• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹیسٹ میچز میں تماشائیوں کی کم ہوتی تعداد کیسے بڑھائی جائے؟ کیون پیٹرسن کی اہم تجویز

— فائل فوٹو
— فائل فوٹو 

انگلینڈ کے سابق کپتان کیون پیٹرسن نے ٹیسٹ کرکٹ کے دوران اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کی کم ہوتی تعداد دیکھ کر اہم تجویز پیش کر دی۔

اس حوالے سے کیون پیٹرسن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے اپنی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ بورڈز کو ٹی 20 فرنچائز ٹورنامنٹس سے آمدنی حاصل کرنی چاہیے جب کہ ایسے مقامات پر ٹیسٹ کرکٹ کے لیے مفت داخلے کی سہولت فراہم کرنی چاہیے جہاں شائقین کی تعداد کم ہے۔

فوٹو — اسکرین شاٹ
فوٹو — اسکرین شاٹ

کیون پیٹرسن نے لکھا ہے کہ ڈربن اور پورٹ الزبتھ میں ٹکٹوں کی فروخت سے اتنی آمدنی حاصل نہیں ہوئی کہ اسے میدانوں میں تماشائیوں کی غیر موجودگی کا جواز قرار دیا جا سکے۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کے سابق کپتان کا یہ بیان جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز کے دوران اسٹیڈیم میں شائقین کی کم تعداد پر سابق آسٹریلوی اوپنر ڈیوڈ وارنر کی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔

ڈیوڈ وارنر نے سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں خالی اسٹیڈیمز پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا تھا کہ اگر شائقین میدانوں کا رخ نہیں کر رہے تو ٹیسٹ کرکٹ کو کھیل کا اعلیٰ ترین فارمیٹ قرار دینے کا کیا جواز ہے؟

جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے درمیان ٹیسٹ سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ڈربن کے کنگزمیڈ اسٹیڈیم میں 5 روز کے دوران 20 ہزار سے بھی کم شائقین پہنچے اور یہ تعداد اسٹیڈیم کی مجموعی گنجائش کے پانچویں حصے سے بھی کم تھی۔

اس کے علاوہ دوسرے ٹیسٹ میں بھی پورٹ الزبتھ کے سینٹ جارجز پارک میں بڑی تعداد میں نشستیں خالی رہیں۔

جنوبی افریقہ میں شائقین کی کم حاضری نے ٹیسٹ کرکٹ کی مقبولیت اور اسے مزید قابلِ رسائی بنانے کے طریقوں پر بحث چھیڑ دی ہے۔ 

متعلقہ کرکٹ حکام نے بھی کم حاضری کی وجوہات جاننے کے لیے اندرونی جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید