جامشورو میں گزشتہ روز روڈ حادثے میں نوجوان لڑکی کی ہلاکت کے بعد ورثاء نے ڈاکٹر پر پوسٹ مارٹم کے دوران لڑکی کے اعضاء نکالنے کا الزام عائد کردیا ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر وسیم کے مطابق پوسٹ مارٹم اصولوں اور قوانین کے مطابق کیا گیا، لڑکی کے اعضاء نکالنے کے الزامات بے بنیاد ہیں۔
پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ لڑکی رات کو حادثے میں فوت ہوئی تھی جس کی لاش صبح پوسٹ پارٹم کے لیے لائی گئی۔
واضح رہے کہ سندھ یونیورسٹی کے سامنے انڈس ہائی وے پر گزشتہ رات حادثہ ہوا تھا۔