• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سینیٹ نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی

 
فوٹو: فیس بک/ سینیٹ
فوٹو: فیس بک/ سینیٹ 

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی۔

 وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ منظوری کی قرارداد پیش کی، اپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی، اور سینیٹ سے واک آؤٹ کیا۔

چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر بحث کی گئی۔اس دوران وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر اپوزیشن کہتی ہے کہ بغیر بحث کے قرارداد پر ووٹ کروادیں تو میں کروا دیتا ہوں، کل بھی اس معاملے پر سینیٹ میں بات ہوئی۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ہم ایمرجنسی پر بحث جاری رکھیں گے، یہ آئینی ضرورت ہے، ہم نے ایمرجنسی نفاذ قرارداد کی کاپی ممبران کے ٹیبل پر رکھ دی ہے، اپویشن ارکان کی ایمرجنسی مسترد کرنے کی قرارداد آئی ہیں، حکومت جو قرارداد لائی ہے وہ آئینی تقاضا ہے۔

وزیر قانون نے کہا کہ اپوزیشن کی قرارداد ایوان میں پیش نہیں ہو سکتی،  حکومتی قرارداد کو اپوزیشن مسترد کردے۔

چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ میں معاملے پر دیگر ارکان کو سننا چاہتا ہوں۔

اس سے قبل قومی اسمبلی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری دے دی، ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کی گئی، قرار داد کی منظوری کی اپوزیشن نے مخالفت کی اور نعرے لگائے۔

کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی، قرارداد پر حکومت اور اپوزیشن اراکین نے چار گھنٹے سے زائد بحث کی۔

قومی خبریں سے مزید