آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
1970کے عام انتخابات کے بعد جب شیخ مجیب الرحمٰن مشرقی پاکستان سے اور جناب ذوالفقار علی بھٹو مغربی پاکستان سے واضح اکثریت کے ساتھ انتخابات جیت گئے اور آئین سازی کے مقابلے میں دونوں لیڈروں کے درمیان گفتگو جاری تھی تو اس وقت لاہور میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر بھٹو نے شیخ مجیب الرحمٰن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تمہاری مشرقی پاکستان میں اکثریت ہے تو ہماری مغربی پاکستان میں اکثریت ہے ۔ لیکن آئین پورے پاکستان کا بننا ہے لہٰذاآئین سازی کے معاملے میں دونوں بڑی پارٹیوں کا متفق ہونا ضروری ہے کیونکہ بھٹو کی قومی اسمبلی کی 81سیٹوں کے مقابلے میں شیخ مجیب الرحمٰن کی مشرقی پاکستان سے 161سیٹیں تھیں اور وہ کچھ چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر دوتہائی اکثریت سے پاکستان کا مستقل آئین منظور کر سکتا تھا۔ بھٹو صاحب نے اسی تناظر میں یہ بیان دیا تھا جنہیں اس وقت کے روزنامہ آزاد میں اس شہ سرخی کے ساتھ چھاپا گیا کہ ’’ اِدھر ہم۔۔۔اُدھر تم‘‘ اس وقت سے جناب بھٹو کے مخالفین اُن کے خلاف یہ مسلسل پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ بھٹو نے شیخ مجیب الرحمٰن سے یہ کہا تھا کہ تم مشرقی پاکستان کے حکمران بن جائو اور میں مغربی پاکستان کا ۔ گویا بھٹو نے اس نعرے کے ذریعے ملک توڑنے کا اعلان کردیا تھا۔ اس تاریخی غلطی کو درست کرنے کے لئے

ضروری ہے کہ اس وقت کے سیاسی حالات و واقعات کا غیر جانبدرانہ جائزہ لیا جائے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ 70کے عام انتخابات کو یحیٰی خان کی حکومت نے آئین سازی کے ساتھ مشروط کردیا تھا۔ چونکہ یحییٰ خان نے جنرل ایوب 62 کاآئین منسوخ کردیا تھا اور ون یونٹ توڑ کر پانچ صوبے بحال کردئیے تھے لہٰذا ان انتخابات کو آئین ساز اسمبلی کے انتخابات قرار دے دیا گیا۔ جو یحییٰ خان کی فوجی حکومت کی جانب سے بدنیتی کا سب سے بڑا ثبوت ہے کیونکہ جنرل یحییٰ خان اقتدار کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا تھا اس لئے اس نے اسمبلی کی زندگی اور موت کو آئین سازی کے ساتھ مشروط کردیا تھا۔ اور وہ بھی اس طریقے سے اگر منتخب قومی اسمبلی 120دنوں کی قلیل مدّت میں پاکستان کا آئین تیار نہ کرسکی تو وہ خود بخود تحلیل ہوجائے گی اور اگر بالفرض اسمبلی اس مدّت میں آئین منظور کرلیتی ہے اور وہ صدر ِ پاکستان جنرل یحییٰ خان کو پسند نہیں آتا تو وہ بھی منتخب اسمبلی کو تحلیل کر سکتا ہے (بحوالہ لیگل فریم ورک آرڈرمارچ 1970)پہلی بات کہ اسمبلی کو اتنی قلیل مدّت میں آئین سازی کا پابند بنانا ہی انتقالِ اقتدار کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بنا دیا گیا۔ دوسری بات کہ عوام کے منتخب نمائندوں کے بنائے ہوئے آئین کو ایک غاصب قومی حکمران کی رضا مندی کے ساتھ مشروط کردیا گیا۔ یحییٰ خان کا کام صرف منصفانہ اور غیر جانبدرانہ انتخابات کروانا تھا نہ کہ منتخب عوامی نمائندوں کو اپنی مرضی ماننے پر مجبور کرنا۔ یہ 70کے عام انتخابات میں سب سے بڑی دھاندلی تھی۔ کیونکہ جنرل یحییٰ خان کو اسکی ایجنسیوں نے باور کرایا تھا کہ دونوں حصِّوں میں کوئی پارٹی واحد اکثریتی پارٹی بن کر نہیں ابھرے گی۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمٰن کو 50-52فیصد اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو 20-25فیصد نشستیں ملیں گی۔لہٰذا سیاسی پارٹیاں 120دن کی قلیل مدّت میں آئین نہیں بنا سکیں گی۔ لہٰذا جنرل یحییٰ خان بدستور اقتدار پر قابض رہے گا ۔ لیکن انتخابات کے نتائج نے جنرل یحییٰ خان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ اب چونکہ شیخ مجیب الرحمٰن مشرقی پاکستان سے تقریباََ تمام سیٹیں جیت کر اکثریتی لیڈر کی حیثیت سے سامنے آگئے تھے لہٰذا جمہوری اصولوں کے مطابق حکومت ان کے حوالے کردینی چاہیے تھی اور یہ ان کا حق بھی تھا۔ انہوں نے مشرقی پاکستان میں یہ انتخابات 6نکات کی بنیاد پر جیتے تھے جبکہ 6نکات کی بنیاد پر مغربی پاکستان سے ان کا ایک بھی نمائندہ کامیاب نہیں ہوا تھا اور 6نکات کے بارے میں مغربی پاکستان کے عوام میں کافی تحفظات پائے جاتے تھے۔ شیخ مجیب کے 6نکات یہ تھے۔
1 ) 1940کی قرارداد ِ لاہور کے مطابق فیڈریشن کا قیام جس میں تمام صوبوں کی شمولیت رضا کارانہ ہو (گویا وہ جب چاہتے وفاق سے علیحدہ بھی ہو سکتے تھے)۔
2) وفاقی حکومت صرف دفاع اور امورِ خارجہ کی ذمہ دار ہوباقی تمام امور میں صوبے خود مختار ہوں۔
3) دونوں حِصّوں کے لئے علیحدہ کرنسی ہو۔ ایک کرنسی کی صورت میں ایسا انتظام کیا جائے کہ ایک حِصّے کی دولت دوسرے حِصّے میں منتقل نہ ہو سکے۔
4) ٹیکس لگانے اور وصول کرنے کا اختیار صوبوں کو ہو۔ صوبے مرکز کو اس کے امور چلانے کے لئے مخصوص رقم فراہم کریں گے۔
5) غیر ممالک کے ساتھ تجارت کرنے کے لئے صوبے خود مختار ہوں۔
6) صوبے اپنے دفاع کے لئے اپنی اپنی علیحدہ ملیشیا اور پیرا ملٹری فورس قائم کرسکیںگے۔
چونکہ اسمبلی کو زندہ رہنے کے لئے 120دنوں کے اندر آئین سازی کرنا تھی لہٰذا دونوں بڑی پارٹیوں نے اسمبلی کے اجلاس سے پہلے آئین کے بنیادی خدو خال طے کرنے کے لئے آپس میں میٹنگز شروع کردیں۔ مسٹر بھٹو چاہتے تھے کہ شیخ مجیب صوبوں کے علیحدہ دفاع کے مطالبے پر نظر ثانی کریں۔ ورنہ ہر صوبے کو اپنے دفاع کے لئے پیرا ملٹری فورسسز اور ملیشیا بنانے کی اجازت دینا گویا پانچ پاکستان بنانے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے یہ بات اسی تناظر میں کہی کہ ہم نے آپ کے ساڑھے پانچ نکات مان لئے ہیں آپ صوبوں کے علیحدہ ملیشیا بنانے کے مطالبے میں نرمی پیدا کریں کیونکہ آئین پورے ملک کا بننا ہے۔ اگر آپ مشرقی پاکستان میں اکثریتی پارٹی ہیں تو ہم مغربی پاکستان کی اکثریتی پارٹی ہیں یہ ہے اِدھر ہم ۔۔اُدھر تم کی حقیقت جسے آج بھی بھٹو اور پیپلز پارٹی کے خلاف ملک سے غدّاری کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یحییٰ خان جو کسی قیمت پر بھی اقتدار چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس نے اس اختلافِ رائے کو جواز بنا کراقتدار منتقل کرنے کی بجائے مشرقی پاکستان میں فوج کشی کردی جس سے پاکستان دولخت ہوگیا۔ ہوسکتا ہے کہ اگر مسٹر بھٹو شیخ مجیب کے 6نکات مان بھی جاتے تو یحییٰ خان کسی اور بہانے سے انتقالِ اقتدار سے مکر جاتا اور بالفرض اگر پاکستان کا آئین 6نکات کی بنیاد پر بن جاتاتو پھر مسٹر بھٹو کے ناقدین یہ کہتے تھے کہ مشرقی پاکستان تو ہاتھ سے جا ہی رہا تھا بھٹو نے 6نکات مان کر پاکستان کو پانچ علیحدہ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی سازش کی تھی۔