• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برطانیہ میں امیگریشن کی شرح 2012 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی

برطانیہ میں خالص امیگریشن کی شرح کوویڈ-19 کی وبا کے دوران کو چھوڑ کر 2012 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ برطانیہ کے قومی ادارہ برائے شماریات کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران برطانیہ کی خالص امیگریشن کم ہو کر ایک لاکھ اکہتر ہزار رہ گئی، جو گزشتہ بارہ ماہ کے مقابلے میں 48 فیصد کم ہے۔

21 مئی 2026 کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق جنوری سے دسمبر 2025 کے دوران آٹھ لاکھ 13 ہزار افراد برطانیہ آئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد کم ہیں۔ اسی عرصے میں 6 لاکھ 44 ہزار افراد برطانیہ سے بیرونِ ملک منتقل ہوئے، جس کے نتیجے میں خالص امیگریشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق پناہ کی درخواستوں اور غیر قانونی طریقوں سے برطانیہ پہنچنے والوں کی تعداد میں بھی کمی آئی ہے۔ ہوم آفس کے مطابق یکم جنوری سے 18 اکتوبر 2026 تک انگلش چینل کے ذریعے چھوٹی کشتیوں میں آنے والے افراد کی تعداد 20 ہزار 935 رہی، جو 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 43 فیصد کم ہے۔

دوسری جانب ہوم آفس نے بتایا کہ جولائی 2025 سے جون 2026 کے دوران 40 ہزار 605 افراد کو برطانیہ سے ملک بدر کیا گیا، جو گزشتہ بارہ ماہ کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خالص امیگریشن میں یہ نمایاں کمی حکومت کی سخت امیگریشن پالیسیوں، ویزا قواعد میں تبدیلیوں اور بیرونِ ملک سے آنے والے کارکنوں اور طلبہ کی تعداد میں کمی کا نتیجہ سمجھی جا رہی ہے۔

برطانیہ و یورپ سے مزید