• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گلاسگو میں ’تصوف اور عصرِ حاضر‘ کے موضوع پر خصوصی نشست

صوفی فاؤنڈیشن اسکاٹ لینڈ کے زیرِ اہتمام گلاسگو کے ایک مقامی ریسٹورنٹ میں تصوف اور عصرِ حاضر کے موضوع پر ایک خصوصی نشست منعقد ہوئی، جس میں ہیلی فیکس سے فرخ سلامت اور صوفینہ وحید نے خصوصی شرکت کی، تقریب کا اہتمام صوفی اصغر علی نے کیا۔

سہیل عظیمی نے تصوف کی تاریخی، روحانی اور سماجی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تصوف اسلامی تاریخ کے ابتدائی ادوار میں زہد، عبادت اور تزکیۂ نفس کی روایت سے پروان چڑھا، اس لیے کسی ایک شخصیت کو اس کا بانی قرار دینا تاریخی طور پر درست نہیں۔ 

انہوں نے کہا کہ تصوف کی بنیاد رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات، احسان، اخلاص، ذکرِ الہٰی اور تزکیۂ نفس پر قائم ہے۔

سہیل عظیمی نے کہا کہ پہلی اور دوسری صدی ہجری میں حضرت حسن بصریؒ، حضرت رابعہ بصریؒ، حضرت ابراہیم بن ادہمؒ اور حضرت فضیل بن عیاضؒ نے اس روایت کو فروغ دیا، جبکہ بعد میں حضرت جنید بغدادیؒ اور امام غزالیؒ نے تصوف کو فقہ اور عقیدہ کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔

صوفی اصغر علی نے کہا کہ اسلام کے دیگر علوم کی طرح تصوف کا سرچشمہ بھی قرآنِ مجید اور اسوۂ رسول ﷺ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں ذہنی دباؤ، بے چینی نفسیاتی عوارض اور مادہ پرستی میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ تصوف اس کا بہترین علاج ہے، جو انسان کو توکل، صبر، شکر، قناعت اور حسنِ اخلاق کی تعلیم دیتا ہے، جو ذہنی و روحانی سکون کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

سفینہ وحید نے کہا کہ اسلامی تاریخ میں تصوف ایک ایسی روحانی روایت ہے جس کا بنیادی مقصد انسان کے باطن کی اصلاح، اخلاق کی بلندی، نفس کی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔

فر ح سلامت نے کہا کہ اگرچہ تصوف بطور اصطلاح قرآن و حدیث میں موجود نہیں، تاہم تزکیۂ نفس، تقویٰ، اخلاص، صبر، شکر، احسان اور محبتِ الہٰی جیسے تصورات قرآن و سنت میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں، جنہیں بعد کے ادوار میں منظم روحانی روایت کی صورت میں تصوف کہا جانے لگا۔

شاہد میرنے کہا کہ برصغیر میں اسلام کے فروغ میں صوفیائے کرام نے نمایاں کردار ادا کیا، جن میں خواجہ معین الدین چشتیؒ، حضرت نظام الدین اولیاؒ، حضرت داتا گنج بخشؒ، حضرت میاں میرؒ، حضرت بہاؤالدین زکریاؒ اور حضرت بابا فریدؒ سمیت متعدد بزرگ شامل ہیں۔

راجہ انضال نے کہا کہ جنوبی ہند، خصوصاً کیرالہ میں اسلام محمد بن قاسم کی آمد سے قبل ہی عرب تاجروں اور پرامن دعوت کے ذریعے پہنچ چکا تھا۔ 

جاوید اللہ نے کہا کہ معاشرے کو امن، محبت اور رواداری کی ضرورت ہے۔ طاہر انعام شیخ نے کہا انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک میں اسلام تاجروں، مبلغین اور صوفیائے کرام کی دعوت کے ذریعے پھیلا۔

برطانیہ و یورپ سے مزید