• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں ہر چار منٹ بعد ایک گاڑی چور لے اڑتے ہیں

برطانیہ میں ہر چار منٹ بعد ایک گاڑی چوری ہو رہی ہے، ہوم آفس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق، انگلینڈ اور ویلز میں گاڑیوں کی چوری کے واقعات ایک دہائی قبل کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد بڑھ چکے ہیں، جبکہ گزشتہ برس گاڑیوں کی چوری کے صرف 3 فیصد واقعات میں فردِ جرم عائد کی گئی یا ملزم کو عدالت میں پیش ہونے کا نوٹس جاری کیا گیا۔

میڈیا میں شائع ہونے والی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پولیس فورسز کے پاس گاڑیوں سے متعلق جرائم سے نمٹنے کے لیے مہارت اور تجربہ تو موجود ہے، لیکن عملے پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے اور وسائل ناکافی ہیں، اس کے باعث پولیس تیزی سے جدید ہوتے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا مقابلہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہے، جس سے گاڑی چوروں کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماضی میں گاڑیوں کی چوری کی بیشتر وارداتیں محض تفریح یا موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے کی جاتی تھیں، لیکن اب یہ ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے۔

 پولیس کے مطابق، گاڑیاں مخصوص آرڈر پر بھی چوری کی جاتی ہیں، بہت سی گاڑیاں متحدہ عرب امارات، جمہوریہ کانگو اور جمیکا جیسے ممالک بھیج دی جاتی ہیں، جبکہ بعض گاڑیوں کو غیر قانونی ورکشاپس، جنہیں ’’چاپ شاپس‘‘ کہا جاتا ہے، میں چند گھنٹوں کے اندر کھول کر ان کے پرزے الگ کر دیے جاتے ہیں۔

ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے جرائم پیشہ گروہوں کے سرغنوں کو گرفتار کرنا ضروری ہے۔

گاڑیوں کی چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے باعث 2021 کے بعد سے برطانیہ میں گاڑیوں کی انشورنس کے نرخوں میں 82 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید