آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
(گزشتہ سے پیوستہ)
ہماری غذاء ملاوٹ سے بھرپور ہے اور ملاوٹ بھی ایسی گھٹیا اور خوفناک اجزاء سے کی جاتی ہے کہ بس خدا کی پناہ کیونکہ گھٹیا اور زہریلی غذا استعمال کر کے اچھے بھلے انسان کا تو کباڑہ ہی ہو جاتا ہے۔ فضائی و صنعتی آلودگی سے بیشمار بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں اور شور کی وجہ سے بھی لوگ ذہنی مریض بن رہے ہیں، ان عوامل کو کنٹرول کر کے لاکھوں افراد کو مریض بننے سے بچایا جا سکتا ہے اور یہ کام حکومتی دلچسپی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا لیکن بدقسمتی سے حکومتیں اور ہی کاموں میں مصروف ہیں۔ حکمرانوں نے اپنے اور اپنے خاندانوں کیلئے علیحدہ بستیاں آباد کر لی ہیںان کے اپنے الگ تھلگ محلات ہیں‘ انہیں منرل واٹر اور امپورٹڈ خوراک میسر ہے، وہ سردرد کا علاج بھی بیرون ملک جا کر کرواتے ہیں، ان کیلئے معمولی سی بیماری کی ادویات بھی لندن اور پیرس سے آتی ہیں، سال میں دو تین دفعہ روٹین میڈیکل چیک اپ کروانے امریکہ اور یورپ جایا جاتا ہے لہٰذا ان کیلئے تو اس سرزمین پر کوئی مسئلہ ہی نہیں، مسئلہ تو ان کیڑے مکوڑوں کیلئے ہے جو یہیں پیدا ہوتے ہیں اور یہیں سسک سسک کر مر جاتے ہیں۔ مہنگائی کا اس ملک میں یہ عالم ہو گیا ہے کہ دفن ہونے کے اخراجات بھی عام آدمی کے بس سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور

صحت پر بھرپور توجہ دینی چاہئے۔ لوگوں کو صحتمند فضا اور غذاء فراہم کرنا اور عوام کو علاج معالجے کی اچھی سہولیات دینا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ حکومت کو سرکاری اداروں کو ٹھیک کرنے پر خصوصی توجہ دینی چاہئے اور نجی شعبہ میں قائم ہسپتال، میڈیکل کالج اور یونیورسٹیوں کی بھی خبر لینی چاہئے جو اچھے ڈاکٹر پیدا کرنے کی بجائے غیرمعیاری ڈاکٹر پیدا کرنے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیںہم اس پر جلد ہی تحقیقی کالم لکھیں گے جو حکمرانوں کی آنکھیں کھول دینے کیلئے کافی ہو گا۔
آخر میں شکاگو کے ڈسٹرکٹ پولیو چیئرمین محمدکاشف خان لکھتے ہیں کہ میں پاکستان میں 20سال سے روٹری انٹرنیشنل سے منسلک ہوں اور آج کل امریکہ کے شہر شکاگو جہاں اس ادارہ کا ہیڈکوارٹر ہے کے ڈسٹرکٹ 6450 (روٹری انٹرنیشنل) کا پولیو چیئرمین ہوں۔ اسی وساطت سے میں آج آپ جیسے عالمی سطح پر مشہور قابل احترام، جہاندیدہ اور دردِدل رکھنے والے صحافی سے درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ آپ انسدادِ پولیو مہم پر کچھ لکھیں تاکہ ہماری آنیوالی نسلیں اس سے ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جائیں۔ روٹری انٹرنیشنل ان 4 بین الاقوامی اداروں یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت، سی ڈی سی اور روٹری انٹرنیشنل پر مشتمل ہے جنہوں نے 1988ء میں پولیو وائرس کو دنیا سے ختم کرنے کیلئے مشترکہ کوششوں کا آغاز کیا اور اب تک ماسوائے پاکستان کے، افغانستان، نائیجیریا اور باقی تمام دُنیا سے پولیو کا خاتمہ کیا۔ روٹری انٹرنیشنل اب تک پولیو کے خاتمے کیلئے تقریباً 12ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا میں اب صرف ان تین ممالک (پاکستان، افغانستان اور نائیجیریا) میں 291بچے پولیو جیسی اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں جن میں سے 260پاکستان، 20 افغانستان اور صرف 11نائیجیریا سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح پوری دنیا کا 90فیصد پولیو وائرس اب صرف ہمارے ملک پاکستان سے ہی تعلق رکھتا ہے جو کافی تکلیف دہ حقیقت ہے۔ آج عالمی سطح پر پاکستان پولیو پھیلانے والا ملک بن چکا ہے جہاں باجوڑ، مہمند، اورکزئی، خیبر، کرم، شمالی اور جنوبی وزیرستان جیسے پرخطر اور انتہائی دشوار گزار علاقوں کے علاوہ کراچی اور اسکے چند مضافاتی علاقوں میں (جن کا تعلق بھی بلواسطہ یا بلاواسطہ فاٹا کے لوگوں سے ہے)میں بھی پایا جاتا ہے، علاوہ ازیں پولیو وائرس کے چند کیسز جنوبی پنجاب اور کوئٹہ میں بھی پائے گئے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بہت ضروری ہے کہ ہماری افواجِ پاکستان کے شمالی وزیرستان پر کئے گئے آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے جو لوگ ہجرت کر کے بنوں اور اسکے گردونواح میں آئے تو افواج پاکستان، روٹری انٹرنیشنل، علاقائی ادارۂ صحت کی تقریباً 2500 پولیو ورکرز کی ٹیمیں ان تمام بچوں کو پولیو کے دو دو قطرے پلانے میں پہلی بار کامیاب ہوئیں جو گزشتہ تین سال سے زائد عرصہ سے اس مہلک بیماری سے غیرمحفوظ تھے۔ اس تمام عمل میں عالمی سطح پر افواج پاکستان کے کردار کو سراہا گیا اور اسی وجہ سے خاص طور پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کو ان کے حالیہ دورہ امریکہ میں کافی پذیرائی ملی جو ہمارے لئے قابل فخر ہے۔ افواجِ پاکستان ہی کی وجہ سے کراچی میں بھی پولیو ورکرز کا ان نوگوایریاز میں جانا ممکن ہوا جہاں کے بچے ابھی تک پولیو ویکسین سے محروم رہ گئے تھے۔ آج عالمی سطح پر یہ تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ پاکستان میں پولیو کے ختم نہ ہونے سے 62 سے زائد پولیو ورکرز کی ہلاکت اور اس سے زائد زخمیوں کی بڑی وجہ 2012ء میں ڈاکٹر شکیل آفریدی کی پولیو ورکرز کے طور پر اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے کیلئے امریکی ادارہ سی آئی اے کی جعلی ہیپاٹائٹس مہم ہے جس نے قبائلی مذہبی رہنمائوں کو ان تمام پولیو ورکرز کیخلاف یکجا کر دیا جو حقیقتاً اس مہلک بیماری سے بچائو کیلئے اپنا کردار ادا کر رہے تھے اور ان کو انتہائی مشکل حالات سے دوچار کر دیا کہ وہ کسی بھی قبائلی علاقے، جنوبی پنجاب کے دیہاتی علاقے اور ان قدامت پسند، اَن پڑھ، خانہ بدوش والدین سے خوفزدہ ہو گئے جو اس انسداد پولیو مہم کو آج بھی اس امریکی چال کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ضرورت اس اَمر کی ہے کہ ہمارے سیاستدان جو معاشرے میں اپنا مقام رکھتے ہیں اگر وہ اپنے جلسوں میں پولیو کے تدارک کی بات کریں اور عوام بالخصوص اپنے کارکنوں کو اس مہلک بیماری کے خاتمے کیلئے کام کرنے کی ہدایت کریں تو پاکستان نہ صرف جلد اس بیماری سے نجات حاصل کر لے گا بلکہ ہم سفری پابندیاں کے علاوہ آنیوالی مزید پابندیوں سے بھی بچ جائیں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ تمام سیاسی قائدین بشمول وفاقی اور صوبائی حکومتیں، افواجِ پاکستان، شمالی علاقہ جات کے قبائلی سردار، علمائے کرام، امام مساجد، سکولوں کے اساتذہ کرام اور خاص طور پر آپ جیسے مخلص میڈیا کے حضرات لوگوں اور والدین کو تلقین کریں کہ وہ پولیو کے خاتمے میں اپنا رول ادا کریں۔ جرگوں، مساجد میں علاقہ مجسٹریٹ، ڈی سی اوز اور امام مسجد کو پابند کیا جائے کہ وہ انسداد پولیو مہم کو انتہائی سنجیدگی سے لیں اور لوگوں میں شعور بیدار کریں کہ پولیو کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے۔ ایسا نہ ہو کہ آنے والے وقت میں دنیا پاکستان کو نہ صرف طالبان بلکہ واحد پولیو زدہ ملک ہونے کے حوالے سے پہچانے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں