آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ18؍شعبان المعظم 1440ھ24؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’تھرپارکر‘‘ کی صورتحال پر تفصیلی رپورٹ آچکی ہے۔ سندھ حکومت کا دعویٰ ہے کہ تھر میں کوئی حقیقی قحط نہیں ہے بلکہ یہ ایک سیاسی ایشو ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کا فرمان ہے:’’تھر کے لوگ غریب نہیں، یہ 60لاکھ مویشیوں اور سیکڑوں ایکڑ زمینوں کے مالک ہیں۔ گزشتہ دنوں صوبائی وزیر اطلاعات جناب شرجیل میمن نے کہا کہ میں میڈیا کو تھرپارکرلے جانے کو تیار ہوں، میڈیا میرے ساتھ چلے اور تھر کی صورت حال کا اپنی آنکھوں سے جائزہ لے۔‘‘ ہم نے اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے طور پر تھر جانے کا پروگرام بنایا۔ ہمارا 5 رُکنی وفد اتوار کی صبح تھر کے لئے روانہ ہوا۔ کراچی سے حیدرآباد، میرپور خاص، عمر کوٹ، چھاچھرو… تک واقعتا حالات معمول کے مطابق تھے۔ زندگی یونہی رواں دواں تھی، لیکن جیسے ہی چھاچھرو سے آگے ’’میٹھریو‘‘ پہنچے تو آنکھوں سے پٹی کھلنا شروع ہوگئی۔ سب ہرا ہی ہرا دِکھنا بند ہوگیا۔ سڑک ختم ہوگئی۔ عام گاڑی آگے نہیں جاسکتی تھی۔ ریت کے جھکڑ جکڑنے لگے۔ مشکیزے اور مٹکے نظر آنے لگے۔ اونٹوں اور گدھوں کے ذریعے پانی منتقل ہوتا نظر آنے لگا۔ خال خال نظر آتے لوگوں کے چہروں پر مسکنت عیاں تھی۔
ہم ’’کینکڑے‘‘ پر سوار ہوکر سرحد کے قریبی علاقوں پنجلائی بستی، لالوکاتڑ بستی، مٹڑیو بستی، کیتاڑی بستی، تڑاکا بستی، بہچو بستی، خیر محمد

بستی، میر خان بستی، محمد علی بستی، نور محمد بستی، دریاخان بستی، فقیر بستی، خالد کی بستی، مولوی شہاب الدین بستی، میٹھل بستی کی طرف چل پڑے۔ 2گھنٹے لق و دق صحرا میں چلنے کے بعد ہم عصر کی نماز کے وضو کیلئے پانی تلاش کرتے کرتے ایک قدیم کنویں پر پہنچے۔ یہ جملانی بستی کے مضافات میں واقع تھا۔ کنویں کے اردگرد لوگوں اورجانوروں کا ایک ہجوم تھا۔ خواتین کے سروں پر مٹکے تھے۔ ننگے پائوں بچوں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنی بچیوں نے گدھوں پر چمڑے کے مشکیزے لادے ہوئے تھے۔ یہ سب اپنی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ گائوں کے نوجوان اور بوڑھے چمڑے کے ڈولوں سے بڑی محنت اور مشقت سے تھوڑا تھوڑا پانی نکالنے میں مصروف تھے۔ جس طرح بیلوں کو کولہو میں یا کھیت میں ہل چلانے کیلئے پنجالی میں جوتا جاتا ہے،اسی طرح نوجوانوں کو جوتا ہوا تھا۔ وہ ڈول کھینچتے کھینچتے دور تک تقریباً ربع کلومیٹر تک جاتے اور پھر واپس آتے۔ تھر میں پانی اوسطاً 4 سو سے 6 سو فٹ نیچے ہوتا ہے۔ ہمیں پانی کے انتظار میں کھڑے کھڑے مغرب ہوچکی تھی۔ بڑی مشکل سے دو لوٹے پانی ملا۔ منہ میں ڈالا تو نمکین۔ پوچھنے پر پتہ چلا یہاں پر ایسے نمکین پانی کو میٹھا پانی ہی سمجھا جاتا ہے۔ایک بچی سے میں نے پوچھا: ’’تمہارا گھر کدھر ہے؟‘‘ اس نے شمال کی طرف اشارہ کیا۔ وہ گھر تقریباً 3 کلومیٹر دور تھا۔ یہ بچی وہاں سے پانی لینے کے لئے آئی ہوئی تھی۔ ہم نے تصویریں لینا شروع کیں تو بستی کے بوڑھے ہمارے قریب آگئے۔ ہم نے پوچھا: ’’آپ کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟‘‘ انہوں نے کہا: ’’کنویں پر جنریٹر کے ذریعے موٹر لگ جائیں تو پانی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔‘‘ ہم نے تخمینہ لگوایا تو 90 ہزار بنتا تھا۔ الحمدللہ! ہم نے اپنے ایک دوست کو ساری صورتحال بتائی تو انہوں نے 4 کنوئوں پر موٹروں کا انتظام کردیا ہے۔ دنیا بھر میں اصول ہے کہ جب بھی کسی ملک و قوم پر مشکل وقت آتا ہے تو صرف حکومت ہی نہیں بلکہ سب مل جل کر کام کرتے ہیں۔ تھر کا قحط ایسا ہے کہ پوری قوم کو ادھر متوجہ ہونا چاہئے۔
65 سالہ ’’خیرو‘‘ نے بتایا کہ میری زندگی میں یہ دوسرا بڑا قحط ہے۔ پہلا قحط اَسّی کی دہائی میں آیا تھا۔ جب بھوک اور پیاس کے سبب ہمارے سارے جانور مرگئے تھے۔ پانی نکالنے کیلئے جب اونٹ اور گدھے بھی نہ رہے تو خواتین نے اپنی کمروں سے ڈولوں کے رَسے باندھ کر پانی نکالا تھا۔ ہم نے اپنی جان بچانے کیلئے سانگھڑ ہجرت کی تھی۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر یونہی چلے گئے تھے۔ میری 50ایکڑ زمین ہے۔ اگر بارش ہوتی رہے تو لاکھوں کی آمدنی ہوتی ہے۔ اگر2 سال مسلسل بارش نہ ہو تو پھر مسئلہ ہوتا ہے۔ گزشتہ اور اس سال بارشیں نہیں ہوئیں جس کی وجہ سے ہم پریشان ہیں۔ کنوئوں میں پانی نیچے تک چلا گیا ہے۔ جانوروں کے لئے چارہ اور گھاس بھی ختم ہوچکے ہیں۔ ایک اور بستی میں گئے۔ اس میں 100 کے قریب گھرانے آباد تھے۔ اس پورے گائوں میں کوئی ڈاکٹر تھا اور نہ ڈسپنسری۔ کوئی سخت بیمار ہوجائے تو اسے 3 گھنٹے کی مسافت پر واقع شہر چھاچھرو لایا جاتا ہے۔ آئے دن سانپوں کے ڈسنے سے اموات واقع ہوتی رہتی ہیں۔ کیتاڑی بستی میں ہم نے رات گزارنے کا ارادہ کیا۔ رات کے کھانے میں باجرے کی موٹی سی روٹی تھی لال مرچ کے ساتھ اور صبح ناشتہ لسی اور روٹی تھی۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلی ہوئی ہیں۔ جانور مررہے ہیں۔ تھرمیں روزانہ بھوک پیاس اور دوائی نہ ملنے کی وجہ سے بیسیوں افراد مررہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے جو امداد مل رہی ہے وہ فی کس 6 کلو گندم ہے۔ 6 کلو گندم کتنے دن چلتی ہے؟ 3ماہ سے اب تک صرف ایک دفعہ ہی 6 کلو ملی ہے۔ آپ خود سوچیں! صحراء میں سخت سردی کا موسم ہے۔ کھانے کیلئے روٹی نہیں، پینے کے لئے نمکین پانی کے چند قطرے، بیمار کے لئے دوا نہیں۔ بچوں کی تعلیم کے لئے اسکول نہیں اور موجودہ حکومت کو سب ٹھیک اور ہرا ہی ہرا نظر آرہا ہے۔’’شیر محمد بستی‘‘ میں واقع جھونپڑے میں ایک ایسا منظر دیکھا جس نے ہمیں نم دیدہ کردیا۔ ’’اللہ ڈنو‘‘ کے 7 بچے تھے۔ یہ صحرا میں بکریاں چراتا تھا۔ ایک رات زہریلے سانپ نے کاٹا۔ فرسٹ ایڈ اور زہر کا تریاق نہ ملنے کی وجہ سے 4 گھنٹے بعد ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اپنی جھگی میں مرگیا۔ اس کا ایک ہی بھائی تھا، وہ بھی ایک پائوں سے معذور۔ اب 5 معصوم بچیوں اور2 بچوں کی ذمہ داری اس معذور شخص کے ناتواں کاندھوں پر آگئی ہے۔ یہ معذور شخص صحراء میں بکریاں چراکر گزر بسر کررہا تھا کہ بارش کی وجہ سے گھاس پھوس بھی ختم ہونے لگا۔ کنوئوں سے پانی کم ہونے لگا۔ یہ معذور شخص صبح سویرے بکریاں لے کر نکلتا۔ چارے کی تلاش میں دور تک چلا جاتا۔ ڈھلتے سورج لوٹتا، بڑی مشکل سے کنویں سے پانی نکال کر بکریوں کو پلاتا۔ اس نے بکریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ 60 بکریوں میں سے11 بکریاں رہ گئیں۔ باقی قحط کی وجہ سے اللہ کو پیاری ہوگئی ہیں۔ کانٹوں کے احاطے میں ایک ہی جھگی تھی۔ اس میں 7 معصوم بچے دوپہر کا کھانا کھارہے تھے۔ کھانے میں صرف باجرے کی روٹی تھی جو بکری کے پانی ملے دودھ کے ساتھ کھارہے تھے۔ تین بچے شلوار سے محروم تھے جبکہ کسی کے بھی پائوں میں چپل نہ تھی۔ ٹھنڈی ریت پر یونہی بیٹھے تھے۔ سردی کی وجہ سے بچوں کی ناک بہہ رہی تھی۔ ہم سے جو کچھ ہوسکا فوری مدد کی۔ مزید کا وعدہ کرکے آگے بڑھ گئے۔اس وقت تھر کے لوگوں کو چاربڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ 1۔ پانی کی قلت ہے۔ کنوئوں سے پانی نکالنے کے لئے موٹروں اور جنریٹروں کی ضرورت ہے۔ 2۔ کھانے کے لئے خوراک کی اَشد ضرورت ہے۔ خوراک کی کمی کی وجہ سے لوگوں کی پسلیاں نکلنے لگی ہیں۔ وافر مقدار میں خوراک تقسیم کرنی چاہئے۔ 3۔ صحت کے سنگین مسائل ہیں۔ دوائوں اور ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ فرسٹ ایڈ کا سامان درکار ہے۔ نمبر 4۔ گرم لحافوں، کپڑوں اور جوتوں کی فوری ضرورت ہے۔ ٹھنڈی ریت میں بچے بیمار ہوکر مررہے ہیں۔ تعلیم بھی ضروری ہے۔ دس دس بارہ بارہ سال کے بچوں نے اسکول کا منہ تک نہیں دیکھا۔ گائوں اور بستیوں سے شہر آنے کے لئے راستے بھی نہیں ہیں۔ سڑک اور ٹرانسپورٹ بھی لازمی ہے۔ گزشتہ ہفتے سندھ حکومت نے تھر کی صورتحال پر غور کرنے کے لئے مٹھی میں کابینہ کا اجلاس بلایا تھا۔ وزیر اعلیٰ 94 گاڑیوں کے لائو لشکر کے ساتھ یہاں آئے تھے۔ اس ایک اجلاس پر جتنی رقم خرچ ہوئی، اتنی رقم سے تھر کے تمام کنوئوں پر جنریٹر کے ساتھ موٹریں لگائی جاسکتی تھیں۔ 215ڈسپنسریاں اور110 اسکول بنائے جاسکتے تھے۔ تھر کے ایک لاکھ لوگوں کو سردی کا سامان پہنچایا جاسکتا تھا۔ ایک سڑک بنوائی جاسکتی تھی۔ خوراک کا مسئلہ حل کیا جاسکتا تھا۔ جناب شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ میں صحافیوں کو تھر لے کر چلتا ہوں، وہ دیکھیں کہ تھر کا قحط حقیقی ہے یا سیاسی؟ میمن صاحب تو صحافیوں کا وفد نہ لے جاسکے۔ ہم اپنے طور پر ہوآئے ہیں۔ ہماری کسی بھی سیاسی جماعت سے ذرا بھی وابستگی اور ادنیٰ سابھی تعلق نہیں ہے۔ ہم صحافیوں، وکلا برادری اور سماجی کارکنوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے خرچ پر تھر جائیں۔ پتہ چل جائے گا کہ تھر میں مور ناچ رہے ہیں یا موت کا رقص جاری ہے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں