• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ کی تاریخ صرف حکمرانوں، جنگوں، قلعوں اور سیاسی تحریکوں کی تاریخ نہیں۔ یہ ان گمنام انسانوں کی تاریخ بھی ہے جنہوں نے اپنی محنت، قربانی اور مزاحمت سے اس دھرتی کے اجتماعی شعور کو تشکیل دیا۔ ان کرداروں میں سندھ کی عورت کا مقام بہت بلند ہے۔ کبھی وہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری میں ماروی بن کر اپنی مٹی سے وفاداری کا استعارہ بنتی ہے، کبھی سسی بن کر جدوجہد اور جستجو کی علامت، اور کبھی مائی بختاور بن کر ظلم اور معاشی ناانصافی کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہے۔ مائی بختاور کی کہانی دراصل ایک عورت کی نہیں، سندھ کی اس پوری روایت کی کہانی ہے جس میں عزت، زمین، محنت اور حق کے لیے سر جھکانے کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دی گئی۔

مائی بختاور کسی رئیس گھرانے سے تعلق نہیں رکھتی تھیں۔ ان کے پاس نہ سیاسی عہدہ تھا، نہ دولت، نہ کوئی حکومتی طاقت۔ وہ سندھ کے عام ہاری طبقے کی نمائندہ تھیں، وہ طبقہ جس کے ہاتھ زمین سے فصل نکالتے تھے لیکن اپنی ہی محنت کے منصفانہ حصے کیلئے طاقتور طبقوں کے سامنے آواز اٹھانا پڑتی تھی۔ یہی ان کی عظمت ہے۔ تاریخ میں بہت سے لوگ اقتدار کی وجہ سے یاد رکھے جاتے ہیں، مگر مائی بختاور کو سندھ اسلئے یاد رکھتا ہے کہ انہوں نے بے اختیاری کے باوجود اپنے حق سے دستبردار ہونے سے انکار کردیا۔

جون 1947ءمیں جھڈو کے علاقے میں ہاریوں کی جدوجہد اپنے اہم مرحلے میں تھی۔ ہاری اپنی پیداوار میں منصفانہ حصے کے مطالبے کے لیے منظم ہورہے تھے۔ اسی دوران فصل اٹھانے کے معاملے پر پیدا ہونے والے تنازع میں مائی بختاور نے مزاحمت کی اور 22جون 1947ءکو جان سے گئیں۔ ان کی موت نے انہیں سندھ کی ہاری تحریک اور محنت کش عورت کی مزاحمت کی ایک مستقل علامت بنا دیا۔ تاریخ کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آزادی کا مفہوم صرف بیرونی حکمرانی سے نجات نہیں، بلکہ معاشی اور سماجی انصاف بھی ہے۔

مائی بختاور کی قربانی کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھ کر سال میں ایک مرتبہ یاد کرنا کافی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جس حق کے لیے انہوں نے آواز اٹھائی، کیا آج سندھ کی محنت کش عورت کو وہ حق حاصل ہے؟

ہمارے دیہات میں آج بھی عورت کھیت میں کام کرتی ہے، کپاس چنتی ہے، فصل سنبھالتی ہے، مویشی پالتی ہے، گھر چلاتی ہے اور بچوں کی پرورش کرتی ہے۔ اس کے باوجود اس کی محنت اکثر باقاعدہ معاشی شناخت حاصل نہیں کرپاتی۔ اگر ہم واقعی مائی بختاور کے وارث ہیں تو ہمیں سندھ کی موجودہ ہاری اور مزدور عورت کو بھی اسی احترام سے دیکھنا ہوگا۔

سندھ کی تہذیبی روایت میں عورت کبھی کمزور کردار نہیں رہی۔ شاہ عبداللطیف بھٹائی نے اپنی شاعری میں عورت کو مرکزی مقام دے کر صدیوں پہلے ایک غیرمعمولی پیغام دیا تھا۔ ماروی محل کی آسائش کے مقابل اپنی مٹی اور اپنے لوگوں کو ترجیح دیتی ہے۔ سسی مشکل راستوں سے خوفزدہ نہیں ہوتی۔ سوہنی دریا کی موجوں کے سامنے اپنے ارادے سے دستبردار نہیں ہوتی۔

یہ کردار محض عشقیہ داستانوں کی ہیروئنیں نہیں بلکہ سندھ کے اجتماعی مزاج کی علامتیں ہیں۔ مائی بختاور نے اسی جذبے کو حقیقی زندگی میں اپنے خون سے لکھ دیا۔لیکن سندھ سے محبت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کی خامیوں پر خاموش نہ رہیں۔ آج بھی سندھ کے کئی علاقوں میں بچیوں کی تعلیم، خواتین کی صحت، معاشی خودمختاری، وراثتی حقوق اور فیصلہ سازی میں شرکت جیسے معاملات توجہ چاہتے ہیں۔ اپنی ثقافت سے محبت کا مطلب ہر سماجی روایت کا دفاع نہیں۔ جو روایت ہماری بیٹی کو تعلیم سے روکے، اسے بدلنا ہوگا۔ جو سوچ عورت کو معاشی اختیار سے محروم رکھے، اسے چیلنج کرنا ہوگا۔ مائی بختاور کی زندگی کا سبق ہی یہ ہے کہ ناانصافی کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو، اسے معمول سمجھ کر قبول کرنا ضروری نہیں۔

سندھی قوم پرستی کا خوبصورت اور مثبت تصور بھی یہی ہونا چاہیے۔ سندھ سے محبت کسی دوسرے صوبے، زبان یا قوم سے نفرت کا نام نہیں۔ اپنی زبان، ثقافت، تاریخ، وسائل اور آئینی حقوق سے محبت ایک فطری احساس ہے، اور یہی احساس پاکستان کے وفاق کو مضبوط کرسکتا ہے۔ پاکستان کسی ایک رنگ کا نام نہیں۔ یہ سندھ، پنجاب، بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر خطوں کی تاریخی شناختوں سے مل کر بننے والا وفاق ہے۔ صوبے مضبوط ہوں گے، ان کے لوگ مطمئن ہوں گے اور ان کی ثقافتیں محفوظ ہوں گی تو پاکستان بھی زیادہ مضبوط ہوگا۔

سندھ کی عورت کی ترقی بھی اسی قومی ترقی کا حصہ ہے۔ تھر کی ایک بچی ڈاکٹر بنتی ہے تو یہ صرف تھر یا سندھ کی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی کامیابی ہے۔ بدین کی ہاری عورت معاشی طور پر خودمختار ہوتی ہے تو ایک پاکستانی خاندان غربت سے نکلتا ہے۔ لاڑکانہ کی طالبہ سائنس دان بنتی ہے، خیرپور کی بیٹی کاروبار شروع کرتی ہے، حیدرآباد کی نوجوان عورت استاد بنتی ہے یا کراچی کی سندھی لڑکی ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھتی ہے تو پاکستان کا انسانی سرمایہ مضبوط ہوتا ہے۔ سندھی اور دوسری ملکی شناختیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں۔ ایک عورت بیک وقت اپنی دھرتی کی وفادار بیٹی اور ملک کی قابلِ فخر شہری ہوسکتی ہے۔

ہمیں مائی بختاور کو اپنی نصابی اور قومی تاریخ میں بھی وہ مقام دینا چاہیے جس کی وہ مستحق ہیں۔ نئی نسل کو بتایا جانا چاہیے کہ تاریخ صرف بڑے سیاسی رہنماؤں نے نہیں بنائی۔ کبھی کسی کھیت میں اپنے حق کے لیے کھڑی ایک غریب عورت بھی تاریخ کا رخ متعین کردیتی ہے۔ ہماری بیٹیوں کو ایسی خواتین کے بارے میں پڑھنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ سندھ کی عورت ہمیشہ کسی کے فیصلے کی منتظر نہیں رہی بلکہ ضرورت پڑنے پر خود فیصلہ کرنے کی جرأت بھی رکھتی رہی ہے۔

مائی بختاور کا اصل پیغام آج بھی زندہ ہے۔ وہ ہم سے پوچھتی ہیں کہ کیا محنت کرنے والے کو اس کا حق ملا؟ کیا ہاری عورت کو عزت ملی؟ کیا سندھ کی بیٹی کو تعلیم، صحت اور معاشی اختیار حاصل ہوا؟ ان سوالوں کا جواب صرف تقریروں اور یادگاری تقریبات سے نہیں دیا جاسکتا۔ جواب ہمیں اپنے عمل سے دینا ہوگا۔ جس دن سندھ کی ہر بیٹی بلاخوف تعلیم حاصل کرسکے گی، اپنی محنت کا پورا معاوضہ لے سکے گی اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرسکے گی، اس دن مائی بختاور کی قربانی کا حقیقی احترام ہوگا۔ ایک باوقار سندھی عورت ایک مضبوط سندھ کی بنیاد ہے، اور ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور خوش حال سندھ ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔

تازہ ترین