آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
اگر آپ دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کی کامیابیوں کا جائزہ لیں تو دو چیزیں سامنے آتی ہیں۔ ایک اُن کے ویژنری لیڈرز اور دوسرے اُن کے طویل المیعاد ترقیاتی منصوبے جس میں وہ ملک کے جغرافیائی محل وقوع، قدرتی وسائل اور افراد کی ہنرمندی کو ذہانت اور منصوبےکے ساتھ استعمال میں لاکر اپنے ملک کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لاکھڑا کرتے ہیں۔ چین، کوریا، ملائیشیا، ترکی، انڈیا اور سنگاپور اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ میں نے اپنے کئی کالموں میں تحریر کیا ہے کہ لیڈر قوموں کی قسمتیں بدلتے ہیں اور وہی قوموں کو تباہی و تنزلی کی طرف لے جاتے ہیں۔ سابق عراقی صدر صدام حسین، لیبیا کے کرنل معمر قذافی اور شام کے صدر بشار الاسد وہ لیڈرز ہیں جن کی انا پسندی پر مبنی فیصلوں سے آج یہ ممالک تنزلی اور خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہیں۔ پاکستان کو بھی اللہ تعالیٰ نے قائداعظم محمد علی جناح، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو جیسے عالمی پائے کے ویژنری لیڈرز عطا کئے لیکن قیام پاکستان کے بعد بابائے قوم کی زندگی نے وفا نہیں کی اور وہ تمام منصوبے جن کا انہوں نے قوم کیلئے خواب دیکھا تھا، پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کو پاکستان اور اسلام دشمن قوتوں نے راستے سے ہٹادیا لہٰذا ہم ترقی کی دوڑ

میں اتنے آگے نہیں پہنچ سکے جو ہمارا حق بھی تھا اور منصب بھی۔ امن و امان اور سیاسی عدم استحکامی کی وجہ سے ملک بے یقینی کا شکار ہے جو بیرونی سرمایہ کاری کیلئے حوصلہ افزاء نہیں۔
گزشتہ دنوں کراچی میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ایک ملاقات کے دوران میں نے ان سے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آپ کے دور حکومت میں جب چیف جسٹس کی بحالی کیلئے لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب گامزن تھا تو آپ کے کیا تاثرات تھے؟ انہوں نے بتایا کہ میرے ذاتی معالج ڈاکٹر کیانی نے کئی بار میرا بلڈ پریشر چیک کرنے کے بعد مجھے بتایا کہ آپ کا بلڈ پریشر بالکل نارمل ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ پر کوئی ذہنی دبائو نہیں جس پر میں نے اپنے معالج سے کہا کہ میں ذہنی دبائو کا شکار اس لئے نہیں ہوں کہ میرا یہ یقین ہے کہ عوام نے ہی مجھے وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز کیا ہے اور وہی مجھے اس منصب سے ہٹاسکتے ہیں، اقتدار آنے جانے والی چیز ہے۔ گزشتہ سال وزیراعظم میاں نواز شریف نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر پلاننگ و اقتصادی ترقی احسن اقبال اور پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ اسلام آباد میں اقتصادی ترقی کیلئے حکومت کا ایک روڈ میپ ’’پاکستان وژن 2025ء‘‘ پیش کیا تھا جس کا مقصد تمام اقتصادی سیکٹرز کی ازسرنو منصوبہ بندی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے منصوبے کیلئے مجھ سے بھی تجاویز طلب کی گئی تھیں جن کی رہنمائی میں عملدرآمد شروع کیا جاچکا ہے۔ گزشتہ دنوں یوم آزادی پر ویژن 2025ء کی دوسری سالگرہ کے موقع پر وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ’’معاشی لانگ مارچ‘‘ کیلئے وژن 2025ء کا روڈ میپ پیش کیا جس کے مطابق 2013ء سے 2022ء کے دوران سالانہ جی ڈی پی پیداوار 4 تا 5 فیصد سے بڑھاکر 7 فیصد تک اضافے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے چاروں صوبوں کی یونیورسٹیوں کے طلباء، ملک کے ممتاز بزنس مینوں اور لیڈرز سے مشاورتی عمل بھی شروع کیا گیا ہے جن کی سفارشات میں معیشت میں بہتری کیلئے امن و امان کی بہتر صورتحال، توانائی کے بحران پر مکمل قابو پانا، نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے ذریعے اونچی گروتھ اور نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ ان اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ملک میں موثر منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد، زرعی شعبے کی بحالی، برآمدات میں اضافہ اور گڈگورننس انتہائی ضروری ہیں۔ وژن 2025ء میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 60 فیصد سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے ملکی انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری انتہائی ضروری ہے جس کیلئے وژن میں ڈومیسٹک ٹیکسز میں اضافے اور غیرترقیاتی حکومتی اخراجات میں کمی کی سفارش کی گئی ہے۔ وژن 2025ء کے مطابق 2025ء تک پاکستان کا شمار دنیا کی 25 ویں اور 2047ء تک دسویں بڑی معیشتوں میں ہوگا لیکن اس تیز رفتار ترقی کیلئے ہمیں ملک میں سیاسی استحکام اور بڑھتی ہوئی آبادی پر کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔ وژن 2025ء میں پاکستان کی موجودہ فی کس سالانہ آمدنی 1299 ڈالر سے بڑھاکر 4200 ڈالر کرنے، غربت 49% سے کم کرکے 20% تک لانے، ملکی ایکسپورٹ 24 ارب ڈالر سے بڑھاکر 150 ارب ڈالر تک لے جانے، بجلی کے طلب اور رسد کے فرق کو 2018ء تک ختم کرنے اور 2025ء تک 25000 میگاواٹ اضافی بجلی پیدا کرنے کے اہداف بھی رکھے گئے ہیں۔
بجلی کی لاگت مہنگی ہونے کی وجہ پاکستان میں 50% سے زائد بجلی فرنس آئل سے پیدا کرنا ہے جس کی لاگت تقریباً 24 روپے فی یونٹ آتی ہے۔ ملک میں بجلی کی لاگت کم کرنے کیلئے ہمیں سستے ذرائع سے بجلی پیدا کرکے بجلی کی اوسط لاگت (انرجی مکس) کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بجلی چوری اور تکنیکی نقصانات کو موجودہ 30-35 فیصد کی سطح سے کم کرکے 10% تک لانا ہوگا۔ ہائیڈرو سے پیدا کی گئی بجلی سب سے صاف اور سستی ہوتی ہے جس کی لاگت 2 سے 3 روپے فی یونٹ آتی ہے لہٰذا ہمیں چھوٹے اور درمیانے درجے کے ڈیمز بناکر زیادہ سے زیادہ بجلی ہائیڈرو سے پیدا کرنا چاہئے۔ ڈیمز کے پانی کو سستی بجلی پیدا کرنے کے علاوہ زراعت میں استعمال کرکے ہم زرعی شعبے میں گروتھ پیدا کرسکتے ہیں لیکن اس کیلئے ہمیں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ذریعے زیادہ پیداواری نئے بیجوں کو متعارف کرانا ہوگا۔ وژن 2025ء میں سماجی سیکٹر کے اہم شعبے تعلیم میں خواندگی کی شرح 90% کرنے اور صحت کے شعبے میں اصلاحات لانے کی سفارشات کی گئی ہیں جبکہ معیشت کی ترقی کیلئے پرائیویٹ سیکٹر کو گروتھ کا انجن قرار دیا گیا ہے۔ وژن میں ملک کی موجودہ 600 ملین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو 25 بلین ڈالر تک لے جانے اور جی ڈی پی میں موجودہ ٹیکس کی شرح کو 8.5% سے بڑھاکر18% تک کرنے کا ہدف بھی رکھا گیا ہے جو نہایت مشکل نظر آتا ہے۔وژن میں علاقائی تجارت کے فروغ کیلئے ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کا موجودہ 27% سے بڑھاکر 2025ء تک 60% تک کرنے، بجٹ کے مالی خسارے کو کم کرکے 4% تک لانے، نیشنل سیونگ کو جی ڈی پی کا 18% سے 21% تک بڑھانے اور ایف بی آر کو ملکی غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل میں لانے کے اہداف دیئے گئے ہیں۔
دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو تبدیل نہ کرنے والے معاشروں کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا، ہمیں بھی نئی ایجادات کرکے عالمی ترقی کا حصہ بننا ہوگا جس کیلئے ہمیں ’’نالج نیشن‘‘ بننے کی ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت اگر پاکستان میں غربت کے خاتمے اور انسانی ترقی میں بہتری لانے کیلئے سنجیدہ ہے تو اسے خودساختہ اقتصادی ماہرین پر انحصار چھوڑنا ہوگا جن کی ماضی کی پالیسیوں نے آج پاکستان کو ناقابل برداشت قرضوں کے بوجھ میں جکڑ دیا ہے۔اقتصادی اعشاریوں کے حوالے سے پاکستان کا شمار متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے سماجی اعشاریوں کے حوالے سے پاکستان کا شمار کم تر ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان کے سابق وزیر خزانہ محبوب الحق نے ملکی ترقی کیلئے جو 10سالہ منصوبہ تیار کیا تھا وہ عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ہماری گردآلود فائلوں میں دفن ہوگیا لیکن محبوب الحق کے اُسی 10 سالہ ترقیاتی منصوبے پر عملدرآمد کرکے کوریا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوچکا ہے۔ ہم بہترین پالیسیاں بنالیتے ہیں لیکن ان پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہتے ہیں لہٰذا ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ہمارے حکمرانوں کو نیک نیتی، خلوص اور پرعزم جذبے کے ساتھ ’’پاکستان وژن 2025ء‘‘ کے معاشی ایجنڈے پر عمل کرنا ہوگا۔


.