• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبر پختونخوا: محکمۂ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

—فائل فوٹو
—فائل فوٹو

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں صوبہ خیبر پختون خوا کے محکمۂ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق غیر قانونی کان کنی سے خیبر پختون خوا کو 8 ارب روپے کا نقصان پہنچا جبکہ نادہندہ ٹھیکیداروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات وصول نہ ہو سکے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی روکنے میں ناکامی سے 1 ارب 83 کروڑ روپے کا نقصان ہوا جبکہ معدنیات کے لیز ہولڈرز سے واجبات وصول نہ ہونے پر 81 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

آڈیٹر جنرل پاکستان کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں جوائنٹ وینچر منافع جمع نہ ہونے سے صوبے کو 58 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، اس کے علاوہ سرکاری اراضی کا کرایہ انتہائی کم وصول کرنے سے 14 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کے پی میں اسمال ڈیمز کے لیے مائننگ واجبات وصول نہ ہونے سے 53 کروڑ روپے کا نقصان ہوا، معدنیات کے ٹھیکے نہ دینے سے صوبے کو 25 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلع مردان میں رائلٹی کے بقایا جات وصول نہ ہونے سے 6 کروڑ 36 لاکھ روپے کا نقصان پہنچا۔

قومی خبریں سے مزید