فرانس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے لکھی گئی کتابوں کے لیے ایک نئے ادبی انعام کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت کامیاب مصنف کی کتاب شائع بھی کی جائے گی۔
برطانوی اخبار گارجیئن کے مطابق ’پرکس پاسکل‘ نامی اس مقابلے میں مصنوعی ذہانت کے مختلف ذرائع، بشمول چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ، جیمنائی اور لاما کی مدد سے تیار کردہ کتابیں پیش کی جائیں گی۔
دنیا بھر کے مصنفین اس مقابلے میں حصہ لے سکتے ہیں تاہم ان کی تحریریں فرانسیسی زبان میں ہونی چاہئیں اور ان کا حجم 10,000 سے 50,000 الفاظ کے درمیان ہونا ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق درخواست گزاروں کو یہ بھی بتانا ہو گا کہ کتاب تیار کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کا کون سا نمونہ استعمال کیا گیا اور اسے کیا ہدایات دی گئیں۔
اس ادبی انعام کا نام فرانسیسی ریاضی دان اور فلسفی بلیز پاسکل کے نام پر رکھا گیا ہے جنہوں نے ابتدائی مکینیکل کیلکولیٹر کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
مقابلے کے لیے درخواستیں آئندہ منگل سے وصول کی جائیں گی اور آخری تاریخ نومبر کے اختتام تک مقرر کی گئی ہے۔
منتظمین ابتدائی طور پر 10 تحریروں کو مختصر فہرست میں شامل کریں گے جبکہ کامیاب مصنف کا اعلان دسمبر کے اوائل میں کیا جائے گا۔
مقابلے کے لیے 5 یا 6 ارکان پر مشتمل جیوری قائم کی جائے گی جس میں مصنفین، ناقدین، صحافیوں، فلسفیوں اور پبلشرز کو شامل کیا جائے گا، جیوری کے ارکان کے نام نومبر کے اوائل میں سامنے آنے کی توقع ہے۔
