• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کے بعض واقعات بظاہر بہت معمولی ہوتے ہیں، مگر وقت گزرنے کے ساتھ وہ قوموں کی اجتماعی زندگی میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ 1994ء میں جب پاکستان کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کم سن بیٹی آصفہ بھٹو زرداری کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے تو شاید کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ یہ منظر آنے والی نسلوں کیلئے ایک تاریخی علامت بن جائیگا۔ ایک ماں اپنی بیٹی کو بیماری سے محفوظ بنا رہی تھی، جبکہ ایک وزیراعظم پوری قوم کو صحتمند مستقبل کا راستہ دکھا رہی تھی۔بے نظیر بھٹو کی سیاست کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ انہوں نے عوامی فلاح کو محض معاشی امداد تک محدود نہیں رکھا بلکہ صحت، تعلیم اور خواتین کی سماجی شرکت کو بھی ریاستی ذمہ داری تصور کیا۔ پاکستان میں 1994 ء کی قومی انسدادِ پولیو مہم اسی سوچ کا ایک عملی اظہار تھی۔ اس وقت ملک میں پولیو ہزاروں بچوں کو متاثر کر رہا تھا اور حفاظتی ٹیکہ کاری کے بارے میں عوامی شعور بھی محدود تھا۔

آج تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد وہی آصفہ بھٹو زرداری، جنہیں بچپن میں اپنی والدہ کے ہاتھوں پولیو کے قطرے پلائے گئے تھے، اس بیماری کے خاتمے کی ایک نمایاں آواز بن چکی ہیں۔ یہ محض ایک سیاسی وراثت نہیں بلکہ ایک ایسی انسانی ذمہ داری ہے جسے انہوں نے اپنی عوامی زندگی کا حصہ بنایا ہے۔آصفہ بھٹو زرداری کی شخصیت کا اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے صحتِ عامہ جیسے نسبتاً کم توجہ حاصل کرنیوالے شعبے کو اپنی ترجیحات میں جگہ دی۔ عالمی اداروں کے ساتھ انکی وابستگی، انسدادِ پولیو کیلئے آگاہی اور والدین سے مسلسل اپیلیں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ اس مسئلے کو محض حکومتی مہم نہیں بلکہ بچوں کے بنیادی حق کے طور پر دیکھتی ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیاسی سفر میں عوامی صحت کا تصور ہمیشہ اہم رہا ہے۔ بے نظیر بھٹو کے دور میں لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام نے خواتین کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرنے کا موقع دیا۔ اس پروگرام نے معاشرے کے ان طبقات تک رسائی کی راہ ہموار کی جو روایتی طبی نظام سے دور تھے۔ دیہی خواتین کا اعتماد حاصل کرنا اور گھر کی دہلیز تک طبی آگاہی پہنچانا کسی بھی حفاظتی مہم کی کامیابی کے لیے ناگزیر ہے۔

تاہم پولیو کے خلاف جنگ کا اصل امتحان سیاسی بیانات نہیں بلکہ عملی نتائج ہیں۔ پاکستان نے اس بیماری پر قابو پانے میں نمایاں پیش رفت ضرور کی ہے، لیکن اس کا مکمل خاتمہ اب بھی ایک قومی چیلنج ہے۔ غربت، نقل مکانی، حفاظتی قطرے پلانے سے انکار، بعض علاقوں میں امن و امان کی صورتحال اور بنیادی سہولیات کی کمی اس جدوجہد کو پیچیدہ بناتے ہیں۔یہاں سندھ کی صورتحال خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کو صوبے میں طویل حکومتی تجربہ حاصل ہے، اسلئے پولیو کے خاتمے میں اس کی انتظامی ذمہ داری بھی زیادہ ہے۔ کراچی کی گنجان آبادیوں سے لیکر کشمور، تھرپارکر اور سندھ کے دور افتادہ دیہات تک ہر بچے کی حفاظتی ٹیکہ کاری یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ستمبر 2026ءکی انسدادِ پولیو مہم میں سندھ کے تیس اضلاع میں ایک کروڑ سے زائد بچوں کو حفاظتی قطرے پلائے گئے۔

یہ ایک اہم انتظامی کوشش ہے، لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب کوئی بچہ حفاظتی مہم سے محروم نہ رہے اور پولیو وائرس کی مقامی منتقلی مکمل طور پر رک جائے۔اس جدوجہد میں سب سے زیادہ خراجِ تحسین کی مستحق وہ خواتین ہیں جو اپنے گھروں سے نکل کر دوسروں کے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کیلئے گلیوں، بستیوں اور دور دراز علاقوں کا رخ کرتی ہیں۔ ان کی محنت، حوصلہ اور بعض مواقع پر جان کی قربانیاں پاکستان کی صحتِ عامہ کی تاریخ کا روشن باب ہیں۔ ریاست کا فرض ہے کہ ان کارکنوں کو تحفظ، مناسب معاوضہ اور پیشہ ورانہ عزت فراہم کرے۔

آصفہ بھٹو زرداری کے سامنے آج ایک اہم موقع موجود ہے۔ وہ اپنی عوامی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے انسدادِ پولیو کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ایک قومی اتفاقِ رائے میں تبدیل کرنے کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں۔ نوجوانوں، اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، مقامی نمائندوں اور خواتین کی تنظیموں کو اس مقصد کے لیے یکجا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔پیپلز پارٹی کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ بے نظیر بھٹو کی یاد کو محض تقاریر اور تصاویر تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے شروع کردہ صحتِ عامہ کے مشن کو قابلِ پیمائش نتائج تک پہنچائے۔ ہر ضلع میں ویکسین سے محروم بچوں کی نشاندہی، مستقل نگرانی، بنیادی مراکزِ صحت کی بہتری اور عوامی اعتماد کی بحالی اس سمت میں اہم اقدامات ہوسکتے ہیں۔

پولیو کے خاتمے کا سہرا کسی ایک جماعت یا شخصیت کے سر نہیں سجایا جاسکتا۔ یہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، عالمی اداروں، طبی ماہرین، والدین اور ہزاروں گمنام کارکنوں کی مشترکہ جدوجہد ہے۔ البتہ سیاسی قیادت کا کردار اسلئے اہم ہے کہ وہ اس قومی مقصد کو وسائل، تسلسل اور عوامی اعتماد فراہم کرسکتی ہے۔بے نظیر بھٹو نے اپنی بیٹی کو پولیو کے قطرے پلا کر جس سفر کا آغاز کیا تھا، آج آصفہ بھٹو زرداری اس تاریخی تسلسل کی ایک نمایاں نمائندہ ہیں۔ ماں نے ایک قومی مہم کی بنیاد رکھنے میں قیادت فراہم کی، اور بیٹی کے پاس اس مقصد کو آگے بڑھانے کا موقع ہے۔

قوموں کی اصل ترقی کا اندازہ بلند عمارتوں، شاہراہوں اور معاشی اعدادوشمار سے ہی نہیں بلکہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کتنی محفوظ زندگی فراہم کرتی ہیں۔جس دن پاکستان کا آخری بچہ بھی پولیو کے خطرے سے محفوظ ہوجائے گا، وہ دن صرف صحتِ عامہ کی فتح نہیں ہوگا بلکہ بے نظیر بھٹو کے خواب، آصفہ بھٹو زرداری کی جدوجہد اور لاکھوں پاکستانیوں کی مشترکہ محنت کی تاریخی کامیابی ہوگا۔

تازہ ترین