• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کشمیر، فوجی ہیڈ کوارٹر حملہ،الزام پاکستان پر،4مسلح افراد کا دھاوا، 17ہلاک، ،ذمہ دار سزا سے نہیں بچ سکیں گے، مودی

سری نگر(ایجنسیاں)مقبوضہ کشمیرکے شمالی قصبے اُڑی میں انڈین فوج کے 12ویں بریگیڈہیڈکوارٹر پر مسلح حملے میں 17 بھارتی فوجی ہلاک اوردرجنوں زخمی ہوگئے ہیں‘ بھارت نے ایک بارپھر بغیرتحقیقات کے الزام پاکستان پر عائد کردیا ‘شمالی کشمیر میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان لائن آف کنٹرول کے قریب ضلع بارہ مولا کے قصبے اُڑی میں انڈین سکیورٹی اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان تصادم پانچ گھنٹوں تک جاری رہا‘آرمی بیس پرحملے کے بعد علاقہ فائرنگ اور دھماکوں سے گونج اٹھا‘انڈین فوج کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں چار مسلح حملہ آوروں کو ہلاک کیا گیا ہے‘انڈیا کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ چاروں شدت پسندوں کا تعلق جیش محمد سے تھا ‘انہوں نےکہا کہ حملہ آروں کے پاس اسلحہ اور کچھ ایسی اشیا تھیں جن پر پاکستان کی مارکنگ تھی ‘ حملے کے بعد نئی دہلی میں وزارت دفاع اور وزارت داخلہ نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیاگیا ‘وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس حملے پیش نظر روس اور امریکا کا دورہ منسوخ کردیا ۔ بھارتی فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ سہاگ اور وزیر دفاع منوہرپاریکربھی حالات کا جائزہ لینے کے لیے کشمیر پہنچ گئے ہیں۔ادھربھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے اسے پہچانا جانا چاہیے اور تنہا کردینا چاہیے ‘ان کاکہناتھاکہ اس بات کے واضح شواہد موجود ہیں کہ حملہ آور بھاری ہتھیاروں سے لیس اور انتہائی تربیت یافتہ تھے‘ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل اور براہ راست حمایت پر وہ شدید مایوسی کا شکار ہیں‘بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے کے ذمہ دار سزاسے نہیں بچ سکیں گے ‘واقعہ کے پیچھے جن کابھی ہاتھ ہے انھیں ہر قیمت پر سزا دی جائے گی‘بھارتی وزیرخزانہ ارون جیٹلی نے کہاہے کہ ذمہ داروں کو نتائج بھگتنا پڑیں گے‘بھارت پاکستان کو عالمی سطح پر تنہاکرنے کیلئے اپنی سفارتی کوششیں تیز کرے گا‘ مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ یہ حملہ سرینگر سے شمال کی جانب 105 کلومیٹر دُور واقع اُڑی قصبہ میں واقع بھارتی فوج کے بریگیڈ ہیڈکوارٹر میں اتوار کی صبح ساڑھے پانچ بجے کیا گیا‘ واضح رہے اُڑی سے لائن آف کنٹرول صرف 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے‘سرینگر میں تعینات فوج کی 15 ویں کور کے ترجمان کا الزام ہے کہ جدید ہتھیاروں سے لیس یہ حملہ آور چند روز پہلے ہی ایل او سی عبور کر کے بھارتی علاقے میں داخل ہوئے تھے‘اے ایف پی نے بھارتی فوج کے حوالے سے بتایا کہ حملہ آوروں نے بریگیڈ ہیڈ کوارٹرمیں گھس کر فوجیوں کے خیموں اور بیرکس پر دستی بم سے حملے کئے اور اس کے فائرنگ خودہتھیاروں سے فائرنگ شروع کردی ‘ بھارتی فوج کے ڈی جی ایم اوکا کہناہے کہ زیادہ تر ہلاکتیں خیموں میں آگ لگنے سے ہوئی ہیں‘جوابی آپریشن میں شامل ایک فوجی افسر نے بتایا کہ شدت پسندوں نے بریگیڈ ہیڈکوارٹر کے ایک آفس کمپلیکس میں داخل ہوتے ہی فائرنگ شروع کردی ۔ شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے انڈین فوج کے پیرا کمانڈوز کو جنگی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جائے واردات پر اتارا گیا‘ ساڑھے پانچ گھنٹوں کے مسلح تصادم کے دوران مسلسل دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں‘فوجی ترجمان نے بتایا کہ زخمی فوجیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے سرینگر میں واقع فوجی اسپتال منتقل کیا گیا‘حملے کے بعد فوج کے خصوصی دستوں کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے اوڑی میں اتارا گیا جبکہ اوڑی اور لائن آف کنٹرول کی طرف جانے والی سڑکوں کی سیکیورٹی سخت کردی گئی اور علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔
اہم خبریں سے مزید