ونسٹن چرچل سے منسوب ایک قول ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران انہوں نے پوچھا: ’’کیا ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں؟‘‘ جواب ملا: ’’جی ہاں۔‘‘ چرچل نے کہا: ’’پھر ہمیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔‘‘ یہ قول ذاتی تجربے کے بغیر شاید میرے لئے بھی ادھورا رہتا۔میں 1990ء کی دہائی میں لندن میں ایک پاکستانی بینک کی برانچ کا منیجر تھا۔ چارج سنبھالے چند روز ہوئے تھے کہ مسلم کمرشل بینک کے ہیڈ آفس سے خط موصول ہوا کہ گزشتہ پانچ برس میں انکے اکاؤنٹ سے تقریباً پانچ لاکھ پاؤنڈ جعلی لیٹرز آف کریڈٹ کے ذریعے ادا کئے گئے، مگر ہماری لندن برانچ نے کارروائی نہیں کی۔ میں نے فوری تحقیقات شروع کیں۔ بینک کے ایکسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کے انچارج اور اکاؤنٹس کی خاتون انچارج کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے۔ پولیس کو اطلاع دی گئی۔ دونوں گرفتار ہوئے اور مواد قبضے میں لے لیا گیا۔اگلے روز تفتیشی افسر نے بتایا کہ پولیس دونوں کے گھروں پر بھی گئی، متعلقہ مواد حاصل کیا اور انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ میں حیران ہوا کہ شواہد کے باوجود ضمانت کیسے ہو گئی۔ افسر نے سادگی سےکہاThey are innocent until proven guilty.یہ میرے لیے بھی نظامِ انصاف کا فلسفہ تھا۔ پولیس کے پاس شواہد ہو سکتے ہیں، مگر جرم ثابت کرنا عدالت کا کام ہے۔ دونوں کے پاسپورٹ ضبط کر لئے گئے تاکہ وہ فرار نہ ہو سکیں۔تحقیقات میں ایک بات نے مجھے متاثر کیا۔ بینک نے داخلی انکوائری شروع کی۔ جنرل منیجر یو کے نے اس کی صدارت کی اور میں بینک کی جانب سے وکیل کیساتھ موجود تھا۔ خاتون افسر نے بھی اپنے دفاع کا وکیل مقرر کیا۔ الزامات سے انکار کے بعد اسے وکیل کی مدد اور اپنے قانونی حقوق استعمال کرنیکا موقع دیا گیا۔ اس تجربے نے مجھے سمجھایا کہ مضبوط نظامِ انصاف کی خوبی صرف مجرم کو سزا دینا نہیں بلکہ ملزم کے حقوق کا تحفظ بھی ہے۔ الزام سنگین تھا، مگر اسے بھی وکیل اور دفاع کا مکمل حق حاصل تھا۔ فیصلہ شواہد اور ضابطے کے مطابق ہوا۔ اصل تفتیشی افسر چھٹی پر گیا تو ایک خاتون تفتیشی افسر نے کیس سنبھال لیا اور تحقیقات تسلسل سے جاری رکھیں۔ مجھے احساس ہوا کہ مضبوط ادارہ کسی ایک فرد کا محتاج نہیں ہوتا۔ نظام فرد سے بڑا ہوتا ہے۔ مقدمہ مڈل سیکس کراون کورٹ میں پہنچا تو یہ بات میرے لئے حیران کن تھی۔ بینک نے کوئی وکیل مقرر نہیں کیا تھا۔ یہ ریاست بنام ملزم کا مقدمہ تھا اور کیس ثابت کرنا پولیس کی ذمہ داری تھی۔پہلی دفعہ کسی عدالت میں پیش ہونے پر نروس تھا۔ سماعت سے آدھا گھنٹہ پہلے سرکاری پراسیکیوٹر نے مجھے فائل سمجھائی اور کہا کہ وہ گواہی کے دوران رہنمائی کرینگے۔ مجھے صرف سوال کا جواب دینا اور دستاویز کے بارے میں حقیقت بیان کرنی ہے۔عدالت میں جج نے مجھے قرآنِ مجید پر حلف اٹھانے کو کہا۔ جج نے وضاحت کی کہ میرے سامنے رکھا ہوا مائیکروفون صرف ریکارڈنگ ڈیوائس ہے۔ اسلئے میں قدرے بلند، مگر دھیمی، واضح اور متوازن آواز میں گفتگو کروں۔ میرے سامنے جیوری کے بارہ ارکان عام شہری تھے، جنہیں انتخابی فہرست سے منتخب کیا گیا تھا۔ یہ انصاف کے عمل میں عام شہریوں کی شرکت اور ریاست کا انکی فہم و فراست پر اعتماد تھا۔ پراسیکیوٹر نے میری گواہی آگے بڑھائی۔ اگلے روز دفاعی وکیل نے، جو ملزم کو قانونی امداد کے تحت فراہم کیا گیا تھا، مجھ پر جرح کی۔ میں نے محسوس کیا کہ ریاست کا مقصد صرف سزا دلوانا نہیں بلکہ منصفانہ مقدمہ چلانا بھی ہے۔ بالآخر ملزم کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ پاکستان واپسی پر میری مردان تعیناتی کے دوران ایک روز CPS کی طرف سے فون آیا کہ ملزم کی اپیل کے نتیجے میں مقدمہ اسی عدالت میں ریمانڈ ہوکر آیا ہے۔ مجھ سے لندن آکر گواہی دینے کی درخواست کی گئی اور میرے سفری و رہائشی اخراجات حکومتِ برطانیہ نے برداشت کیے۔ مقدمہ چلا اور سزا برقرار رہی۔ اس دفعہ جج اور جیوری مختلف تھے۔ اس واقعے نے میرے سامنے قانون کی حکمرانی کی بنیادی خصوصیات واضح کر دیں: شکایت پر فوری کارروائی، تفتیش میں ادارہ جاتی تسلسل، ملزم کے حقوق کا احترام، گواہ کے اخراجات کی ریاستی ذمہ داری اور مقدمے کو غیر ضروری التوا سے بچانے کی کوشش۔ سب سے بڑھ کر، مقدمہ شواہد کی بنیاد پر چلتا ہے، کسی بااثر شخص یا ادارے کی مرضی سے نہیں۔ برطانوی عدالت کی کارروائی کا حصہ بننا میری زندگی کا ایک بہت یادگار لمحہ تھا۔یہی انصاف پر مبنی معاشرے کی اصل طاقت ہے۔ مضبوط قوم صرف مضبوط فوج، بڑی معیشت یا بلند عمارتوں سے نہیں بنتی۔ وہ اس اعتماد سے بنتی ہے کہ زیادتی ہو تو ریاست ساتھ کھڑی ہوگی، بے گناہ کو سزا نہیں ملے گی اور بااثر شخص بھی قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔جس معاشرے میں شہری کو انصاف ملنے کا یقین ہو وہاں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ کاروبار پھیلتا، سرمایہ کاری آتی، معاہدوں کی پاسداری ہوتی اور معیشت ترقی کرتی ہے۔ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں قانون قابلِ اعتماد ہو۔ پاکستان میں بھی یہی قوانین موجود ہیں۔ مسئلہ قانون کا نہیں، اسکی بلاامتیاز اور مؤثر عملداری کا ہے۔