آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دنیا میں کئی با صلاحیت ہستیاں اپنے فن کی امام ہوتی ہیں اور آنے والی نسلوں پر گہر ے و ان مٹ نقوش چھوڑتی ہیں۔وہ اپنی اقوام و ممالک کی حدود سے ماورا ہوتی ہیں اور بلاامتیاز مذہب ملت، رنگ و نسل پوری انسانیت کا اثاثہ قرار پاتی ہیں۔جنوبی ایشیاء کی پانچ قابلِ فخر شخصیات جسٹس (ر)ڈاکٹر جاوید اقبال، محترم عبدالستارایدھی، دلیپ کمار، لتا منگیشکراور مولانا وحید الدین خاں مجھے بے حد پسند ہیں۔ وطن عزیز کی ممتاز یونیورسٹیوں کے ذمہ داران کو میری تجویز ہے کہ وہ عصر حاضر کے ان پانچ شخصیات کی خدمات کا اعتراف ان کی زندگیوں میں کرتے ہوئے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں پیش فرمائیں۔ ہر دو ممالک کی حکومتیں ایسی غیر متنازع شخصیات کو اپنی اپنی اعزازی شہریتوں سے نوازیں۔ آج کے کالم کو ہم ایک شخصیت محترم ڈاکٹر جاوید اقبال تک محدود رکھتے ہیں ۔تمنا تھی کہ 5 اکتوبر کو ڈاکٹر صاحب محترم کا 90واں جنم دن الحمرا ہال میں اُن کے تمام دوست احباب کو جمع کرتے ہوئے انہی کی صدارت میں منایا جائے لیکن ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ وہ تو اس دن بیرون ملک ہونگے دوسرے انہوں نے اس حوالے سے میری حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے حوصلہ شکنی کی اور کہا کہ میں اس طرح کی چیزوں کو پسند نہیں کرتا۔ مجھے زندہ باد یا مردہ باد کے نعرے لگوانے کا شوق نہیں ہے۔ میں ایسی

محفلوں میں کم ہی جاتا ہوں، اب تو میں عمر کے اس حصے میں ہوں ،جہاں میں نے لوگوں سے ملنا جلنا کافی کم کر دیا ہے لوگ مجھے انٹرویو کیلئے کہتے ہیں تو بھی عموماً میں معذرت کر لیتا ہوں ابھی پچھلے دنوں آپ کے عطاء قاسمی صاحب بھی اس سلسلے میں آئے تھے، میں نے ان سے بھی معذرت کی۔میں محترم ڈاکٹر صاحب کا شکر گزار ہوں کہ اس سب کے باوجود میرے اصرار پر انہوں نے اُس دن جب وہ بیرون ملک روانہ ہو رہے تھے، مجھے شرفِ ملاقات بخشا اور جس جس موضوع پر میں نے چاہا، اُس اُس موضوع پر ڈاکٹر صاحب نے گفتگو فرمائی۔ اُن کی سالگرہ پر جاوید شناسوں کی ایک محفل منعقدکرنے کا ارمان اس لئے بھی رہ گیا ہے کہ اس سال 6اکتوبرکو بڑی عید کا دن تھا۔ ڈاکٹر صاحب کو ان کے کئی برس پہلے کے الفاظ یاد دلائے کہ’’ انسان بوڑھا تو 90سالوں کے بعد ہوتا ہے‘‘۔ اس حوالے سے ابھی اُن کے بڑھاپے کا آغاز ہو رہا ہے۔ جس طرح بچپن اور جوانی کا ایک دورانیہ ہوتا ہے اسی طرح بڑھاپے کا بھی تو ایک دورانیہ ہونا چاہئے جو اٹھارہ نہیں تو پندرہ سال ضرور ہو، لیکن اُن کیلئے لب پر دعا بن کے جو تمنا آتی ہے وہ بزبان غالب عرض ہے۔ ’’آپ‘‘سلامت رہو ہزار برس ،ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار: محبانِ جاوید کیلئے باعثِ اطمینان بات یہ ہے کہ اُن کی صحت اب بھی الحمد اللہ قابلِ رشک ہے چلنے پھرنے میں اگرچہ اب چھڑی کا استعمال شروع کر دیا ہے لیکن زمین پر اس کی اڑیس کم ہی آتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب محترم اس کے بغیر بھی اچھی خاصی رفتار سے چل رہے ہوتے ہیں گو رفتار سرتاج عزیز صاحب جتنی نہیں رہی۔ اب بھی وہ ملکوں ملک گھوم آتے ہیں ملکی حالات و واقعات سے پوری طرح باخبر رہتے ہیں ۔اگرچہ اس سلسلے میں اُن کی معاونت وہ بہادر اور پر عزم خاتون کرتی ہیں جنہیں اُن کی شریک حیات ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ میاں بیوی اگر زندگی کے ساتھی ہوتے ہیں تو محترمہ جسٹس(ر) ناصرہ جاوید اقبال صاحبہ اپنا یہ فریضہ زندگی بھی بطریقِ احسن ادا فرما رہی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب محترم کے آرام، طعام ،اسٹڈی اور خوشی کا پورا خیال رکھتی ہیں۔اگرچہ زندگی کی تمام خوشیاں اور رعنائیاں ڈاکٹر صاحب کے چاروں اطراف موجود ہیں لیکن ان سب کے باوجود وہ مسلمانوں کے قومی و ملی حالات پر نہ صرف یہ کہ پریشان رہتے ہیں بلکہ اچھے خاصے آزردہ وافسردہ و دل گرفتہ ہیں ۔جب میں نے وطنِ عزیز کی صورتحال پر ان کا جائزہ سننا چاہا تو وہ اپنی مایوسی چھپانے میں کامیاب نہ ہو سکے بولے کہ بانیانِ پاکستان نے یہ ملک ایسی دھینگا مشتی کیلئے تو حاصل نہیں کیا تھاوہ تو پاکستان کو اقوامِ عالم کیلئے ایک ماڈل بنانا چاہتے تھے لیکن یہاں کیا تماشے ہو رہے ہیں۔ کبھی ہماری فوج اپنے ہی ملک کو فتح کر رہی ہوتی ہے اور کبھی جمہوریت میں نئے کھیل شروع کر دئیے جاتے ہیں۔آخر یہاں کس بات پر دھرنے دئیے جا رہے ہیں؟ ملک و قوم کو کیوں مفلوج کیا جا رہا ہے؟ چھیاسٹھ برس گزرنے کے باوجود ہمارے اندر میچورٹی کیوں نہیں آرہی؟ یہ وہ پاکستان تو نہیں ہے جس کا خواب میرے والد نے دیکھا تھا۔میں نے چاہا کہ ڈاکٹر صاحب سے ملکی و قومی امور پر کم اُن کی ذاتی زندگی پر زیادہ گفتگو کروں اس لئے اُن کے سونے جاگنے کے معمولات سے لے کر کھانے پینے میں اُن کی ترجیحات پر بات ہوئی ،اُن کے لکھنے پڑھنے اور دیگر تفکرات سے آگہی ہوئی۔ ایک مرتبہ میںنے ڈاکٹر صاحب کو کہا کہ میں اکثرمذہبی رہنمائوں کے انٹرویو کرتے ہوئے ازراہِ تفنن اُن سے آپ کے متعلق بھی سوال پوچھ لیتا ہوں۔ بیشتر علماء بظاہر آپ کے والد مرحوم کے عشق میں گرفتار ہوتے ہیں لیکن آپ کے متعلق سخت زبان استعمال کرتے ہیں شاید اس لئے کہ انہوں نے علامہ اقبال ؒ کو بھی اُن کے چند اشعار کو لے کر اپنی ڈھب کا سمجھ رکھا ہے ایک مولوی کے روپ میں مشہور کر رکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب بولے ،میرے متعلق علماء جو بھی فرماتے ہیںوہ کتنا بھی سخت ہوآپ ضرور نوٹ کر لیا کریں میں کسی بھی نوع کی تنقید سے نہیں گھبراتا۔ عرض کی کہ ڈاکٹر صاحب میں آپ کو اقبال ؒ سے زیادہ سر سیدؒ کے قریب محسوس کرتا ہوں شاید اس لئے سرسیدؒ کا غصہ بھی آپ پر اتار دیا جاتا ہے ۔ڈاکٹر صاحب بولے لیکن اقبالؒ کا کہنا ہے کہ سر سیدؒکو جتنا میں سمجھا ہوں برصغیر میں کوئی بھی دوسرا شخص سر سیدؒ اور ان کے افکار کو اتنا نہیں سمجھا۔ڈاکٹر صاحب نے اپنے اہم احباب اور اُن سے تعلقات کے بارے میں بڑی خوبصورت آگہی بخشی لیکن ساتھ ہی اس تاسف کا اظہار کیا کہ ’’وہ سب تو رخصت ہو گئے ہیں ،اس حوالے سے میں ایک نوع کی تنہائی محسوس کرتا ہوں‘‘ عرض کی کہ آپ تو جنریشن گیپ کے قائل نہیں ہیں، اس لئے آپ نئی نسل کے لوگوں سے اپنے تعلق کو بھی اس نظر سے دیکھیں۔ ڈاکٹر صاحب نے سید امجد علی کو بہت یاد کیا جو سید مراتب علی شاہ کے فرزند تھے اور گول میز کانفرنس میں علامہ صاحب کے بھی خاصے قریب رہے۔ اس طرح ان کے چھوٹے بھائی سیدبابر علی شاہ جو لمز کو چلاتے ہیں، کے متعلق بھی اظہار خیال کیا افسر قنرلباش اور کچھ دیگر خواتین و حضرات کی یادیں بھی تازہ کیں۔ چوہدری محمد حسین تو حضرت علامہ کے قریبی مصاحبین سے تھے۔ ان کا تذکرہ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ ایک مر ّبی کی حیثیت سے سپاس کے ساتھ کرتے ہیں۔ سر ظفر اللہ، میاں امیرالدین، ڈاکٹر صاحب کی ہمشیرہ منیرہ بانو صاحبہ اور اُن کی اولاد کا بھی حوالہ آیا اور مجید نظامی صاحب جن کے ساتھ تعلقات سرد بھی رہے اور گرم بھی۔ڈاکٹر صاحب نے علامہ اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے متعلق یہ کہہ رکھا ہے کہ ’’علامہ کی تلقین اور نصیحت کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں نے عمر بھر اقبال فہمی اور اقبال شناسی کی جو کوشش کی ہے۔ وہ در اصل علامہ کے ثمر سے مے لالہ فام کے حصول کی کوشش تھی کہ میں خود بھی اس مے لالہ فام کے کیف سے بہرہ ور ہو سکوں اور دوسروں کو بھی اس میں شریک کروں‘‘۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے فکر اقبال کو بڑی حد تک خرافات سے بچاتے ہوئے اس کی وہ تعبیر کی ہے جو اصل اقبال کی مطابقت میں ہے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اس میں نئے برگ وبار اگائے ہیں۔
میں شاخ تاک ہوں ، میری غزل ہے میرا ثمر
میرے ثمر سے مئے لالہ فام پیدا کر

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں