہ اختیار کرےکہ معیشت اپنے قدموں پر کھڑی ہوسکے؟

پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ وسائل کے استعمال کی کمزوری ہے۔ ہمارے پاس زرخیز زمین، دریاؤں کا نظام، معدنی ذخائر، سمندری ساحل، نوجوان آبادی، صنعت، زراعت اور ایک وسیع اندرونی منڈی موجود ہے۔ اس کے باوجود ہماری معیشت بار بار بیرونی قرض، امداد اور مالیاتی بحران کے چکر میں پھنس جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پیداوار سے زیادہ کھپت کو اہمیت دی، برآمدات سے زیادہ درآمدات کو بڑھنے دیا اور طویل المدت معاشی منصوبہ بندی کے بجائے فوری ضرورتوں کو ترجیح دی۔

دنیا کی کامیاب معیشتوں نے ایک بنیادی اصول سمجھا کہ قوم کی حقیقی دولت وہ ہوتی ہے جو وہ پیدا کرتی ہے۔ پاکستان کو بھی یہی اصول اپنانا ہوگا۔ ہم کب تک ایسی معیشت چلاتے رہیں گے جس میں درآمدی اشیا کی طلب بڑھتی رہے، ڈالر کی ضرورت بڑھتی رہے اور پھر زرمبادلہ کی کمی پوری کرنے کیلئے قرض لینا پڑے؟ معاشی خود انحصاری کا آغاز اسی وقت ہوگا جب پاکستان اپنی پیداوار بڑھائے گا اور دنیا کو زیادہ سے زیادہ اشیا اور خدمات فروخت کرے گا۔

اس سلسلے میں برآمدات کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ ہماری ٹیکسٹائل صنعت اہم ہے لیکن پاکستان کو صرف چند روایتی مصنوعات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ آئی ٹی، سافٹ ویئر، انجینئرنگ، ادویات، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات، معدنیات، حلال خوراک، گوشت، پھل، سبزیاں اور ویلیو ایڈڈ زرعی مصنوعات میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ ہمیں خام مال بیچنے کے بجائے تیار مصنوعات فروخت کرنا ہوں گی۔ دنیا میںوہی ملک زیادہ کماتاہے جو اپنی محنت اور خام مال کو زیادہ قدر والی مصنوعات میں تبدیل کرتا ہے۔

یہاں ہماری ایک بڑی کمزوری سامنے آتی ہے۔ پاکستان میں صنعتکار کو توانائی مہنگی ملتی ہے۔ کاروباری قوانین پیچیدہ ہیں۔ٹیکس نظام غیر یقینی ہے اور پالیسیوں کا تسلسل ہمیشہ برقرار نہیں رہتا۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پیداواری لاگت بڑھ جاتی ہے اور ہماری مصنوعات عالمی منڈی میں مقابلے کے قابل نہیں رہتیں۔ اگر حکومت واقعی برآمدات بڑھانا چاہتی ہے تو صنعت کو صرف اعلانات نہیں بلکہ سستی اور قابلِ اعتماد توانائی، آسان ٹیکس نظام، تیز رفتار اجازت نامے، بہتر انفراسٹرکچر اور طویل المدت پالیسی فراہم کرنا ہوگی۔توانائی کا مسئلہ ہماری معیشت کی شہ رگ سے جڑا ہوا ہے۔ بجلی مہنگی ہوگی تو صنعت مہنگی پیداوار کرے گی، صنعت مہنگی ہوگی تو برآمدات متاثر ہوں گی، برآمدات کم ہوں گی تو ڈالر کی آمد گھٹے گی اور پھر روپے پر دباؤ بڑھے گا۔ اسلئے بجلی کے نرخ بڑھا کر ہر بار گردشی قرضے کا بوجھ عوام پر منتقل کرنا مستقل حل نہیں۔ بجلی چوری، لائن لاسز، ناقص انتظام، غیر مؤثر تقسیم کار کمپنیوں اور توانائی کے شعبے کے مالی مسائل کو بنیادی سطح پر حل کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اپنے مقامی توانائی کے وسائل، شمسی توانائی، پن بجلی اور دیگر قابلِ عمل ذرائع سے سستی توانائی پیدا کرنے کی جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

زراعت ہماری معیشت کا دوسرا بڑا امکان ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اب بھی بڑی حد تک روایتی طریقۂ کاشت پر انحصار کرتے ہیں۔ دنیا میں جدید زراعت پانی کی بچت، بہتر بیج، زرعی تحقیق، مشینی کاشت، موسمی معلومات، ڈیجیٹل مارکیٹ اور فوڈ پروسیسنگ کے ذریعے زیادہ پیداوار حاصل کر رہی ہے۔ پاکستان کو بھی کسان کو صرف فصل اگانے تک محدود رکھنے کے بجائے اسے پوری ویلیو چین کا حصہ بنانا ہوگا۔ اگر ہمارے آم، کینو، چاول، کھجور، سبزیاں، گوشت اور دیگر زرعی مصنوعات عالمی معیار کے مطابق تیار، محفوظ اور برآمد ہوں تو زرعی شعبہ ملکی معیشت میں کہیں بڑا کردار ادا کرسکتا ہے۔ زراعت کے ساتھ پانی کا مسئلہ بھی جڑا ہوا ہے۔ پانی کے استعمال میں اسی طرح ضیاع جاری رہا تو آنے والے برسوں میں زراعت مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔ جدید آبپاشی، پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت، بارانی علاقوںکیلئے مناسب منصوبہ بندی اور فصلوں کے انتخاب میں سائنسی اصولوں کو اپنانا ہوگا۔

پاکستان کی ایک اور بڑی کمزوری انسانی وسائل کا کم استعمال ہے۔ ہمارے ہاں لاکھوں نوجوان ہر سال روزگار کی تلاش میں نکلتے ہیں لیکن تعلیم اور مارکیٹ کی ضرورت کے درمیان فاصلہ برقرار ہے۔ دنیا کی معیشت مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، سافٹ ویئر، ڈیجیٹل تجارت اور جدید انجینئرنگ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اگر ہمارے نوجوان ان شعبوں میں تربیت حاصل کریں تو پاکستاں اپنی بے روزگاری کم نہیں کرسکتا دنیا بھر سے زرمبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ آئی ٹی اور فری لانسنگ ہمارے لیے یہ موقع پہلے ہی پیدا کرچکے ہیںضرورت صرف اسے بڑے پیمانے پر منظم کرنے کی ہے۔یہاں تعلیم کا معیار فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں ایسی تعلیم چاہیے جو ملازمت کے متلاشی افراد پیدا نہ کرے ، ہنر مند، محقق، صنعت کار اور تخلیق کار پیدا کرے۔بہرحال کمزورمعیشت ہمارے لئے ایک ایسا المیہ ہے کہ جس سے ہرصورت ہمیں مسلسل محنت اور طویل المدت منصوبوں کے ذریعے نمٹنا ایک ضروری امرہے۔

تازہ ترین