• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تنسیخِ نکاح کی درخواست کو خاتون کی رضامندی کے بغیر خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ: فائل فوٹو
سپریم کورٹ: فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے تنسیخِ نکاح کی درخواست کو خاتون کی رضامندی کے بغیر خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی قرار دے دیا۔

سپریم کورٹ نےخلع کے مقدمہ میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف 2 خواتین کی اپیلوں پر فیصلہ جاری کیا، جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

عدالت  نے دو خواتین کے نکاحوں کی تنسیخ خلع کے بجائے شقاق کی بنیاد پر برقرار رکھتے ہوئے خلع کی بنیاد پر حق مہر واپس کرنے یا چھوڑنے کی ہدایات کالعدم قرار دیتے ہوئے دونوں مقدمات میں نان نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلے برقرار رکھے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ ظلم و زیادتی ثابت نہ ہونے پر عدالت خاتون کی جانب سے خود خلع کا انتخاب نہیں کر سکتی، خلع اور قانون کے تحت تنسیخِ نکاح الگ راستے ہیں، مالی نتائج بھی مختلف ہیں، غیر رضاکارانہ خلع کے ذریعے خاتون کو حق مہر سے محروم نہیں کیا جا سکتا، سنگین اور مسلسل ازدواجی اختلاف، مصالحت ناکام ہونا شقاق کی بنیاد بن سکتا ہے، شقاق مسلم قانون میں تسلیم شدہ بنیاد ہے، دفعہ 2 کی شق 9 کے تحت نکاح ختم ہوسکتا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ معمولی جھگڑے، مزاج کا اختلاف یا عارضی علیحدگی شقاق ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں، عدالت کو مطمئن ہونا ہوگا کہ ازدواجی اختلاف حقیقی، سنگین اور مسلسل ہے، نکاح ختم کرنے سے پہلے با معنی عدالتی کوشش کے باوجود مصالحت ناکام ہونا ضروری ہے، شقاق کی بنیاد پر تنسیخِ نکاح خاتون کے حق مہر سے دست بردار ہونے پر منحصر نہیں، خلع کی بنیاد پر حق مہر واپس کرنے یا چھوڑنے کی ہدایات کالعدم قرار دی جاتی ہیں، دونوں مقدمات میں نان نفقہ اور جہیز کے سامان سے متعلق فیصلے برقرار رکھے گئے۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا کہ ظلم ثابت کیے بغیر شوہر کو ظالم قرار دینا بھی درست نہیں، خاندانی مقدمات میں دونوں فریقوں کے قانونی حقوق، عزت اور وقار کا تحفظ ضروری ہے۔

قومی خبریں سے مزید