وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں عسکری قیادت نے اپنی بریفنگ میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اگلے کچھ ہفتوں میں دہشت گردی کا صفایا کردیا جائے گا، مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے یہ مشکل نہیں ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نے تحریک انصاف پر پابندی کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی، وزیراعظم نے یہ نہیں کہا کہ پی ٹی آئی بطور جماعت دہشت گرد ہے، وزیراعظم نے کہا کہ کوئی جماعت اگر ملک دشمنی پر اتر آئے۔
رانا ثناء نے کہا کہ دو تین ماہ میں دہشت گردوں کی تشکیلیں وہاں سے نکال باہر کردی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کونسل نے علاقے کے لیے 160 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کیا سہیل آفریدی کا محسن نقوی سے رابطہ اور ملاقاتیں نہیں ہوتی تھیں؟ ان ملاقات میں دہشت گردی کے مسئلے کے سوا کس موضوع پر بات ہوتی تھی؟ عسکری قیادت نے بتایا کہ 12 اضلاع میں دہشت گردوں کی 201 تشکیلیں ہیں، آبادی کو آمادہ کیا جا رہا ہے کہ ان تشکیلوں کو نکالیں ہم مدد کیلئے تیار ہیں، تیسری صورت یہ ہے کہ آبادی باہر آئے اور ان دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہو، سہیل آفریدی آپریشن کی مخالفت کرتے تھے اور لوگوں کو اکساتے تھے۔