• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بعض فیصلے وقتی ضرورت کے نام پر کیے جاتے ہیں مگر ان کے اثرات برسوں تک قومی سیاست، جمہوری روایات اور وفاقی تعلقات پر محسوس ہوتے رہتے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ بھی ایسا ہی ایک اہم واقعہ ہے جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایک طرف وفاقی حکومت اسے امن و امان اور دہشت گردی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ضروری اقدام قرار دے رہی ہے تو دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف اسے عوامی مینڈیٹ اور صوبائی خودمختاری کیلئےدھچکا سمجھتی ہے۔

گورنر راج پاکستان کیلئے کوئی نیا تجربہ نہیں۔ قیامِ پاکستان کے چند ہی برس بعد جنوری 1949ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور میں مغربی پنجاب کی حکومت ختم کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ اس وقت نواب افتخار حسین خان ممدوٹ وزیراعلیٰ تھے اور ان کی اکثریت کے دعوے پر اختلاف پیدا ہوا تھا۔ دسمبر 1951ء میں وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے دور میں سندھ کی حکومت بھی برطرف کی گئی، جہاں وزیراعلیٰ محمد ایوب کھوڑو کی جگہ گورنر میاں امین الدین نے انتظامی امور سنبھالے۔ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں فروری 1973ء میں بلوچستان کی نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت ختم کی گئی۔ سردار عطاء اللہ مینگل وزیراعلیٰ تھے اور نواب اکبر بگٹی کو گورنر مقرر کیا گیا۔ فروری 1975ء میں اس وقت کے صوبہ سرحد، آج خیبر پختونخوامیں بھی گورنر راج نافذ ہوا اور سردار عنایت اللہ خان گنڈاپور کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اس فیصلے کا پس منظر سیاسی کشیدگی، حیات محمد خان شیرپاؤ کے قتل اور نیشنل عوامی پارٹی کے خلاف حکومتی کارروائیوں سے جڑا تھا۔ بعدازاں فروری 1994ء میں وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے دور میں خیبر پختونخوا کی صابر شاہ کی قیادت میں قائم مسلم لیگ ن کی حکومت معطل کی گئی اور گورنر راج نافذ ہوا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ مختلف ادوار اور مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتوں میں اس غیرمعمولی اختیار سے کام لیا جاتا رہا ہے۔

اس تاریخ کا ایک اور اہم باب فروری 2009ء میں سامنے آیا، جب صدر آصف علی زرداری کے دورِ صدارت میں پنجاب میں گورنر راج نافذ کیا گیا اور شہباز شریف کی صوبائی حکومت کو ہٹا دیا گیا۔ جنوری 2013ء میں وزیراعظم راجا پرویز اشرف کے دور میں بلوچستان کی حکومت بھی برطرف کرکے گورنر راج نافذ کیا گیا۔ ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ سیاسی اختلافات، امن و امان کے مسائل اور آئینی اختیارات کے استعمال کے درمیان تعلق پاکستان کی سیاست کا ایک پراناموضوع ہے۔

اب 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ نے اسی بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ہنگامی حالت اور گورنر راج کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور امن و امان کی صورتِ حال نے غیرمعمولی اقدامات ناگزیر بنا دیے تھے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی اس فیصلے کو صوبے کے عوام کے انتخابی مینڈیٹ میں مداخلت قرار دے رہی ہے۔ اس اختلاف کا حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی فورمز کے ذریعے ہونا چاہیے۔

یہاں وفاقی حکومت کی ذمہ داری غیرمعمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ دہشت گردی ایک حقیقی اور سنگین چیلنج ہے اورحالیہ اقدام کا مقصد دہشت گردی پر قابو پانا ہے تو حکومت کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر واضح اہداف، قانونی نگرانی اور مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ایک اہم نکتہ اس حوالے سے یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی بھی اپنی سیاسی حکمتِ عملی پر غور کرنے سے مستثنیٰ نہیں۔ جمہوری سیاست میں احتجاج ایک تسلیم شدہ حق ہےلیکن احتجاج کی کامیابی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب اس کے ساتھ مذاکرات، پارلیمانی جدوجہد اور سیاسی تدبر بھی موجود ہوں۔ مسلسل محاذ آرائی، مخالفین کے ساتھ رابطوں میں تعطل اور ہر اختلاف کو فیصلہ کن تصادم میں بدل دینے سے سیاسی مسائل پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ صوبائی حکومت ایک جماعت کا سیاسی اثاثہ نہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کی نمائندہ انتظامیہ ہوتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ گورنر راج جیسے غیرمعمولی اقدامات سیاسی بحران کو وقتی طور پر قابو میں لانے کا تاثر تو دے سکتے ہیں مگر پائیدار استحکام کیلئے سیاسی اعتماد، آئینی بالادستی اور عوامی شمولیت ناگزیر ہیں۔ خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات میں وفاقی حکومت کو شفافیت، قانونی جواز اور جواب دہی کا مظاہرہ کرنا ہوگا جبکہ پی ٹی آئی کو تصادم کے بجائے سنجیدہ مذاکرات اور جمہوری جدوجہد کو ترجیح دینی چاہیے۔پاکستان کو آج ایسے سیاسی شعور کی ضرورت ہے جو اختلاف کو دشمنی نہ بننے دے اور اقتدار کو قومی مفاد پر غالب نہ آنے دے۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ حکومتیں آئین کے تابع رہیں، اپوزیشن ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور عوامی مینڈیٹ کا احترام تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ترجیح ہو۔ بلاشبہ تاریخ کے فیصلے آخرکار نعروں سے نہیں، عمل اور نتائج سے ہوتے ہیں۔

تازہ ترین