• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ کے کچھ واقعات گزرنے کے باوجود ماضی کا حصہ نہیں بنتے بلکہ قوموں کے اجتماعی شعور میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اٹھارہ اکتوبر 2007بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک ایسا ہی دن ہے، جب کراچی کی سڑکوں پر محبت، امید اور جمہوریت کا جشن اچانک خون اور آنسوؤں میں بدل گیا۔ اس روز دہشت گردی نے انسانی جانوں کو نشانہ بنایا، مگر ایک بہادر خاتون کے حوصلے اور عوام کے جمہوری یقین کو شکست نہ دے سکی۔آٹھ برس کی جلاوطنی کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی کوئی معمولی سیاسی واقعہ نہیں تھا۔ یہ ایک ایسی رہنما کی واپسی تھی جس نے اپنی زندگی میں آمریت، قید، جلاوطنی اور خاندانی سانحات کا سامنا کیا، مگر عوام سے اپنا رشتہ کبھی ختم نہیں ہونے دیا۔دبئی سے کراچی کا وہ سفر آج بھی ذہن پر نقش ہے۔ محترمہ کی آنکھوں میں اپنے وطن کی محبت اور چہرے پر ایک غیر معمولی اطمینان تھا۔ وہ پاکستان میں موجود خطرات سے پوری طرح آگاہ تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ انتہا پسند قوتیں ان کی واپسی کو اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہیں، لیکن انہوں نے خوف کے مقابلے میں اپنے عوام کے درمیان رہنے کا فیصلہ کیا۔یہ فیصلہ ہی ان کی سیاسی عظمت کا اصل اظہار تھا۔کراچی نے اس روز اپنی تاریخ کا ایک غیر معمولی منظر دیکھا۔ ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے لاکھوں افراد اپنی قائد کے استقبال کے لیے جمع تھے۔ ہر طرف پیپلز پارٹی کے پرچم، کارکنوں کے نعرے اور خوشی سے دمکتے چہرے تھے۔ اس ہجوم میں مزدور، کسان، طالب علم، خواتین اور ایسے بزرگ بھی موجود تھے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور سے جمہوری جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ان لوگوں کو کسی سرکاری حکم نے جمع نہیں کیا تھا۔ وہ اپنی سیاسی وابستگی، محبت اور مستقبل کی امید لے کر آئے تھے لیکن رات کے اندھیرے میں کارساز کے مقام پر ہونے والے دھماکوں نے اس خوشی کو قیامت میں بدل دیا۔ چند لمحوں پہلے جہاں نعرے گونج رہے تھے، وہاں چیخیں بلند ہونے لگیں۔ پرچم خون آلود ہوگئے، سڑکیں زخمیوں سے بھر گئیں اور بے شمار گھروں کی خوشیاں ہمیشہ کے لیے چھن گئیں۔وہ نوجوان جو اپنی قائد کی ایک جھلک دیکھنے کراچی آئے تھے، ان میں سے بہت سے اپنے گھروں کو واپس نہ جاسکے۔ کسی ماں کا بیٹا شہید ہوا، کسی بچے کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور کسی خاندان کا واحد سہارا ہمیشہ کے لیے چھن گیا۔

سانحۂ کارساز صرف پیپلز پارٹی کا سانحہ نہیں تھا۔ یہ پاکستان کے ہر اس شہری کے حق پر حملہ تھا جو پُرامن سیاسی سرگرمی اور جمہوری آزادی پر یقین رکھتا ہے۔اس رات محترمہ بے نظیر بھٹو محفوظ رہیں، مگر اپنے کارکنوں کی شہادت کا دکھ ان کیلئے ناقابلِ بیان تھا۔ ان کے سامنے ایک مرتبہ پھر یہ سوال موجود تھا کہ کیا وہ اپنی جان بچانے کیلئے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیں یا ان قوتوں کے مقابل کھڑی رہیں جو پاکستان کو خوف کے ذریعے چلانا چاہتی تھیں؟انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ یہی بے نظیر بھٹو تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ موت کا خطرہ حقیقی ہے، مگر ان کا یقین تھا کہ اگر قیادت ہی خوف کے سامنے ہتھیار ڈال دے تو عوام کے حوصلے کون بلند کرے گا؟محترمہ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بہادری صرف میدانِ جنگ میں دکھائی نہیں جاتی۔ کبھی اپنے اصولوں پر قائم رہنا، کبھی جبر کے سامنے انکار کرنا اور کبھی اپنی جان کے خطرے کے باوجود عوام کے درمیان کھڑے رہنا بھی غیر معمولی شجاعت ہوتی ہے۔بے نظیر بھٹو نے پاکستان کی خواتین کو بھی ایک نیا سیاسی اعتماد دیا۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کی قیادت کو مختلف تعصبات کا سامنا تھا، انہوں نے اپنی صلاحیت، سیاسی بصیرت اور استقامت سے ثابت کیا کہ قیادت کسی جنس کی جاگیر نہیں۔ان کی جدوجہد محض اقتدار کے حصول تک محدود نہیں تھی۔ وہ ایسا پاکستان دیکھنا چاہتی تھیں جہاں آئین کی بالادستی ہو، پارلیمان مضبوط ہو، عوام کی رائے کا احترام کیا جائے اور انتہا پسندی کو معاشرے کا مستقبل طے کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ سانحۂ کارساز کی انیسویں برسی پر ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم ان شہداء کی قربانیوں کا حق ادا کرسکے ہیں؟ کیا ہم نے سیاسی اختلاف کو برداشت کرنا سیکھا؟ کیا عام شہری کو وہ تحفظ اور انصاف حاصل ہے جس کا وعدہ جمہوری ریاست کرتی ہے؟شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنا یقیناً ضروری ہے، مگر ان کے خوابوں کو عملی حقیقت میں تبدیل کرنا اس سے کہیں بڑی ذمہ داری ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے اٹھارہ اکتوبر محض ایک یادگار تاریخ نہیں بلکہ اپنے سیاسی نظریے سے وابستگی کی تجدید کا دن ہے۔ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کی اصل طاقت عوام ہیں اور عوام کے اعتماد سے بڑی کوئی سیاسی قوت نہیں۔ستائیس دسمبر 2007 ءکو راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت نے ثابت کردیا کہ انہیں لاحق خطرات کس قدر سنگین تھے۔ مگر تاریخ یہ بھی گواہی دیتی رہے گی کہ وہ ان خطرات سے خوفزدہ ہوکر اپنے عوام کو تنہا چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوئیں۔آج کارساز کے شہداء کی یاد ہمارے سامنے ایک اخلاقی ذمہ داری رکھتی ہے۔ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہوگا جہاں سیاسی وابستگی کسی انسان کی زندگی کے لیے خطرہ نہ بنے، جہاں اختلاف رائے کا جواب تشدد سے نہ دیا جائے اور جہاں قانون ہر شہری کی جان و مال کا یکساں محافظ ہو۔

تازہ ترین