• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا: پی ٹی آئی دور میں معدنیات کے شعبے میں اربوں کا نقصان

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے دورِ اقتدار کے دوران معدنیات کے شعبے سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں صوبائی خزانے کو ایک سال میں 16 ارب 94 کروڑ روپے سے زائد نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2022ء اور 2023ء کے دوران غیر قانونی کان کنی کے باعث 8 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ نادہندہ ٹھیکے داروں سے 4 ارب 31 کروڑ روپے کے واجبات بھی وصول نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غیر قانونی کان کنی سے صوبائی خزانے کو مزید 3 ارب 8 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا، جبکہ بجری اور ریت غیر قانونی طور پر نکالے جانے سے 3 ارب 7 کروڑ روپے کا خسارہ ہوا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق معدنیات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 54 کروڑ 72 لاکھ روپے وصول نہیں کیے گئے، جبکہ کوئلہ، باکسائٹ، چونا پتھر اور سوپ اسٹون کی کانوں کے ذمے 81 کروڑ روپے سے زائد کے واجبات معاف کردیے گئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پشاور میں محکمہ معدنیات کی زمین 10 ہزار روپے فی ایکڑ کے بجائے 200 روپے فی ایکڑ پر فراہم کر کے 14 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔

کوہاٹ، نوشہرہ، صوابی اور دیگر اضلاع میں چھوٹے ڈیموں کے واجبات وصول نہ ہونے سے 53 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا، جبکہ مردان میں رائلٹی کی مد میں 6 کروڑ 36 لاکھ روپے بھی دبا لیے گئے۔

آڈیٹر جنرل نے رپورٹ میں ذمے داران کے خلاف انکوائری کی واضح طور پر سفارش کی ہے۔

قومی خبریں سے مزید