• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ویپنگ کرنے والوں کی تعداد سگریٹ نوشوں سے بھی بڑھ گئی

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

برطانیہ میں 10 لاکھ سے زائد ایسے افراد جنہوں نے کبھی سگریٹ نہیں پی، اب ویپنگ کر رہے ہیں، یہ تعداد 2024ء میں تقریباً 9 لاکھ 40 ہزار تھی۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 25 سے 35 سال کی عمر کے افراد کسی بھی دوسرے عمر کے گروپ کے مقابلے میں زیادہ ویپنگ کر رہے ہیں اور انہوں نے 16 سے 24 سال کی عمر کے افراد کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

اس عمر کے 16.4 فیصد افراد روزانہ یا کبھی کبھار ای سگریٹ استعمال کرتے ہیں، مسلسل دوسرے سال 16 سال سے زائد عمر کے افراد میں سگریٹ نوشی کے مقابلے میں ویپنگ کرنے والوں کی تعداد زیادہ رہی ہے۔

دوسری جانب برطانیہ میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد بھی مسلسل کم ہو رہی ہے اور اب تقریباً ہر 10 بالغ افراد میں سے صرف ایک سگریٹ نوشی کرتا ہے، یہ تعداد تقریباً 49 لاکھ بنتی ہے، جبکہ 2024ء میں سگریٹ نوش افراد کی تعداد 53 لاکھ تھی۔

دریں اثنا 16 سال سے زائد عمر کے تقریباً 74 لاکھ افراد ویپنگ کر رہے ہیں، جو سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد سے بھی زیادہ ہے۔

این ایچ ایس کے مطابق ویپنگ سگریٹ نوشی کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہے، تاہم اس کے طویل مدتی اثرات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔

این ایچ ایس کا کہنا ہے کہ جو افراد سگریٹ نوشی نہیں کرتے اور 18 سال سے کم عمر ہیں انہیں ویپنگ شروع نہیں کرنی چاہیے۔

برطانیہ میں نئے سال سے نافذ ہونے والی نئی قانون سازی کے تحت یکم جنوری 2009ء یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو قانونی طور پر تمباکو فروخت کرنے پر مستقل پابندی ہو گی، اس اقدام کا مقصد نئی نسل کو تمباکو کے استعمال سے دور رکھنا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید