• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نانا پاٹیکر کی موت کے بعد ان کے آخری تقریب میں کہے الفاظ خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے

نانا پاٹیکر—فائل فوٹو
نانا پاٹیکر—فائل فوٹو 

بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کی موت کے بعد ان کے آخری عوامی تقریب میں کہے گئے الفاظ میڈیا کی خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے۔ 

نانا پاٹیکر نے موت سے صرف 4 روز قبل گوا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زندگی کے فانی ہونے کے بارے میں بات کی تھی۔

نانا پاٹیکر نے 4 اکتوبر کو ساحلی علاقے ڈونا پاؤلا میں منعقدہ ’سمراٹ کلب انٹرنیشنل‘ کی تقریب میں شرکت کی تھی۔

انہوں نے اس تقریب سے خطاب کے دوران اپنے آنجہانی دوست اور گوا کے سابق وزیرِ اعلیٰ منوہر پاریکر کو یاد کرتے ہوئے زندگی کے بارے میں کہا کہ ہر انسان کو ایک دن دنیا سے جانا ہے اور مجھے نہیں معلوم کہ میں بھی کل تک زندہ ہوں گا یا نہیں۔

انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اہم یہ ہے کہ کیا انسان اپنی زندگی ختم ہونے سے پہلے وہ سب کچھ کر سکا جو وہ کرنا چاہتا تھا یا نہیں، اگر انسان کی زندگی صرف اس کے گھر والوں تک ہی محدود رہی تو پھر اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ ہم اس دنیا میں آئے ہیں تو کچھ نہ کچھ تو اچھا کر کے جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ نانا پاٹیکر آج صبح گوا میں اپنی رہائش گاہ پر بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹرز نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

اداکار کی موت دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے ہوئی، ڈاکٹرز نے ان کی جان بچانے کے لیے تقریباً 45 منٹ تک مسلسل سی پی آر دیا لیکن ان کی حالت میں بہتری نہ آئی اور وہ چل بسے۔

وشواناتھ پاٹیکر کے نام سے یکم جنوری 1951ء کو پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے 1978ء میں فلم ’گامن‘ سے ہندی سنیما میں قدم رکھا۔

انہوں نے ’پرندہ‘، ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’خاموشی: دی میوزیکل‘، ’اب تک چھپن‘ اور ’ویلکم‘ سمیت کئی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

نانا پاٹیکر کو اپنے فلمی کیریئر میں 3 نیشنل فلم ایوارڈز اور متعدد دیگر اعزازات ملے، جبکہ 2013ء میں انہیں بھارتی حکومت کی جانب سے پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید