پاکستان سے سرمائے کا فرار زرمبادلہ کے ذخائر، ٹیکس وصولیوں، سرمایہ کاری، روپے کی قدر اور معاشی استحکام کو متاثر کرتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ سرمایہ ملک سے نکلتا کیسے ہے؟
سرمائے کی بیرونِ ملک منتقلی بذاتِ خود غیر قانونی نہیں۔ پاکستانی شہری اور کاروباری ادارے قوانین، زرمبادلہ کے ضوابط اور ٹیکس کی پابندی کرتے ہوئے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب جرائم سے حاصل شدہ آمدنی، ٹیکس سے بچائی گئی رقوم یا غیر ظاہر شدہ سرمایہ غیر قانونی ذرائع سے منتقل کیا جائے۔
ٹریڈ بیسڈ منی لانڈرنگ (TBML) سرمائے کی غیر قانونی منتقلی کا اہم طریقہ ہے، جس میں درآمدی و برآمدی قیمتوں یا دستاویزات میں ردوبدل کیا جاتا ہے۔ مثلاً چین سے ایک لاکھ ڈالر مالیت کی مشینری درآمد کی جائے، لیکن انوائس تین لاکھ ڈالر کی بنائی جائے۔ اگر پوری رقم بینکاری نظام سے ادا ہو تو اصل قیمت سے زائد دو لاکھ ڈالر بیرونِ ملک منتقل ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ اضافی ادائیگی کی حقیقی تجارتی بنیاد نہ ہو۔
دبئی یا کسی دوسرے تجارتی مرکز کی درمیانی کمپنی بھی استعمال ہوسکتی ہے۔ اشیا چین سے براہِ راست پاکستان پہنچتی ہیں، مگر دستاویزات میں آف شور کمپنی کو درمیانی فریق ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگر چینی سپلائر ایک لاکھ ڈالر وصول کرے اور درمیانی کمپنی پاکستانی درآمد کنندہ کو تین لاکھ ڈالر کا بل دے تو حقیقی تجارتی بنیاد کے بغیر اضافی رقم باہر جاسکتی ہے۔ تاہم ہر درمیانی کمپنی یا قیمت کا فرق غیر قانونی نہیں؛ اصل سوال اضافی ادائیگی کی بنیاد اور آخری مستفید کی شناخت ہے۔
سولر پینلز کی درآمدات پر ایف بی آر کی تحقیقات میں اوور انوائسنگ کی نشاندہی ہوئی۔ 2017ء سے 2022ء کے دوران 63 درآمد کنندگان کی 6232 دستاویزات میں تقریباً 69.5ارب روپے کی اوور انوائسنگ سامنے آئی۔ فروری 2025ء میں سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 80مشکوک کمپنیوں کے ذریعے تقریباً 106 ارب روپے بیرونِ ملک منتقل ہوئے، جبکہ 63کمپنیوں کے معاملات میں تقریباً 69 ارب روپے کی اوور انوائسنگ ہوئی۔ جولائی 2025ء میں 13 کمپنیوں پر 111ارب روپے کے جرمانے عائد اور بندرگاہوں پر ان کے سینکڑوں کنٹینر ضبط کیے گئے۔
اس معاملے نے بینکوں کے کمپلائنس نظام پر سوالات اٹھائے۔ رپورٹ شدہ الزامات کے مطابق، بعض بڑے بینکوں میں جعلی کاغذی درآمدی کمپنیوں کے کھاتوں میں 45 ارب روپے سے زائد کی غیر معمولی نقد منتقلیوں کے باوجود مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس (STRs) اور صارفین کی شناخت (KYC) کے تقاضوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ یہ بھی رپورٹ ہوا کہ اوور انوائس شدہ رقوم متحدہ عرب امارات اور سنگاپور کی شیل کمپنیوں کے ذریعے منتقل ہوئیں اور سولر پینلز مقامی مارکیٹ میں کاغذی نقصان ظاہر کرکے کم قیمت پر فروخت کیے گئے۔
اس اسکینڈل نے تجارتی بینکاری، کسٹم ویلیوایشن اور اینٹی منی لانڈرنگ (AML) کے فریم ورک کی خامیاں واضح کردیں۔ اس کے بعد حکومت اور ایف بی آر نے درآمدات کی اصل بین الاقوامی قیمتوں کی ریئل ٹائم ویلیوایشن اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ فوری ڈیٹا شیئرنگ کا نظام نافذ کیا تاکہ تجارت کے نام پر رقم باہر بھیجنے کے راستے بند کیے جاسکیں۔ جو مُکّا جنگ کے بعد یاد آئے، اسے اپنے منہ پر مار لینا چاہیے۔ ہمارے نظام کا المیہ ہے کہ اسے اصلاحات کا خیال بھی نقصان اٹھانے کے بعد ہی آتا ہے۔
برآمدات کی قیمت کم ظاہر کرنا، یعنی انڈر انوائسنگ، بھی سرمائے کے فرار کا ذریعہ ہے۔ اگر ایک لاکھ ڈالرمالیت کا سامان برآمد کرکے دستاویزات میں صرف ساٹھ ہزار ڈالر ظاہر کیے جائیں تو باقی چالیس ہزار ڈالر بیرونِ ملک روکنےیا غیر ظاہر شدہ اکاؤنٹ میں رکھنے کا امکان ہوتاہے۔ یوں برآمدی آمدنی کا حصہ ملکی بینکاری نظام میں واپس نہیں آتا۔
فرضی درآمدات، غیر حقیقی خدمات، غیر معمولی کمیشن اور تیسرے فریق کو غیر واضح ادائیگیاں بھی رقوم کی منتقلی کیلئے استعمال ہوسکتی ہیں۔ چینی سپلائرز اور ایرانی مصنوعات، خصوصاً سرامک ٹائلز، کی درآمدات میں اصل مستفید افراد اور رقوم کے ذرائع کی جانچ ضروری ہے۔ آف شور کمپنی کی ادائیگی میں اس کا حقیقی تجارتی کردار اور آخری وصول کنندہ معلوم کیا جائے۔ ایران سے متعلق تجارت میں قابلِ اطلاق پابندیوں، ادائیگیوں، دستاویزات اور مال کی نقل و حرکت کی جانچ بھی ناگزیر ہے۔
سرمائے کے فرار کا ایک اور راستہ غیر قانونی زرمبادلہ کا کاروبار اور حوالہ و ہنڈی ہے۔ ان نظاموں میں مختلف ممالک کے فریق باہمی حساب کتاب اور ادائیگیوں سے رقوم منتقل کرسکتے ہیں۔ ہر بار نقد کرنسی سرحد پار لے جانا ضروری نہیں؛ مختلف مقامات پر وصولیاں اور ادائیگیاں ایڈجسٹ کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً پاکستان میں روپے وصول کرکے مطلوبہ ملک میں غیر ملکی کرنسی کسی شخص یا اکاؤنٹ کو ادا کردی جاتی ہے۔ یوں رقم روایتی بینکاری نظام سے باہر منتقل ہوسکتی ہے۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے ذرائع کے مطابق، امریکی ڈالر اور دوسری غیر ملکی کرنسیاں، جنہیں ڈیلر ’’کچرا‘‘ کہتے ہیں، پشاور کے راستے افغانستان اسمگل کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ کرنسیاں افغان بینکوں کے ذریعے دوسرے ممالک منتقل ہوتی ہیں، جبکہ ’’کچرا‘‘ دبئی پہنچا کر ڈالر میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور میں نقد ڈالر ملک کے دیگر حصوں سے زیادہ مہنگے ملتے ہیں۔
بیرونِ ملک موجود اثاثوں کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ ان کی خریداری کا سرمایہ کہاں سے آیا، پاکستان سے باہر کیسے منتقل ہوا اور کون سا مالیاتی یا تجارتی طریقہ استعمال کیا گیا؟ جواب مستند مالیاتی ریکارڈ اور تحقیقات سے ہی مل سکتے ہیں۔
متعلقہ ادارے صرف بیرونِ ملک منتقل رقوم یا سامنے آنیوالے اثاثوں تک محدود نہ رہیں بلکہ مالیاتی روابط، کمپنیوں اور اکاؤنٹس کے تعلق اور بیرونِ ملک فائدہ اٹھانے والوں کا سراغ بھی لگائیں۔ ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، ایف آئی اے، این سی سی آئی اے اور دیگر اداروں کی کارکردگی کا جائزہ بھی ضروری ہے، جس پر الگ نشست درکار ہے۔ جب تک مالیاتی سلسلے کی تمام کڑیاں نہیں جوڑی جاتیں، سرمائے کے فرار کی مکمل تصویر سامنے نہیں آسکتی اور ذمہ دار عناصر کا مؤثر احتساب ممکن نہیں۔