• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی بھی ملک کی ترقی کا خواب اس وقت تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتا جب تک اس کی سیاسی فضا میں اعتماد، برداشت، مکالمے اور تسلسل کی کیفیت پیدا نہ ہو۔ قومیں وسائل کی فراوانی سے آگے نہیں بڑھتیںبلکہ انہیں ایسے سیاسی ماحول کی بھی ضرورت ہوتی ہے جہاں اختلاف کو دشمنی نہ سمجھا جائے، اقتدار کو امانت تصور کیا جائے اور قومی مفاد کو ذاتی و جماعتی ترجیحات پر فوقیت حاصل ہو۔ سیاسی استحکام کسی ایک حکومت یا جماعت کی ضرورت نہیں بلکہ پورے ملک کی اجتماعی ضرورت ہے۔ پاکستان جیسے ملک کیلئے جہاں معیشت کی بحالی، نوجوانوں کے روزگار اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی بڑے چیلنج ہیں، سیاسی ہم آہنگی کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب قومی معاملات میں تسلسل پیدا ہوا اور سیاسی قوتوں نے اختلافات کے باوجود ریاستی مفادات کو مقدم رکھا تو ترقی کے امکانات روشن ہوئے۔ اس کے برعکس جب سیاسی کشمکش نے قومی ترجیحات کو پس منظر میں دھکیلا تو معاشی فیصلوں، انتظامی اصلاحات اور عوامی مسائل کے حل کا عمل بھی متاثر ہوا۔ حکومتوں کی تبدیلی جمہوری نظام کا حصہ ہے، لیکن ہر تبدیلی کے ساتھ قومی پالیسیوں کا غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار ہو جانا ترقی کے سفر کو دشوار بنا دیتا ہے۔ پاکستان کو ایسی سیاسی روایت کی ضرورت ہے جس میں حکومتیں بدلنے کے باوجود قومی مقاصد اور عوامی فلاح کے بنیادی اصول برقرار رہیں۔

سیاسی استحکام کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافِ رائے کی آواز خاموش ہو جائے یا حزبِ اختلاف حکومت کے ہر فیصلے کو بلا تنقید قبول کر لے۔ جمہوریت کی روح اختلاف، جواب دہی اور عوامی نمائندگی میں پوشیدہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اختلاف کو تصادم کے بجائے دلیل کا ذریعہ بنایا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کرے اور تنقید کو اصلاح کا موقع سمجھے۔ اسی طرح حزبِ اختلاف کا کردار بھی صرف مخالفت تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسے قابلِ عمل تجاویز کے ذریعے قومی معاملات میں تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے۔ سیاسی بلوغت کا تقاضا ہے کہ ہر فریق اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کی بات سننے کا حوصلہ رکھے۔پاکستان کو اس وقت معاشی مشکلات، مہنگائی، بے روزگاری اور سرمایہ کاری میں غیر یقینی صورتِ حال جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ محدود آمدن رکھنے والے خاندانوں کیلئے اخراجات پورے کرنا دشوار ہے اور نوجوان بہتر مستقبل کی تلاش میں ہیں۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت کی اولین ترجیح عوامی مسائل کا حل ہونا چاہیے۔ فقط زبانی جمع خرچ یاجذباتی بیانات اور الزام تراشی سے عام آدمی کی زندگی تبدیل نہیں ہوتی۔ اس کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، زراعت اور صنعت کو فروغ دینا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات کے باوجود ان بنیادی مسائل پر مشترکہ لائحۂ عمل اختیار کریں۔

معیشت کا پہیہ اعتماد سے چلتا ہے۔ سرمایہ کاروں کو مستقبل کی سمت واضح دکھائی دے اور کاروباری طبقے کو پالیسیوں کے تسلسل کا یقین ہو تو معاشی سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ اس کے برعکس غیر یقینی سیاسی ماحول طویل المدتی منصوبہ بندی کو دشوار بنا دیتا ہے۔ پاکستان کو ایسی معاشی حکمتِ عملی درکار ہے جسے ہر نئی حکومت محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر تبدیل نہ کرے۔ جو منصوبے قومی مفاد میں ہوں، ان کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے، خامیوں کو دور کیا جائے اور مفید اقدامات کو آگے بڑھایا جائے۔ قومی وسائل اور ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی کشمکش کی نذر کرنے کے بجائے ان کے نتائج کو اہمیت دینی چاہئے۔

سیاسی تنازعات کے حل میں مکالمے کی اہمیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ مذاکرات کسی فریق کی شکست یا دوسرے کی فتح کا نام نہیں بلکہ اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقے سے حل کرنے کی کوشش ہیں۔ جب گفتگو کے دروازے بند ہو جاتے ہیں تو بدگمانیاں بڑھتی ہیں اور معمولی اختلافات بھی پیچیدہ صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ اسکے برعکس سنجیدہ مذاکرات غلط فہمیوں کو دور کرنے اور مشترکہ راستہ تلاش کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ سیاسی قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا کمزوری نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کا اظہار ہے۔ اپنے مؤقف پر قائم رہتے ہوئے قابلِ قبول حل تلاش کرنا ہی سیاسی دانش مندی ہے۔پارلیمان کو قومی مباحث اور قانون سازی کا مؤثر مرکز بنانا بھی سیاسی استحکام کیلئے ضروری ہے۔قومی معاملات پر وسیع تر اتفاقِ رائے پیدا کرنا وقت اور تحمل کا تقاضا کرتا ہے لیکن ایسے فیصلے زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں جن میں مختلف نقطۂ ہائے نظر کو مناسب اہمیت دی گئی ہو۔

سیاسی استحکام کے اثرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچتے ہیں۔ کسان کو اپنی فصل کی مناسب قیمت، مزدور کو باعزت روزگار، طالب علم کو معیاری تعلیم اور مریض کو قابلِ رسائی علاج درکار ہے۔ عام شہری سیاست کو اسی وقت اپنے مسائل کے حل کا ذریعہ سمجھتا ہے جب اسے اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی محسوس ہو۔ نوجوان پاکستان کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں تعلیم، ہنر، تحقیق اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے ساتھ قومی معاملات میں تعمیری کردار ادا کرنے کا موقع بھی ملنا چاہیے۔ برداشت، دلیل اور اختلاف کے احترام کی روایت مضبوط ہوگی تو معاشرے میں سیاسی شعور بھی پروان چڑھے گا۔

پاکستان کی ترقی کا راستہ مستقل محاذ آرائی سے نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور مشترکہ قومی مقاصد سے ہموار ہوگا۔ حکومت عوامی فلاح کو ترجیح دے، حزبِ اختلاف تعمیری کردار ادا کرے اور تمام متعلقہ فریق آئینی اصولوں کی پاسداری کریں تو سیاسی اعتماد کو فروغ مل سکتا ہے۔ سیاسی استحکام جمود کا نام نہیں بلکہ ایسا متوازن ماحول ہے جس میں اختلاف بھی برقرار رہے، جمہوری عمل بھی آگے بڑھے اور قومی ترقی کا سفر بھی جاری رہے۔قوموں کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ کون کتنی دیر اقتدار میں رہا بلکہ یہ ہے کہ کس جماعت کےعہدحکومت میں عوام کی زندگی کتنی بہتر ہوئی اور آنے والی نسلوں کیلئے کتنی مضبوط بنیادیں فراہم کی گئیں۔ پاکستان کو ایسی سیاست کی ضرورت ہے جس میں اقتدار سے زیادہ خدمت، مخالفت سے زیادہ دلیل اور ذاتی مفاد سے زیادہ قومی ذمہ داری کو اہمیت دی جائے۔ سیاسی استحکام کسی ایک فریق کی خواہش سے نہیں بلکہ اجتماعی شعور، برداشت اور مسلسل مکالمے سے جنم لیتا ہے۔ اختلاف اپنی جگہ، مگر پاکستان کی ترقی، عوام کی خوش حالی اور قومی استحکام ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

تازہ ترین