• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

روزنامہ جنگ میں میری کالم نویسی کا آغاز ’’ڈالر میں اتار چڑھاؤ‘‘ سے ہوا، جس میں بیرونِ ملک رقوم کی منتقلی اور غیر ملکی کرنسی لے جانے کے قواعد کا جائزہ لیا گیا۔ اسی موضوع پر پاکستان سے سرمائے کے فرار کا یہ سلسلہ شروع کر رہا ہوں۔ قوانین اور اداروں کے باوجود بھاری رقوم بیرونِ ملک کیسے منتقل ہوتی ہیں، اور کتنی قانونی ذرائع سے جاتی ہیں؟ اس سوال کا جواب تاریخ میں ہے۔

1992 ءمیں میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے تحفظِ معاشی اصلاحات ایکٹ (PERA) نافذ کیا۔ مقصد معیشت کو آزاد بنانا، نجکاری کو فروغ دینا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا، زرِمبادلہ کی آمد بڑھانا اور قومیانے کی سابقہ پالیسیوں سے پیدا خدشات دور کرنا تھا۔ اس قانون نے پاکستانی شہریوں اور غیر مقیم افراد کو غیر ملکی کرنسی رکھنے، منتقل کرنے اور بینکوں میں جمع کرانے کی وسیع آزادی دی۔ بعض دفعات کو فارن ایکسچینج، کسٹمز اور انکم ٹیکس قوانین پر بالادستی حاصل تھی، جبکہ غیر ملکی کرنسی کھاتوں کو رقوم کے ذرائع سے پوچھ گچھ اور ضبطی کیخلاف تحفظ دیا گیا۔

یہ اقدامات سرمایہ کاری کیلئے مفید دکھائی دیتے تھے، لیکن مالی آزادی کے ساتھ مؤثر نگرانی اور ذرائع آمدن کی تصدیق ضروری تھی۔ نگرانی کمزور ہو تو جائز سہولتیں غیر قانونی دولت چھپانے اور ٹیکس چوری کیلئے استعمال ہو سکتی ہیں۔ ہر غیر ملکی کرنسی کھاتے کو مشکوک قرار دینا درست نہیں،اصل مسئلہ جائز اور مشکوک رقوم میں فرق کرنا تھا۔حوالہ اور ہنڈی جیسے غیر رسمی نیٹ ورکس نے مسئلہ پیچیدہ کیا۔ ان ذرائع سےپاکستان میں روپے وصول کرکے بیرونِ ملک ڈالر ادا کیے جا سکتے ہیں، جبکہ پوری رقم روایتی بینکاری نظام سے نہیں گزرتی۔ بیرونِ ملک سے رقوم مختلف راستوں سے واپس لا کر کھاتوں میں جمع کرائی جائیں تو اصل ذرائع کی شناخت مشکل ہو سکتی ہے۔ یہ نظام ٹیکس چوری، غیر قانونی سرمائے کی منتقلی اور دولت چھپانے کیلئے استعمال ہو سکتا ہے۔ مسئلہ مالی آزادی نہیں، بلکہ آزادی اور جوابدہی میں توازن کے کا فقدان تھا۔اس قانون کے بعد غیر ملکی کرنسی کھاتوں میں رقوم تیزی سے بڑھیں۔ 1991 میں یہ ایک ارب ڈالر سے کم تھیں، جو مئی 1998 تک تقریباً 10.9ارب ڈالر ہو گئیں۔ قانونی تحفظات اور اسٹیٹ بینک کے فارورڈ کور نے بھی کردار ادا کیا۔ ڈالر ڈیپازٹ بڑھانے کیلئے سرمایہ کاروں نے غیر معمولی حکمت عملی اپنائی: موجودہ ڈیپازٹ بینک کے حق میں رہن رکھ کر 75فیصد رقم، اور باقی 25فیصد کیلئے دیگر اثاثے رہن رکھ کر قرض لیا۔ پھر اس رقم سے اوپن مارکیٹ میں مزید ڈالر خرید کر بینک کے پاس رہن رکھوا دیے۔ نتیجتاً صنعتی سرمایہ کاری کے بجائے ڈالر جمع کرنے اور ڈالرائزیشن کا رجحان بڑھا، صنعتی ترقی متاثر ہوئی، جبکہ ان کھاتوں کی ادائیگیوں کے مقابلے میں اسٹیٹ بینک کے فوری استعمال کے قابل ذخائر تقریباً 1.2ارب ڈالر رہ گئے۔ یوں بڑا مالیاتی خطرہ پیدا ہو چکا تھا۔

مئی 1998ءمیں ایٹمی دھماکوں کے بعد بین الاقوامی پابندیوں اور مالیاتی دباؤ نے صورتِ حال سنگین کر دی۔ زرِمبادلہ کے قابلِ استعمال ذخائر شدید دباؤ میں آ گئے۔ حکومت نے 28 مئی 1998 کو غیر ملکی کرنسی کھاتوں کی آزادانہ نکاسی اور منتقلی پر سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اس سے کھاتہ داروں کا اعتماد متاثر ہوا اور اپنی بچتوں تک رسائی کے بارے میں تشویش بڑھی۔اس تجربے کے بعد رسمی بینکاری نظام پر اعتماد کمزور ہوا اور غیر رسمی ذرائع کی طرف رجحان بڑھا۔ 1998ءسے 2002ءکے دوران سرکاری ذرائع سے سالانہ ترسیلاتِ زر ایک ارب ڈالر سے کم رہیں، جبکہ ہنڈی اور حوالہ کے ذریعے کئی ارب ڈالر کی منتقلی کے تخمینے سامنے آئے۔ رسمی اور غیر رسمی ذرائع کا فرق پاکستان کے زرِمبادلہ کے انتظام کا اہم مسئلہ بن گیا۔

لندن میں بطور منیجر مجھے Money Laundering Regulations 1993 (MLR 93) کا کتابچہ دیا گیا اور اسے سنجیدگی سے پڑھنے کی ہدایت کی گئی۔ بینک منیجر کی حیثیت سے میری ذمہ داری مشکوک لین دین کی شناخت اور متعلقہ حکام کو رپورٹ کرنا تھی۔ غفلت پر بینک اور ذمہ دار افسر کو قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔یہ تجربہ چشم کشا تھا۔ وہاں اصول واضح تھا:صارف کو سہولت دی جائے، لیکن مشکوک ذرائع اور غیر معمولی لین دین نظرانداز نہ کیے جائیں۔ مجھے لگا کہ PERA کے بعد پاکستان منی لانڈرنگ کیلئے آسان جگہ بن گیا۔ PERA 1992 اور برطانوی MLR 1993 دونوں ملکوں کے ضابطہ جاتی فرق کو واضح کرتے ہیں۔ پاکستان کے قانون کا مقصد معاشی ترقی تھا، منی لانڈرنگ کی حوصلہ افزائی نہیں۔ اسلئے بحث حکومت کی نیت پر نہیں، قانون کے ڈھانچے، عملی نتائج اور نگرانی پر ہونی چاہیے۔ اچھی پالیسی سرمایہ کار کو تحفظ دینے کیساتھ مالیاتی شفافیت بھی یقینی بناتی ہے۔

سرمائے کے فرار کا حل محض پابندیاں نہیں۔ سیاسی و معاشی استحکام، قابلِ اعتماد قوانین، بہتر ٹیکس نظام اور آسان بینکاری ضروری ہیں۔ جب لوگوں کو سرمائے کے تحفظ اور پالیسیوں کے تسلسل پر اعتماد ہوگا تو بیرونِ ملک دولت منتقل کرنے کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن میں بینکاری اور سرمایہ کاری کی سہولت دینے کی اہم مثال ہے۔ ایسے ذرائع آسان اور پرکشش بنائے جائیں تو رسمی ترسیلاتِ زر اور ملکی سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے۔ ساتھ ہی انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کا نظام مؤثر بنانا ہوگا، تاکہ جائز رقوم کی آمد میں غیر ضروری رکاوٹیں ڈالے بغیر مشکوک لین دین کی شناخت ہو سکے۔

تازہ ترین