• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کی بد قسمتی یہ ہے کہ حکومت بدلنے کے ساتھ صحت تعلیم، معیشت، روزگار، ٹرانسپورٹ اور ملکی ترقی سے متعلق جاری منصوبے عدالتوں میں زیر سماعت ہو جاتے ہیں یا آنیوالی حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہونے کے باعث رک جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں ترقی اس رفتار سے نہیں ہو پاتی جو ایک ترقی پذیر ملک کو تیزی سے ترقی یافتہ ملک بننے کیلئے درکار ہوتی ہے۔ ایک حقیقی سیاسی لیڈ روہ ہوتا ہے جو دیوار کے پیچھے دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔صرف اپنے دور اقتدار کے بارے میں نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچتا ہے اور اس کا یہ نظریہ ہوتا ہے کہ میں اقتدار میں رہوں یا نہ رہوں لیکن میرے ملک کا سفر ترقی کی طرف جاری رہنا چاہیے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جو بھی حکومت اقتدار میں آئی اسکی توجہ زیادہ تر قلیل المدت منصوبوں پر مرکوز رہی تا کہ اگلے انتخابات میں سیاسی فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ طویل المدت اور قومی مفاد کے منصوبے اکثر سیاسی ترجیحات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو شاید ہی کوئی حکومت ایسی ہو جو ایک مرتبہ اقتدار میں آنے کے بعد مسلسل اسی سیاسی طاقت کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئی ہو۔ اسکے باوجود اکثر حکومتوں کی توجہ اس بات پر رہی کہ اگلا الیکشن کیسے جیتنا ہے۔ ایسے منصوبے جو ملک کی طویل المدت ترقی کیلئےضروری ہوتے ہیں یا تو نا مکمل رہ جاتے ہیں یا ان کی لاگت میں اس قدر اضافہ ہو جاتا ہے کہ بعد میں انہیں مکمل کرنا بھی ایک بڑا مالی بوجھ بن جاتا ہے۔کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا تخمینہ 1987ء میں 61ارب روپے سے بڑھ کر آج 1500 ارب سے زیادہ ہو گیاہے ، نیلم جہلم ہائیڈروپراجیکٹ کا تخمینہ 1989ء میں 15.3 سے بڑھ کر1507ارب روپے ، داسو ڈیم کا تخمینہ 2014ء میں486ارب سے بڑھ کر 1737 ارب روپے اور رنگ روڈ راولپنڈی کا تخمینہ 2022 ء میں 26.97 ارب سے بڑ ھ کر آج تقریباً 47ارب روپے ہوچکا ہے۔ نالہ لئی ایکسپریس وے ایک ایسا منصوبہ ہے جو راولپنڈی کے لیے انتہائی اہم اور ناگزیر ہے اس کی وجہ سے ہر سال بارشوں کی وجہ سے راولپنڈی میں سیلابی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس کا افتتاح 2007ء میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوا اس کا تخمینہ16 ارب سے بڑھ کر آج 100ارب سے زیادہ ہوچکا ہے اور اب بھی زیر التوا ہے۔ اسی طرح500 بیڈ کا زچہ و بچہ ہسپتال راولپنڈی2005ء میںتقریباً 1.5 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہوا تھا لیکن سیاسی اختلافات کی وجہ سے آج تقریباً 10 ارب ہوچکا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود اسے بروقت فعال نہیں کیا جاسکا ۔ نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی صاحب نے بھی ان منصوبوں کو مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن تکمیل کے لئے ان کی عبوری حکومت ہونے کی وجہ سے زیادہ وقت نہ مل سکا ۔ میری وزارت میں حکومت کی یہ پالیسی رہی کہ نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے پرانے منصوبوں کو مکمل کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات دی جاسکیں۔ اسی لئے ہم نے رنگ روڈ ، ڈڈوچھہ ڈیم، کچہری چوک ، سگنل فری مال روڈ ، سیف سٹی، بزنس فیسی لٹیشن سنٹر اور جمخانہ چکوال، مری اور راولپنڈی کا افتتاح کرکے مکمل کرنا شروع کردیا۔ پانچ ہسپتالوں، 38 تعلیمی اداروں ، فیملی پارکس، قبرستان ، بس اسٹینڈز اور ڈی پی ایس اسکولوں کو اپ گریڈ کیا۔ بروقت نالہ لئی کی صفائی اور 58 نامکمل ڈیم مکمل کئے جن سے80ہزار ایکڑ زمین سیراب ہوئی ۔ اس کے علاوہ بھی بے شمارنامکمل کام کروائے ۔ اسلئے پاکستان میں نئے منصوبے شروع کرنے کے بجائے پہلے سے نامکمل منصوبوں کو مکمل کیاجائے اور دیر سے تعمیر ہونے والے منصوبوں کے ذمہ داروں کا تعین کرایا جائے ۔ ہمیں قومی مفاد کو سیاسی مفاد پر ترجیح دینا ہوگی۔ اسلئے ضروری ہے کہ ملک میں قومی منصوبوں کے تسلسل کی ایک جامع پالیسی بنائی جائے۔ اس پالیسی کے تحت یہ طے کیا جائے کہ کون سے منصو بے قومی اہمیت کے حامل ہیں چاہے ان کا تعلق معیشت، صحت، تعلیم، پانی، توانائی، روزگار یا انفراسٹرکچر سے ہو اور یہ فیصلہ کیا جائے کہ حکومت کی تبدیلی کے باوجود ایسے منصوبے جاری رہیں گے۔ اگر کسی حکومت کو کسی قومی منصوبے کو روکنا، تبدیل کرنا یا ختم کرنا ضروری محسوس ہو تو اسے محض انتظامی فیصلے کے ذریعے ختم نہیں کیا جانا چاہیے بلکہ اس کے لیے پارلیمان میں باقاعدہ بحث اور قرارداد کے ذریعے فیصلہ ہونا چاہیے۔ اس طرح کسی بھی منصوبے کو سیاسی انتقام یا سیاسی کریڈٹ کی بنیاد پر ختم کرنے کا راستہ روکا جاسکتا ہے۔ ہر بڑے منصوبے کے آغاز سے پہلے اس کی مکمل منصوبہ بندی، لاگت، مدت تکمیل اور فنڈنگ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔ جب منصوبہ شروع کیا جائے تو اس کے لیے مطلوبہ مالی وسائل بھی محفوظ ہوں تا کہ حکومت تبدیل ہونے کی صورت میں منصو بہ فنڈز کی کمی کا شکار نہ ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیںلیکن ملک اور قوم ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔پاکستان کو شخصیات اور حکومتوں سے آگے بڑھ کر اداروں، پالیسیوں اور قومی ترجیحات کے تسلسل کی طرف جانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ہم اپنے وسائل کا ضیاع روک سکتے ہیں، منصوبوں کی لاگت کم رکھ سکتے ہیں عوام کو بر وقت سہولیات فراہم کر سکتے ہیں اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ ہمیں ایسے لیڈروں اور ایسی سیاسی سوچ کی ضرورت ہے جو یہ کہہ سکے کہ ،میں رہوں یا نہ رہوں لیکن پاکستان کا سفر ترقی کی طرف جاری رہنا چاہئے‘‘۔

ہم تو چراغِ اول شب ہیںاول شب ہی بجھ جائیں گے

تم ہی یارو آخر شب تک دیپ سے دیپ جلائے رہنا

(مرتضیٰ برلاس)

تازہ ترین