آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
’’نظریہ پاکستان‘‘کو عام طور پر پاکستان کی بنیاد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔جس کے مطابق پاکستان کے قیام کا مقصد ایک مذہبی ریاست کی تشکیل تھا۔ لیکن تاریخ دانوں اور سیاسی دانشوروں میں اس حوالے سے کافی اُمور پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ اوّل یہ کہ کیا واقعی پاکستان کا قیام کسی مذہبی ریاست کے طور پر عمل میں لایا گیا تھا جس کا دعویٰ اس نظریہ پاکستان میں کیا گیا ہے۔ کیونکہ قیام ِ پاکستان کی مخالفت تو سب سے زیادہ مذہبی جماعتوں نے کی تھی اور اسے ’’ نا پاکستان‘‘ تک کہا تھا۔ جبکہ قائداعظم سمیت تحریک پاکستان کا کوئی رہنما بھی معروف معنوں میں مذہبی بیک گرائونڈ کا حامل نہیں تھا بلکہ وہ تو مذہبی جماعتوں کے معتوب تھے۔ دوم یہ کہ اس ’’نظریہ پاکستان ‘‘ کی وجہ سے پاکستان نے کیا کچھ پایا اور کیا کچھ کھویا اور آجکل اس ’’نظریہ پاکستان‘‘ کے تحت کیا کچھ ہو رہا ہے۔
رائج الوقت نظریہء پاکستان کی تاریخ کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے سابق چیف جسٹس منیر جو بائونڈری کمیشن کے رکن اور 53کی اینٹی قادیانی تحریک کی تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے تھے۔ اپنی کتاب ’’ جناح سے ضیاء تک‘ ‘ میں لکھتے ۔ ہم نے برسوں قائد اعظم محمد علی جناح کی زیرِ قیادت کام کیا لیکن ہم نے کبھی بھی ان کے منہ سے نظریہ ء پاکستان کا لفظ نہیں سنا۔

نظریہ ء پاکستان کا لفظ سب سے پہلے لائلپور(اب فیصل آباد) سے جماعت ِ اسلامی کے ممبر قومی اسمبلی میاں عبد الباری نے اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے بولا یہ صدر ایوب کا زمانہ تھا۔ وہ اس وقت ملک سے باہر تھے۔ میاں باری نے کہا پاکستان کو نظریہ ء پاکستان کے مطابق چلانا ہوگا۔ سابق صدرِ مملکت چوہدری فضل الہٰی بھی اس اسمبلی کے ممبر تھے انہوں نے میاں عبد الباری سے پوچھا کہ نظریۂ پاکستان کیا ہے تو وہ بولے’’نظریہ اسلام‘‘ چنانچہ یہاں سے نظریۂ پاکستان کا آغاز ہوگیا اور وہ مذہبی جماعتیں جو قیامِ پاکستان کے ہی خلاف تھیں ۔ انہوں نے نظریہ ٔ پاکستان کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا جس کا بطورِ خاص فائدہ یحییٰ خان اور ضیا الحق جیسےڈکٹیٹر نے اٹھایا اور جہاں نظریۂ پاکستان کے نام پر اپنے اقتدار کو طول دیا وہاں اپنے مخالفین کو بھی اسی نظریے کے تحت معتوب کرتے رہے۔ جہاںمذہب کا لفظ آجائے وہاں تو یہ سوال کرنا بھی گناہ میں شمار ہوتا ہے کہ بے شمار فرقوں میں تقسیم مذہبی جماعتوں میں سے کس جماعت کے نظریات کو بنیاد بناکر آئین سازی کی جائیگی کیونکہ اجماع یعنی اتفاقِ رائے یا Consensusکے بغیر کوئی قانون نہیں بن سکتا اور قانون کے بغیر کوئی معاشرہ تشکیل نہیں پاسکتا۔ اس میں مذہب کا کوئی قصور نہیں کیونکہ آج دنیا میں جتنے بھی آفاقی اصول یا سچائیاں ہیں وہ دنیا کے تمام مذاہب کی دین ہیں۔ لیکن چونکہ دنیا کے ہر مذہب میں مسلک یا فرقے موجود ہیں جس کی وجہ سے کسی اصول کو مذہبی قرار دینے سے فرقہ وارانہ منافرت بھڑک اٹھتی ہے لہذٰا صدیوں کے تجربے کے بعد عقلمندوں نے اس کا یہ حل نکالا کہ اس فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لئے مذہب کا نام لئے بغیر وہ تمام اصول اپنالئے جائیں جن پر اتفاق ِ رائے ہے اور ریاست کو مذہب کی بجائے اُن اصولوں کے ماتحت کردیا جائے جن پر کسی مذہبی فرقے کو اختلاف نہیں اسی نظریے کے تحت تقریباََ 18سوسال تک عیسائی ممالک کو عیسائی مذہب یا چرچ کے تحت چلانے اور اس دوران فرقہ وارانہ قتل و غارت گری اورجہالت کیوجہ سے دنیا کی پسماندہ ترین قوم رہنے کے بعد انقلاب ِ فرانس نے ریاست اور مذہب کو علیحدہ کردیا۔ جس کے بعد عیسائیوں نے ترقی کی دوڑ میں مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ لیکن ہمارے مذہبی سیاسی لیڈروں نے تاریخ سے سبق سیکھنے کی بجائے اپنے ’’نظریہ ء پاکستان‘‘ کے ذریعے تاریخ کو سبق سکھانے کی کوشش کی۔ جسکی وجہ سے عوام کے حقیقی مسائل پسِ پشت چلے گئے اور انہیں مذہبی نعروں سے بہلانے کی دوڑ لگ گئی ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہ نظریہ ء پاکستان ہمارے ملک کو 23سال سے زیادہ متحد نہ رکھ سکا جس سے زیادہ عمر انسانوں کے باہمی تعلّقات کی ہوتی ہے۔ ہم سے علیحدہ ہونے والے مشرقی بازو نے بنگلہ دیش بنتے ہی رفتہ رفتہ ہر اس ’’ خامی ‘‘ کو دور کرنا شروع کردیا جس نے 47میں بننے والے پاکستان کو 1971ء میں ایک ناکام ریاست میں تبدیل کردیا تھا۔ جس میں مذہبی بنیادوں پر ملک کی تشکیل بھی شامل ہے۔ آج بنگلہ دیش ایک مذہبی نہیں بلکہ سیکولر ریاست ہے جس میں ریاست اور مذہب کو الگ کردیا گیا ہے۔ کیا اس سے بنگلہ دیش کے اندر مذہب خطرے میں پڑ گیا ہے؟ جی نہیں بنگلہ دیش آج بھی اتنا ہی مذہبی ملک ہے جتنا پہلے تھا۔ وہاں تبلیغی جماعت کا اجتماع حج کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا دوسرا بڑا اجتماع ہوتا ہے۔ البتّہ وہاں مذہب کے نام پر لوٹ کھسوٹ اور قتل و غارت گری میں کمی ضرور آگئی ہے۔ وہاں جمہوریت مستحکم ہوتی جارہی ہے اس کی معیشت پاکستان سے بہتر ہوگئی ہے۔ اسکی ترقی کے اشاریئے برّصغیر میں سب سے بہتر ہیں۔ وہاں علیحدگی کی تحریکیں نہیں چل رہیں اور اسکی بقاء کے حوالے سے دنیا میں کسی کو تشویش نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ انہوں نے آبادی کے اضافے پر بھی روک لگا دی ہے کیونکہ پاکستان کی طرح وہاں آبادی کو روکنے یا پولیو کے قطرے پلانے پر کفر کے فتووں کا ڈر نہیں رہا۔ جبکہ پاکستان میں ’’نظریہ ء پاکستان ‘‘ کی بدولت ہر کوئی اپنے اپنے مذہبی نظریے اور قوّت ِ بازو سے پاکستان کو مذہبی فلاحی ریاست بنانے میں کوشاں ہے۔ اگر طالبان پاکستان میں مذہبی نظام نافذ کرنے کے لئے بیگناہوں کا سنگدلی کے ساتھ خون بہا رہے ہیں تو ان سے تمام تر اختلافات سے قطع نظر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ اُن کا وہ آئینی حق ہے جسے ہمارے مخصوص نظریہ ء پاکستان کے تحت بننے والے آئین نے عطا کیا ہے۔
یا د رکھئے کچھ مخصوص حلقوں کا یہ کہنا ان کی کم علمی کی دلیل ہے کہ پاکستان دنیا کی واحد نظریاتی ریاست ہے۔ دنیا کی ہر ریاست نظریاتی ریاست ہے جو عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی بقاء و استحکام کے نظریے پر قائم ہے۔ البتّہ پاکستانی ریاست ایک ایسے نظریے کے حوالے کر دی گئی ہے جس سے ریاست ، مذہب اور عوام کے لئے مشکلات کے سِوا اور کچھ بھی نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں